1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

توکّل

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, Dec 27, 2015.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management


    [​IMG]

    توکّل

    جب تمہیں کوئی امتحان دینا ہوتا ہے۔ تو تم بڑی محنت کیا کرتے ہو۔ یہ عادت تم میں بہت اچھی ہے۔ مگر اتنا یاد رکھو۔ کہ تمہاری کوشش کا ثمرہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ اِس واسطے اپنی محنت کے نتیجے کو خدا پر چھوڑ دیا کرو۔ اِسی کا نام توکل ہے۔ جو شخص توکل کرتا ہے۔ عنایت ایزدی سے اُس کے تمام کام دلخواہ انجام پاتے ہیں۔ مگر جو فقط اپنی محنت پر اعتماد کرتا ہے، وہ ناکامیاب رہتا ہے۔
    دنیا عالمِ اسباب ہے۔ خدا کی ہم پر بڑی عنایت ہے۔ کہ اُس نے ہر امر کے اسباب پیدا کردئے ہیں، جس امر کو ہم حاصل کرنا چاہیں۔ اُس کے اسباب کو مہیا کرنا ہمارا فرض ہے۔ یہ ایک غلط خیال ہے۔ کہ کسب اور توکّل میں منافات ہے۔ کسب کا تعلق اعضائے ظاہری سے ہے۔ مگر توکل کا تعلق دل سے ہے۔ اِس لئے ہاتھ پاؤں
    سے کوشش کرو اور دل سے خدا کی عنایت پراعتماد کرو۔ کہ وہ تمہاری کوشش پراثرِ مقصود مترتب کرے۔ تم دیکھتے ہو، کہ پرندے صبح کو جب بھوکے ہوتے ہیں۔ تو گھونسلوں ہی میں نہیں پڑے رہتے۔ بلکہ دانے کی تلاش میں دُور دُور نکل جاتے ہیں۔ اور شام کو خدا کے فضل سے پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں۔ اگر ہم تمام کام چھوڑ کر گھر میں بیٹھے رہیں۔ اور یہ توقع رکھیں کہ ہمارے منہ میں غیب سے لقمہ آپڑے گا۔ تو یہ توکل نہیں، بلکہ کمال نادانی ہے۔
    صبر
    خدا نے ہم پر بے شمار عنایتیں کی ہیں۔ اگر اُس کی طرف سے کوئی مصیبت وبلا آئے۔ تو مناسب نہیں کہ اُس کا شکوہ کریں۔ یا بیقراری ظاہر کریں۔ اِسی کا نام صبر ہے۔ صبر کرنے والوں کو خدا بڑا اجر دے گا۔
    عزیزو! ہم دنیا دار بلا کی کیا حقیقت جانیں؟ عاشقانِ الہٰی سے پوچھنا چاہئے۔ وہ تو بلا میں خوش رہتے ہیں۔ اور اُسے خدا کا لطف خفی جانتے ہیں۔ کسی نے حضرت جُنید بغدادی سے دریافت کیا کہ آپ ایسی دوڑ دھوپ میں کیوں رہتے ہیں؟ فرمایا کہ جب میں خدا سے بلا طلب کرتا ہوں۔ تو وہاں سے جواب ملتا ہے کہ ابھی تو ہماری بلا کے قابل نہیں ہے۔ حضرت شیخ محی الدین ابن عربی نے تو عذاب کا مادہ ہی عذوبت بیان کیا ہے۔ حقیقت میں اِن لوگوں کو عذاب میں عَجب حلاوت نصیب ہوتی ہے۔ بلکہ بعض اسرار تو ایسے ہیں، کہ اُن کا اِنکشاف بلا ہی کی حالت میں ہوتا ہے۔ بہر حال اُس منعم حقیقی کی طرف سے جو کچھ ہم پر نازل ہو۔ اُسے برا نہ کہنا چاہئے، بلکہ سرِ تسلیم خم کردینا چاہئے۔
    [​IMG]
     

Share This Page