1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

حضرت حلیمہ سعدیہ رضی فرماتی ہیں

Discussion in 'History aur Waqiat' started by Ziaullah mangal, Dec 5, 2015.

  1. Ziaullah mangal

    Ziaullah mangal Well Wishir

    [​IMG]

    حضرت حلیمہ سعدیہ رضی فرماتی ہیں کہ میں جب مکہ معظمہ میں پہنچی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آئی تو میں نے دیکھا کہ جس کمرہ میں حضور صلی اللہ وسلم تشریف فرما تھے. وہ کمرہ سارا چمک رہا تھا. میں نے حضرت آمنہ رضی سے پوچھا کیا اس کمرہ میں بہت سے چراغ جلا رکھے ہیں. آمنہ نے جواب دیا نہیں! بلکہ یہ ساری روشنی میرے لخت جگر پیارے بچہ کے چہرے کی ہے. حلیمہ رضی فرماتی ہیں میں اندر گئی تو حضور کو دیکھا کہ آپ سیدھے لیٹے ہوۓ سو رہے ہیں. اور اپنی مبارک ننھی انگلیاں چوس رہے ہیں. میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن جمال دیکھا تو فریفتہ ہو گئی. اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میرے بال بال میں رچ گئی.پھر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سرانور مبارک کے پاس بیٹھ گئی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھا کر اپنے سینے سے لگانے کے لۓ ہاتھ بڑھایا تو حضور نے اپنی چشمان مبارک کھول دیں. اور مجھے دیکھ کر مسکرانے لگے. اللہ اکبر! میں نے دیکھا کہ اس نور بھرے منہ سے ایک ایسا نور نکلا جو آسمان تک پہنچ گیا. پھر میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھا کر اپنا دایاں دودھ آپ کے مبارک منہ میں ڈالا تو آپ نوش فرمانے لگے. بایاں دودھ مبارک منہ میں ڈالنا چاہا تو منہ پھیر لیا. اور دودھ نہ پیا. کیونکہ میرا اپنا ایک بچہ تھا. حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاف فرما کر دودھ کا یہ حصہ اپنے دودھ شریک کے لۓ رہنے دیا. میں پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر واپس چلنے لگی تو حضرت عبدالمطلب نے زاد راہ کے لۓ کچھ دینا چاہا تو میں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پا لینے کے بعد اب مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں. حلیمہ فرماتی ہیں جب میں اس نعمت عظمی کو گود میں لے کر باہر نکلی تو مجھے ہر چیز سے مبارک باد کی آوازیں آنے لگی کہ اے حلیمہ رضاعت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تجھے مبارک ہو. پھر جب میں اپنی سواری پر بیٹھی تو میری کمزور سواری میں بجلی جیسی طاقت پیدا ہو گئی کہ وہ بڑی بڑی توانا اونٹنیوں کو پیچھے چھوڑنے لگی. سب حیران رہ گۓ کہ حلیمہ کی سواری میں یک دم یہ طاقت کیسے آ گئی؟ تو سواری خود بولی میری پشت پر اولین و آخرین کے سردار سوار ہیں. انہی کی برکت سے میری کمزوری جاتی رہی اور میرا حال اچھا ہو گیا. (جامع المعجزات ص 86 )

    Rashidkareem
     
  2. naponnamja

    naponnamja Superior Member

Share This Page