1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

اب کے سفر ہی اور تھا

Discussion in 'Amjad Islam Amjad' started by Ziaullah mangal, Dec 9, 2015.

  1. Ziaullah mangal

    Ziaullah mangal Well Wishir

    اب کے سفر ہی اور تھا

    اب کے سفر ہی اور تھا? اور ہی کچھ سراب تھے
    دشتِ طلب میں جا بجا? سنگِ گرانِ خواب تھے

    حشر کے دن کا غلغلہ? شہر کے بام و دَر میں تھا
    نگلے ہوئے سوال تھے? اُگلے ہوئے جواب تھے

    اب کے برس بہار کی? رُت بھی تھی اِنتظار کی
    لہجوں میں سیلِ درد تھا? آنکھوں میں اضطراب تھے

    خوابوں کے چاند ڈھل گئے تاروں کے دم نکل گئے
    پھولوں کے ہاتھ جل گئے? کیسے یہ آفتاب تھے

    سیل کی رہگزر ہوئے? ہونٹ نہ پھر بھی تر ہوئے
    کیسی عجیب پیاس تھی? کیسے عجب سحاب تھے

    عمر اسی تضاد میں? رزقِ غبار ہو گئی
    جسم تھا اور عذاب تھے? آنکھیں تھیں اور خواب تھے

    صبح ہوئی تو شہر کے? شور میں یوں بِکھر گئے
    جیسے وہ آدمی نہ تھے? نقش و نگارِ آب تھے

    آنکھوں میں خون بھر گئے? رستوں میں ہی بِکھر گئے
    آنے سے قبل مر گئے? ایسے بھی انقلاب تھے

    ساتھ وہ ایک رات کا? چشم زدن کی بات تھا
    پھر نہ وہ التفات تھا? پھر نہ وہ اجتناب تھے

    ربط کی بات اور ہے? ضبط کی بات اور ہے
    یہ جو فشارِ خاک ہے? اِس میں کبھی گلاب تھے

    اَبر برس کے کھُل گئے? جی کے غبار دُھل گئے
    آنکھ میںرُونما ہوئے? شہر جو زیرِ آب تھے

    درد کی رہگزار میں? چلتے تو کِس خمار میں
    چشم کہ بے نگاہ تھی? ہونٹ کہ بے خطاب تھے​

     
  2. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management


    بہت ہی عمدہ
    بہت ہی مزیدار
    مزید اچھی شیرینگ کا انتیظار رھے گا ۔
     

Share This Page