1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice

ایمان کی مٹھاس ضرور محسوس ہوگی

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, Dec 27, 2015.

Share This Page

  1. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 83/98


    [​IMG]
    ایمان کی مٹھاس ضرور محسوس ہوگی


    :انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا

    "اگر کسی شخص میں یہ تین خصوصیات پائی جاتی ہوں تو اس کو ایمان کی مٹھاس ضرور محسوس ہوگی:
    1. اللہ اور اس کا رسولؐ سب سے زیادہ عزیز ہوں،
    2. جب وہ کسی سے محبت کرے تو صرف اور صرف اللہ کی خاطر،
    3. وہ ایمان کے چھوٹ جانے اور کفر کی طرف پلٹنے سے ایسی ہی نفرت کرتا ہو جیسے جلتی آگ میں گرنے سے نفرت کرتا ہے۔"
    سب سے عظیم اور نفیس محبت جو ہم اپنے دلوں میں سمو سکتے ہیں وہ اللہ سبحانہ او تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہے۔ یہ محبت بجائے خود اللہ سبحانہ و تعالی کی نہایت اعلی نعمت ہے جس پر ہمیں مسلسل اس کا حمد اور شکر ادا کرنا چاہیئے۔ اللہ کاشکر صرف الفاظ ہی نہیں بلکہ اعمال صالحہ کی بار بار کوششوں سے ظاہر ہونا چاہیے۔ ایسا تب ہی ممکن ہے جب ہم ہر قدم پراللہ کی بندگی کی لگن خود میں جگائے رکھیں۔
    اللہ اور اس کے رسول سے متعلق ان ممتاز جذبات کی نمو اور پرورش نہایت ضروری ہےکہ شیطان تاک میں رہتا ہے کب انسان کو نسیان میں ڈال دے۔اس مضمون میں ہم چند نکات پر بات کریں گےجو اس سلسلے میں مددگار ثابت ہوں گے۔انشاء اللہ تعالی۔
    اللہ کی نعمتوں کو تو ذرا گنیں؛

    بے شک یہ بات تو طے ہے کہ اللہ کی نعمتیں کسی شمار میں نہیں سما سکتیں۔مگراس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ شکرگزاری کے جذبے کے تحت ان پر نگاہ ہی نہ دوڑائی جائے۔سب سے پہلی نعمت تو ہماری زندگی کی ہے۔ ہماری صحت،شکل و صورت، خاندان،دوست احباب،عزیزرشتہ داریہ سب وہ نعمتیں ہیں جن کو ہم اپنا حق سمجھتے ہوئے کبھی شکر کی گنتی میں نہیں لاتے۔اور ان تمام نعمتوں میں سب سے اہم تو ایمان اور نیک اعمال کی توفیق ہے۔زندگی،صحت،اعزا واقرباء تو بہت سوں کے پاس ہے مگر ان میں سے کتنوں کو اللہ نے ایمان کی نعمت سے نوازا ہےاور کتنوں کو راہ راست کی سمجھ عطا کی ہے؟ہمیں اس بات کا ادراک کرنا چاہیےکہ دنیا میں بسنے والے چھ ارب لوگوں میں سےاللہ نےہمیں اسلام کے لیےچن کرکتنا بڑاکرم کیا ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ اس بےشمار انسانوں کے سمندر میں سے ہم کو خاص کرکے نماز،روزے اور نیک اعمال والی زندگی بھی دےدی۔
    جان دی ،دی ہوئی اسی کی تھی
    حق تو یہ ہےکہ حق ادا نہ ہوا
    کتنے ہیں جو اس ہدایت اور نیکی سےبے بہرہ ہیں۔ہم میں سے جونماز کے پابند ہیں،جان لیں کہ یہ بھی دراصل اسی رب کی ایک اور مہربانی ہے۔تقوی حاصل کرنے کی تڑپ بھی اُسی کی عطاہے۔اپنا کوئی کمال نہیں۔دلوں میں اس کی چاہ اور اس کے پیارے نبی صلی اللہ وسلم کی عقیدت اگراُسی کا انعام نہیں تو اور کیا ہے؟
    اللہ کے رسولﷺ سے دلی محبت بڑھانے کیلئے خود کویاد دہانی کراتے رہنا چاہیے کہ آپﷺ نے اللہ کے پیغام کوہم تک پوری جانفشانی سے پہنچایا۔
    ذراایک لمحے کو رک کر اسی بات سے اندازہ کریں کہ ہمارے معزز اساتذہ،ہمارے علماء،مخلص داعی جو ہمیں اللہ کا دین سکھاتے ہیں،اسی ایک وجہ سے وہ ہمیں کس قدر بےحد و حساب محبوب ہوجاتے ہیں۔اپنے محسنوں سے کون محبت نہیں کرتا؟...۔اللہ کی توحید کی پہچان کروانے والے محمدﷺ سے محبت کی گہرائیوں کا تو اندازہ ہی نہیں۔اللہ کے رسولﷺ نے اس دین کوہم تک پہنچانے کیلئے بہت اذیتیں اور نفرتیں جھیلیں۔دن کو جا جاکر بےحد صبراور حلم سے ایک اللہ کی بندگی کی دعوت دیتے اور راتوں کواُٹھ کر لمبے قیام و سجود میں اللہ کے سامنے گڑگڑا کر دعائیں مانگتے۔
    ہمیں اور ہماری نسلوں کو اس محبت کاحقیقی طور پر احساس تب تک نہیں ہوسکتا جب تک ہم ان کی سیرت کامطالعہ اپنی زندگیوں کا حصہ نہ بنا لیں۔تب ہم کو اندازہ ہوگا کہ محض تعارف پہ جو دل اتنا مرعوب ہے یہ تو صرف آغازتھا۔جوں جوں سیرت مبارکہ ،اسوۃ حسنہ،پیغمبرانہ اخلاق اور کردار سے آشنائی بڑھتی جائے گی،یہ محبت اور عقیدت دلوں سے نکل کر جسم و جان پر راج کرنے لگے گی۔ اور خدا کے محبوب سے انتا جو پیار ہوگا تو کیا خدا کا پیار مزید نہ بڑھےگا؟..اللہ سے توفیق کی التجا ہے،آمین یا رب۔
    خدا نے کیسا پیارا اور عظیم نبی ہم کو دیا،جس کا کردار اور اخلاق دنیا میں سب سے بڑھ کر، جس کی بہادری بے مثال اور جس کا صبر بے پایاں۔جس نے راہ حق میں قربانیاں بھی بہت عظیم دیں۔نہ صرف یہ بلکہ تمام مصائب کے باوجود سب سے ذیادہ مسکرانے والا مبارک چہرہ۔آگے بڑھ بڑھ کردوسروں پر مہربانیاں اور شفقت کرنے والا، کسی فکرمند باپ کی مانند ایک ایک کی خبرگیری کرنے والا نبی۔صلی اللہ علیہ وسلم۔آپ کے تمام اسوہ حسنہ کا بیان یہاں ممکن نہیں مگر جو بھی انصاف اور ضمیر رکھنے والا انسان ہوگا وہ ایسے اچھے انسان سے محبت کیے بنا نہ رہ سکے گا۔
    خدا کی محبت میں بڑھنے کا ایک اور ذریعہ خدا کی ذات و صفات پر غور و فکر ہے۔اس کی قدرت کیا ہی زبردست غالب ہے اور صناعی کیا ہی خوبصورت ۔اس کی مہربانیاں ہیں کہ ختم ہونے میں ہی نہیں آتیں۔اس کا ہم پر رحم بیان سے باہر ہے۔خود پر نگاہ کریں تو کوتاہیاں اور نافرمانیاں ،نہ خدا کی وہ قدر دل میں جس کا وہ حقدار تھا۔مگر پھر بھی وہ ہم کو معاف کردیتا ہے۔اور ہمیں ہماری لغزشوں پر سزا نہیں دیتا۔بلکہ لگاتار مواقع دیے چلاجاتا ہے کہ ہم اس کے بندے کب تائب ہو کر پلٹ آتے ہیں۔ بے شک اللہ ان سے محبت کرتا ہے جو توبہ کرنے والے اور خود کو پاک صاف رکھنے والے ہوتے ہیں۔

    ہم کو بار بار معاف کرنے والے رب کو ہماری حاجت نہیں،وہ زبردست غالب اللہ ہمارے لیے اپنی محبت یوں بیان فرماتا ہے: {مفہوم} "میں ویسا ہوں جیسا میرا بندہ میرے بارے میں گمان کرتا ہے۔میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ مجھے یاد کرتاہے۔وہ میرے بارے میں سوچتا ہے،میں اس کو اپنی سوچ میں یاد کرتا ہوں،وہ لوگوں میں میرا ذکرکرتا ہے میں اس سے برگزیدہ تر محفل میں اس کا تذکرہ کرتا ہوں۔وہ ایک بالشت میری طرف آتا ہے میں ایک بازو اس کے قریب آتا ہوں۔وہ ایک بازو میرے قریب آتا ہے میں دو بازووں برابر اس کے قریب آتا ہوں۔اگر وہ میری جانب چل کے آتا ہے میں دوڑ کر اس کی طرف آتا ہوں۔"[صحیح بخاری۶۳۰۸۔صحیح مسلم۲۷۴۴]
    اللہ سبحانہ و تعالی ہم کو توفیق سے نوازے کہ ہم اس کی وہ قدر جانیں جس کا وہ حقدار ہے آمین۔
    __________________
    [​IMG]
     
  2. Ab Ghafar Jamari
    Offline

    Ab Ghafar Jamari Champ
    • 18/8

  3. muzafar ali
    Offline

    muzafar ali Legend
    • 28/33

Share This Page