1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

تہمت اُسے ایک چہرہ پہنادیا گیا تھا

Discussion in 'Library' started by Ziaullah mangal, Dec 6, 2015.

  1. Ziaullah mangal

    Ziaullah mangal Well Wishir

    [​IMG]

    شناختی کارڈ پر لگی تصویر کو گھور رہی تھیں، کیوں کہ اس وقت اس کے پاس اپنی یہی ایک تصویر تھی۔۔ فوٹو : فائل

    گندمی رنگ، گول چہرہ، مختصر سی ٹھوڑی، چھوٹی سی ستواں ناک پر جمی عینک، جس سے جھانکتی دو بے ضرر اور قابل اعتبار سی آنکھیں، جو شناختی کارڈ پر لگی تصویر کو گھور رہی تھیں، کیوں کہ اس وقت اس کے پاس اپنی یہی ایک تصویر تھی۔

    بہ غور اور بار بار دیکھنے پر بھی اسے اپنے چہرے پر رومانویت کی کوئی جھلک اور کَجی کا کوئی رُخ نظر نہ آیا۔ نظر پھسل کر ??شناختی علامت?? کے خانے پر جا ٹکی۔ ??پورے چہرے پر شرافت کی لعنت?? اس نے تصور میں ??کوئی نہیں?? کی جگہ نئی عبارت کندہ کردی، میز پر دھیرے سے مُکا مارا اور گھڑی کی طرف دیکھ کر کرسی سے اُٹھ کھڑا ہوا۔

    ??جارہے ہیں عامر بھائی!??، رفعت نے کمپیوٹر مانیٹر سے نظر ہٹاکر اسے دیکھا۔

    ??ہاں?? اس کے اندر سے نکلنے والی غراہٹ لبوں پر آکر ??میاؤں?? بن چکی تھی۔ ??منحوس! تیرے بھائی مرگئے ہیں جو مجھے بھائی کہتی ہے، سارے دفتر میں، میں ہی ملاہوں۔۔۔۔۔?? فقرہ ایک موٹی سی گالی پر ختم ہوا۔ گالی اتنی موٹی تھی کہ فقرے سمیت حلق میں پھنس گئی اور وہ کھنکھارتا ہوا دفتر کی عمارت سے باہر نکل آیا۔

    ??شمیم موٹو کو شمیم صاحب کہتی ہے۔ عارف، عظیم، سراج کا نام لیتی ہے۔ رانا جبار اور ندیم صدیقی کو سر کہتی ہے، اور مجھے بھائی۔۔۔۔۔۔۔?? اس کے دماغ میں رفعت اب تک اپنے ??بھائی?? سمیت پھنسی ہوئی تھی۔ یہ معقول صورت اور دفتر کی واحد لڑکی آج صبح تک اسے بہت اچھی لگتی تھی۔

    اگرچہ وہ شروع دن سے اُسے ??عامر بھائی?? ہی کہہ رہی تھی، لیکن عامر کو انداز تخاطب میں نیت کا کوئی ??فتور?? نظر نہیں آتا تھا، وہ اسے رسماً ہی سمجھتا تھا، کیوں کہ وہ اپنے دس رفقائے کار میں سے صرف اسی کے ساتھ دفتری معاملات سے ہٹ کر بات چیت کرتی تھی۔ ایک روز جب شہر میں کچھ لوگوں کے قتل کے خلاف لوگ بہ طور احتجاج لوگوں کی گاڑیاں جلا رہے تھے اور سڑکوں پر ہنگامہ مچا تھا، رفعت نے بڑے رسان سے کہا تھا،??عامر بھائی! پلیز مجھے گھر چھوڑ دیں گے۔?? عامر کو یوں لگا تھا جیسے وہ کہہ رہی ہو،??چُن لیا میں نے تمھیں، سارا جہاں رہنے دیا۔??

    معاملہ آج اس وقت خراب ہوا جب رفعت نے باس کے سامنے عامر کی شرافت کا قصیدہ پڑھ دیا۔ اس وقت کمرے میں وہ تینوں ہی موجود تھے۔ باس نے یوں ہی گزرتے ہوئے رفعت سے پوچھ لیا،??کوئی شکایت تو نہیں۔??

    ??کوئی خاص نہیں سر، بس مردوں کے درمیان ایک تنہا لڑکی کو کچھ مسائل کا سامنا تو کرنا ہی پڑتا ہے۔??

    باس نے مسکرا کر عامر کی طرف دیکھا:??کیوں عامر صاحب! کیا کہہ رہی ہیں۔??

    ??ارے نہیں، عامر بھائی تو بہت شریف انسان ہیں، میں ان کی بات نہیں کررہی۔??

    ایک نازک سا ہاتھ عامر کی مردانگی کا چہرہ سُرخ کرگیا اور رفعت، رفعت کھوکر پستی میں جاگری۔ کچھ دیر بعد وہ اپنا شناختی کارڈ تھامے اپنے چہرے پر برستی شرافت پر لعنت بھیج رہا تھا۔

    یہ کوئی آج کی بات نہیں، شرافت کی تہمت اس کے ساتھ بچپن سے چِپکی چلی آرہی تھی۔ جہاں تک اسے یاد تھا ??شریف?? کی گالی پہلی بار اسے آٹھ نو سال کی عمر میں پڑی تھی۔
     

Share This Page