1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice

اُستاذ کے حقوق

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, Dec 27, 2015.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Designer

    Joined:
    Apr 15, 2015
    Messages:
    2,569
    Likes Received:
    285

    [​IMG]

    اُستاذ کے حقوق

    اُستاد روحانی باپ ہوتا ہے۔ اِس لئے اُس کی تعظیم بھی باپ کی طرح بلکہ اُس سے زیادہ کرنی چاہئے۔ سکندر ذوالقرنین سے پوچھا گیا کہ تو کس واسطے باپ کی نسبت اُستاد کی تعظیم زیادہ کرتاہے۔ اُس نے جواب دیا۔ کہ ??میرے باپ نے مجھے آسمان سے زمین پر اُتارا۔ مگر میرا اُستاد مجھے زمین سے آسمان پر پہنچاتا ہے??۔ سکندر کا یہ جواب نہایت عمدہ اور آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے۔ کہ روح عالمِ ملکوت سے عالمِ کون و فساد میں اُس وقت آتی ہے۔ جب کہ ماں کے پیٹ میں ہمارے بدن سے اُس کا تعلق پیدا ہوتا ہے۔ چونکہ بدن کے حدوث کا باعث والدین ہی ہیں۔ اِس لئے والدین ہمیں گویا آسمان سے زمین پر لاتے ہیں۔ مگر اُستاد اِس کے برعکس ہمیں زمین سے آسمان پر پہنچا دیتا ہے۔ کیونکہ وہ علوم و معارف کے ساتھ ہماری روح کی تکمیل کرتا ہے۔ جس سے وہ عالم فنا سے عالمِ بقا میں پہنچ جاتی ہے۔ شاگرد کو چاہئے۔ کہ استاد کے سامنے ادب سے رہے۔ اُس کے آگے ننگے سر نہ بیٹھے۔ جب وہ خفا ہو، تو زیادہ کلام نہ کرے۔ اُس کی جگہ پر نہ بیٹھے۔ ہمیشہ اُس کی نسبت حسنِ اعتقاد رکھے۔ پیر کامل سے وہی مرید فیض اُٹھاتا ہے۔ جو حسن عقیدت رکھتا ہو۔ جو اپنے اُستاد کو اذیّت دے گا۔ وہ علم کی برکت سے محروم رہے گا۔ جو شخص یہ چاہے، کہ اُس کا بیٹا عالمِ ہو۔ اُسے چاہئے۔ کہ عالمِوں کی تعظیم و تواضع کرے۔
    امام فخر الدین ارسابندی جو مرو میں رئیس الائمّہ تھے۔ اُن کا یہ پایہ تھاکہ پادشاہِ وقت بھی اُن کا احترام کرتا تھا۔ امامِ موصوف فرمایا کرتے تھے۔ کہ مجھے یہ منصب اِس لئے ملا ہے۔ کہ میں اپنے اُستاذ ابو یزید دَبُوسی کی خدمت کیا کرتا تھا۔ اُن کا کھانا پکایا کرتا تھا۔ اور آپ اُس میں سے کچھ نہ کھایا کرتا تھا۔ امام شمس الائمہ حلوانی کو کسی حادثے کے سبب بخارا چھوڑ کر ایک گاؤں میں چند روز رہنا پڑا۔ اُن کے تمام شاگرد
    اُس گاؤں میں زیارت کو آئے مگر ایک شاگرد امام ابو بکر زرنجی نہ آیا۔ بعد میں جب وہ شمس الائمہ سے ملا، تو آپ نے نہ آنے کا سبب پوچھا۔ اُس نے عرض کی۔ کہ میں اپنی والدہ کی خدمت میں مشغول تھا۔ فرمایا کہ تیری عمر میں برکت ہوگی۔ مگر تدریس کی نعمت سے تو محروم رہیگا۔ جیسا اُستاذ بزرگوار نے فرمایا تھا۔ ویسا ہی ظہور میں آیا۔ کیونکہ اُس بیچارے کو اکثر گاؤں میں رہنا پڑا۔ جہاں تعلیم کیلئے کوئی طالب علم نہ ملا۔ کہتے ہیں، کہ ہارون رشید خلیفہ بغداد نے اپنے بیٹے کو امام اِصمعی کے پاس تعلیم کیلئے بھیجا۔ ایک روز خلیفہ نے دیکھا، کہ اصمعی وضو کر رہا ہے، اورشاہزادہ پاؤں پر پانی ڈال رہا ہے۔ خلیفہ نے اصمعی پر خفا ہو کر کہا۔ میں نے اپنا بیٹا اِس واسطے بھیجا ہے۔ کہ تو اُسے علم و ادب سکھائے۔ تو نے کس لئے اُسے حکم نہیں دیا۔ کہ ایک ہاتھ سے پانی ڈالے اور دوسرے سے پاؤں دھوئے؟
    عزیزو! استاذ کا حق کبھی نہ بھولو۔ اگر کسی کے دل میں اُستاد کی محبت و وقعت نہیں۔ تو یقین جانو، کہ اُسے بجز حرمان کچھ نصیب نہیں، جو خادم ہوتا ہے۔ وہ ایک روز مخدوم بن جاتا ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے۔ ??حرمتِ اُستاد سیرتِ اوتاد ہے??۔
    [​IMG]
     
    #1
  2. Ab Ghafar Jamari

    Joined:
    Dec 9, 2015
    Messages:
    645
    Likes Received:
    3
    jazak Allah
     
    #2
  3. Ab Ghafar Jamari

    Joined:
    Dec 9, 2015
    Messages:
    645
    Likes Received:
    3
    jazak Allah
     
    #3

Share This Page