1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

نظارہ سوز ہے یاں تک


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'Mirza Ghalib' started by Ziaullah mangal, Dec 9, 2015.

Mirza Ghalib"/>Dec 9, 2015"/>

Share This Page

  1. Ziaullah mangal
    Offline

    Ziaullah mangal Newbi
    • 18/8


    نظارہ سوز ہے یاں تک

    سلام اسے کہ اگر بادشا کہیں اُس کو
    تو پھر کہیں کہ کچھ اِس سے سوا کہیں اُس کو

    نہ بادشاہ نہ سلطاں، یہ کیا ستائش ہے؟
    کہو کہ خامسِ آلِ عبا کہیں اُس کو

    خدا کی راہ میں شاہی و خسروی کیسی؟
    کہو کہ رہبرِ راہِ خدا کہیں اُس کو

    خدا کا بندہ، خداوندگار بندوں کا
    اگر کہیں نہ خداوند، کیا کہیں اُس کو؟

    فروغِ جوہرِ ایماں، حسین ابنِ علی
    کہ شمعِ انجمنِ کبریا کہیں اُس کو

    کفیلِ بخششِ اُمّت ہے، بن نہیں پڑتی
    اگر نہ شافعِ روزِ جزا کہیں اُس کو

    مسیح جس سے کرے اخذِ فیضِ جاں بخشی
    ستم ہے کُشتۂ تیغِ جفا کہیں اُس کو

    وہ جس کے ماتمیوں پر ہے سلسبیل سبیل
    شہیدِ تشنہ لبِ کربلا کہیں اُس کو

    عدو کے سمعِ رضا میں جگہ نہ پاۓ وہ بات
    کہ جنّ و انس و ملَک سب بجا کہیں اُس کو

    بہت ہے پایۂ گردِ رہِ حسین بلند
    بہ قدرِ فہم ہے اگر کیمیا کہیں اُس کو

    نظارہ سوز ہے یاں تک ہر ایک ذرّۂ خاک
    کہ ایک جوہرِ تیغِ قضا کہیں اُس کو

    ہمارے درد کی یا رب کہیں دوا نہ ملے
    اگر نہ درد کی اپنے دوا کہیں اُس کو

    ہمارا منہ ہے کہ دَیں اس کے حُسنِ صبر کی داد؟
    مگر نبی و علی مرحبا کہیں اُس کو

    زمامِ ناقہ کف اُس کے میں ہے کہ اہلِ یقیں
    پس از حسینِ علی پیشوا کہیں اُس کو

    وہ ریگِ تفتۂ وادی پہ گام فرسا ہے
    کہ طالبانِ خدا رہنما کہیں اُس کو

    امامِ وقت کی یہ قدر ہے کہ اہلِ عناد
    پیادہ لے چلیں اور نا سزا کہیں اُس کو

    یہ اجتہاد عجب ہے کہ ایک دشمنِ دیں
    علی سے آ کے لڑے اور خطا کہیں اُس کو

    یزید کو تو نہ تھا اجتہاد کا پایہ
    بُرا نہ مانیۓ گر ہم بُرا کہیں اُس کو

    علی کے بعد حسن، اور حسن کے بعد حسین
    کرے جو ان سے بُرائی، بھلا کہیں اُس کو؟

    نبی کا ہو نہ جسے اعتقاد، کافر ہے
    رکھے امام سے جو بغض، کیا کہیں اُس کو؟

    بھرا ہے غالبِ دل خستہ کے کلام میں درد
    غلط نہیں ہے کہ خونیں نوا کہیں اُس کو
     
  2. Aqibimtiaz786
    Offline

    Aqibimtiaz786 mr.anjaan
    • 28/33

    Bht Khoooob Share Krne Ka Shukriya.........
     
  3. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 63/65


    ●▬▬▬▬▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬ ▬▬▬▬●
    بہت ہی زبردست
    بہت اچھا لگا اپ کا تھریڈ پڑھ کر
    اپ کابے حد شکریہ
    ●▬▬▬▬▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬ ▬▬▬▬●
     

Share This Page