1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. آئی ٹی استاد عید آفر
    Dismiss Notice

دو نوجوانوں کا قصہ


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'Library' started by Ziaullah mangal, Dec 6, 2015.

Library"/>Dec 6, 2015"/>

Share This Page

  1. Ziaullah mangal
    Offline

    Ziaullah mangal Well Wishir
    • 18/8

    [​IMG]

    دو نوجوانوں کا قصہ

    یہ دو ایسے نوجوانوں کا قصہ ہے جو مدینہ منورہ سے ترکی سیر سپاٹے کیلئے گئے۔ ان کا مقصد اپنے جیسے دوسرے نوجوانوں کی طرح شراب و شباب کے مزے لینا اور مستیاں کرنا تھیں۔ استنبول پہنچتے ہی نادیدوں کی طرح انہوں نے سب سے پہلے کچھ کھانے پینے کی اشیاء کے علاوہ شراب کی بوتلیں خریدیں اور ٹیکسی سے ہوٹل کی طرف روانہ ہوئے۔

    انہوں نے جان بوجھ کر شہر کے مضافات میں ایک ایسا ہوٹل پسند کیا جہاں انہیں کوئی جاننے پہچاننے والا نہ دیکھ سکے۔ لیکن کاؤنٹر پر رجسٹریشن کراتے ہوئے کلرک کو جیسے ہی پتہ چلا کہ یہ دونوں مدینہ شریف سے آئے ہیں تو اس نے عام کمرے کے ریٹ میں ان کو ایک سوئٹ کھلوا کر دیدیا۔ اہل مدینہ چل کر اس کے ہوٹل میں آ گئے ہیں اس کی خوشی دیدنی تھی۔

    دونوں کمرے میں پہنچے اور بس بوتلیں کھول کر غٹاغٹ پینے لگ گئے۔ ایک تو بہت جلد نشے میں دھت ہو کر نیند کی وادی میں پہنچ گیا، جبکہ دوسرا نیم مدہوشی کی حالت میں باقی کی بوتلوں کو کل کیلئے چھوڑ کر سو گیا۔ ان کو سوئے ہوئے ابھی کچھ ہی دیر گزری ہوگی کہ کسی نے دروازے پر دستک دی۔ صبح کے ساڑھے چار بجے تھے، ایک نے غنودگی میں اُٹھ کر دروازہ کھولا تو سامنے کاؤنٹر کلرک کھڑا تھا۔ کہنے لگا کہ "ہمارے امام مسجد نے یہ جان کر کہ ہوٹل میں مدینہ شریف سے دو آدمی آ کر ٹھہرے ہوئے ہیں، یہ کہہ کر نماز پڑھانے سے انکار کر دیا ہے کہ وہ ایسی بے ادبی ہرگز نہیں کر سکتے، کہ آپ کے ہوتے ہوئے وہ جماعت کروائیں، لہٰذا ہم لوگ آپ کا مسجد میں انتظار کر رہے ہیں، آپ جلدی سے تیار ہو کر نیچے مسجد میں آ جائیں۔۔۔!"

    اُس جوان کو یہ بات سن کر حیرت کا شدید جھٹکا لگا، اُس نے جلدی سے اپنے دوسرے ساتھی کو جگا کر بتایا کہ "صورتحال ایسی ہو گئی ہے۔ کیا تجھے کچھ قرآن شریف یاد ہے۔۔۔؟"

    دوسرے ساتھی نے کہا "ہاں گزارے لائق قرآن شریف تو یاد ہے مگر لوگوں کی امامت کراؤں، ایسا نہ سوچا ہے اور نہ ہی کراؤں گا۔۔۔!"

    دونوں سر جوڑ کر بیٹھ گئے اور لگے سوچنے کہ اس گلے آن پڑی مصیبت سے کیسے جان چھڑائیں۔

    اس اثناء میں ایک بار پھر دورازہ کھٹکا، کاؤنٹر کلرک کہہ رہا تھا "بھائیو! جلدی کرو ہم لوگ مسجد میں آپ کے منتظر ہیں، کہیں نماز میں دیر نہ ہو جائے۔۔۔۔!"

    ایک کے بعد دوسرے نے بھاگ کر غسل کیا، جلدی سے تیار ہو کر نیچے مسجد میں پہنچے، کیا دیکھتے ہیں کہ مسجد نمازیوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی ہے۔ ایسا لگتا تھا نمازِ فجر کیلئے نہیں بلکہ لوگ مدینہ شریف کے شہزادوں کی اقتداء میں جمعہ کی نماز کیلئے اہتمام سے بیٹھے ہوں۔

    اُن میں سے ایک جوان کہتا ہے، میں مصلائے امامت پر کھڑا ہوا، "اللہ اکبر" کہہ کر لڑکھڑاتی زبان سے الحَمْدُ للهِ رَبِّ العَالَمِين پڑھانا شروع کی۔ نمازیوں میں سے کسی کی اِس تصور سے کہ مدینے کا مکین، دیارِ حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے آیا ہوا اور مسجد رسول کا ہمسایہ انہیں نماز پڑھا رہا ہے اُسکی فرطِ جذبات سے سسکاری نکل گئی۔ پھر کیا تھا کئیوں کے ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے، وہ جوان کہتا ہے نمازیوں کے رونے سے میری ندامت کیا بڑھی کہ میں بھی رو پڑا۔ سورۃ الفاتحہ کے بعد میں نے پڑھی تو محض سورۃ الاخلاص تھی، مگر اپنے پورے اخلاص کے ساتھ۔

    نماز ختم ہوئی تو نمازی میرے ساتھ مصافحہ کرنے کیلئے اُمڈ پڑے اور کئی ایک تو فرطِ محبت سے مجھے گلے بھی لگا رہے تھے۔ میں سر جھکائے کھڑا اپنا محاسبہ کر رہا تھا۔ اللہ نے مجھ پر اپنا کرم کیا اور یہ حادثہ میری ہدایت کا سبب بن گیا۔
     

Share This Page