1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

جب بہار آئی تو صحرا کی طرف چل نکلا

Discussion in 'Design Poetry sharing by normal member' started by nizamuddin, Dec 15, 2015.

  1. nizamuddin

    nizamuddin Regular Member

    جب بہار آئی تو صحرا کی طرف چل نکلا
    صحنِ گل چھوڑ گیا، دل مرا پاگل نکلا
    جب اُسے ڈھونڈنے نکلے تو نشاں تک نہ ملا
    دل میں موجود رہا، آنکھ سے اوجھل نکلا
    اک ملاقات تھی جو دل کو سدا یاد رہی
    ہم جسے عمر سمجھتے تھے، وہ اک پل نکلا
    وہ جو افسانۂ غم سن کے ہنسا کرتے تھے
    اتنے روئے ہیں کہ سب آنکھ کا کاجل نکلا
    ہم سکون ڈھونڈنے نکلے تھے پریشان رہے
    شہر تو شہر ہے، جنگل بھی نہ جنگل نکلا
    کون ایوب پریشان نہیں تاریکی میں
    چاند افلاک پہ، دل سینے میں بے کل نکلا
    (ٓایوب رومانی)
    [​IMG]
     

Share This Page