1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

لاالٰہ الا اللہ

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, Dec 27, 2015.

Share This Page

  1. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 83/98


    [​IMG]

    لاالٰہ الا اللہ

    وہ بہترین الفاظ جو کائنات میں کبھی بھی کہے گئے یا کبھی بھی کہے جا سکیں، یہ ہیں کہ:
    ?نہیں کوئی عبادت کے لائق، مگر اللہ?..
    یعنی.. ?لا الٰہ الا اللہ?....!!!
    صاحبو! اِس لا الٰہ الا اللہ سے بہتر کوئی کلمہ نہیں۔ اس سے اعلیٰ تر کوئی دعوت نہیں۔ اس سے افضل کوئی ذکر نہیں۔ اس سے بہتر کوئی دعاءنہیں۔ اِس سے کارگر کوئی وسیلہ نہیں۔ اس سے حسین تر کوئی حقیقت نہیں۔ اس سے بڑھ کر انسان کے پاس کوئی دولت پائی ہی نہیں جا سکتی۔ اس سے بیش قیمت کوئی اثاثہ اِس جہان میں کبھی دیکھا ہی نہ گیا ہو گا۔
    یہاں سے رخصت ہوتے دم، ساتھ اٹھانے کیلئے اس سے بہتر کوئی اسباب نہیں۔ یہاں سے تیار کئے جانے والے سامان میں اِس سے نفیس تر کوئی سوغات پائی گئی ہے اور نہ اس سے بڑھ کر آخرت میں مول پانے والی کوئی جنس۔
    مبارک ہے وہ نفس کہ روزِ قیامت اُس کا سامان کھلے تو ہر ہر گرہ سے یہی دولت ڈھیروں کے حساب سے برآمد ہو اور اُس کے چاروں طرف اِسی کی جگمگ ہو؛ اُس کے ہر ہر عمل سے اِسی لا الٰہ الا اللہ کی روشنی پھوٹے۔ یقینا اگلے جہان میں اِس کلمہ سے بڑھ کر فائدہ دینے والی اور اِس کلمہ سے بڑھ کر وزن پانے والی کوئی شے نہیں۔
    قرآن ہے تو اس کا لب لباب یہی کلمہ ہے۔
    رسول ہے تو اس کا سب سے زیادہ زور اِسی کلمہ کو منوانے اور قائم کرنے پر صرف ہوا ہے۔
    انبیاءہیں تو وہ جہان میں اِسی کی گونج اٹھا کر گئے۔
    صحابہ ہیں تو وہ اِسی لا الٰہ الا اللہ سے جنم پا کر وجود میں آئے اور اِسی کی عظمت کیلئے جئے۔
    شہداءہیں تو وہ اسی کی راہ میں مرے۔
    اولیاءہیں تو وہ اِسی کی شہادت دینے کے دم سے اولیاءہوئے۔
    صالحین ہیں تو اُن کی زندگیاں اِسی کا محور بنی رہیں۔
    اَبرار و مقربین ہیں تو وہ اِسی کی راہ میں ترقیاں کر کر کے یہ رتبۂ بلند پا جاتے رہے کہ.... ?نہیں کوئی اطاعت اور نیاز کے لائق، مگر اللہ?۔
    زمین ہے تو وہ اِسی کلمہ کی کہانی جاری رکھی جانے کیلئے اپنا فرش پیش کرتی ہے کہ ?نہیں کوئی الٰہ، مگر اللہ?.... جس دن یہ ?کہانی? یہاں ختم ہوگی، زمین کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔
    آسمان ہیں تو وہ اسی کو سایہ دے رکھنے کیلئے قائم ہیں؛ جونہی اِن کلمات کا عرش کی جانب بلند ہونا یہاں پر موقوف ہوا، آسمان سمیٹ دیے جائیں گے۔
    جہان قائم ہیں تو وہ اسی کی گونج سننے کو۔
    اَجرام اور تارے ہیں تو وہ زمین کی انہی سرگوشیوں کے دم سے فلک کی زینت ہیں؛ جس روز زمین سے اٹھنے والی یہ مانوس صدا نہ سنی جائے گی کہ ?نہیں ہرگز کوئی پرستش کے لائق، مگر خدائے مالک الملک?.. سنسار کے یہ ٹمٹماتے چراغ یکایک بجھ جائیں گے؛ تارے اُس دن بے نور ہو کر دم توڑ دیں گے، اَجرام بکھر کر ٹکراتے پھریں گے اور یہ چمکتا دمکتا چرخ سب ریزہ ریزہ ہو جائے گا۔
    غرض.... خدا کا صحیح صحیح مرتبہ اور مقام بیان کرنے والا یہ کلمہ جب تک یہاں نشر ہوتا ہے تب تلک وجود کی جان میں جان ہے اور نظامِ ہستی کو فنا سے تحفظ حاصل ہے۔
    کائنات کا مالک ہے تو وہ خود شہادت دیتا ہے اور اپنی سب مخلوق کو اِس پر گواہ ٹھہراتا ہے کہ: ?نہیں کوئی عبادت کے لائق، مگر وہ خود ہی?۔
    ملائکہ اسی شہادت کے دینے پر مامور ہیں اور ہردم اِسی حقیقت کا ورد کرتے ہیں کہ: ?نہیں کوئی بندگی کے لائق، مگر صرف عرش کا مالک?۔
    علم والی سب ہستیاں یہی شہادت دے دے کر جاتی رہیں اور یہی شہادت دینے کو جہان میں آتی رہیں کہ: ?نہیں کوئی حمد اور تعریف اور سپاس اور عبادت کے لائق، مگر ایک جہانوں کا مالک?۔
    علم، دانائی اور روشنی کا سراغ اس جہان میں جس کو بھی ملا اور ?حقیقت? کا سرا جس کے بھی ہاتھ آیا اس کی ابتدا اور انتہا پھر اسی بات پر ہوئی کہ: ?نہیں کوئی تعظیم اور کبریائی، اور سجدہ اور تقدیس، اور دعاءو فریاد، اور امید و خشیت، اور اطاعت و فرماں برداری و فرماں روائی کے لائق، مگر ایک جہانوں کا خالق?:
    شَهِدَ اللّهُ أَنَّهُ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ وَالْمَلاَئِكَةُ وَأُوْلُواْ الْعِلْمِ قَآئِمَاً بِالْقِسْطِ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ۔إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللّهِ الإِسْلاَمُ (آل عمران: 18-19)
    ?اللہ خود شہادت دیتا ہے کہ نہیں کوئی معبود مگر وہ خود ہی۔ اور فرشتے (یہی شہادت دیتے ہیں) اور علم کی مالک سب ہستیاں، نہایت عدل پہ قائم (شہادت، کہ) نہیں کوئی معبود مگر ایک وہی ذات، عزت اور اقتدار والی، حکمت اور دانائی والی۔ بے شک دین جو اللہ کے ہاں (قبول) ہے ایسا ہی اسلام ہے?۔
    حضرات! انبیاءنے یہ کلمہ یونہی تھوڑی پڑھایا تھا! یہ محض کوئی ?تلاوت? کی چیز تھوڑی ہے!!! یہ نرا ?خوش الحانی? کا میدان تھوڑی ہے!!! اِس پر تو ایک ?ملت? کی تشکیل ہوتی تھی۔ اور اس سے پہلے یہ کلمہ ایک ?ملت? کی نفی کرتا اور کراتا تھا!!! یہ کلمہ وفاداریاں بدلواتا تھا۔ دوستیوں کو دشمنیوں میں تبدیل کروا دیتا اور دشمنیوں کو دوستیوں میں۔ یہ وہ کلمہ ہے جو باپ اور بیٹے کے مابین جدائی ڈال دیتا، بھائی کو بھائی سے الگ کروا دیتا اور آدمی کو ?برادری? کا ہی سراسر ایک نیا تصور دیتا جس میں لوگ اپنے سات سات خون معاف کر دینا فخر کی بات جانتے اور اپنے باپ کا قاتل بھی ہو تو اُس کے ساتھ پیر سے پیر ملا کر خدائے واحد کی بندگی کرتے، وہ بھی کس ماحول میں؟ ?قبائل? کی دنیا میں جہاں ?قبیلہ? ہی آدمی کیلئے زمین ہوتا اور ?قبیلہ? ہی اُس کیلئے آسمان! ?کلمہ? زندگی کو بالکل ایک نیا رخ دینے کا اعلان ہوتا۔ آدمی کے جذبات، احساسات، خیالات، افکار، نظریات، ترجیحات، زندگی کے مقاصد اور اہداف، کونسی چیز ہے جو تبدیل ہوئے بغیر رہ جاتی؟! پس یہ چند لفظ تھوڑی ہیں۔ یہ تو ایک دنیا ختم کرنے کا عنوان ہے اور ایک دنیا کھڑی کر دینے کا!!! یہ جہان میں سب سے بڑی تبدیلی لائی جانے کا اعلان ہے اور سب سے بڑا انقلاب برپا کر دینے کا حجر اساس!!! صاحبو! یہ محض ?پڑھ دینے? کی چیز تو نہیں!!!!!
    اِس کلمہ پر ایمان کا کم از کم حق یہ ہے کہ انسان ہاتھ اور زبان سے کچھ نہیں کر سکتا تو بھی اُس کا قلب و ذہن تو ضرور ہی اُس باطل کو رد کرے جو خدا کے ماسوا پوجا جاتا ہے۔ اُس کا دل اور دماغ تو ضرور ہی اُن باطل ہستیوں کی نفی کرے جن کی اِس دنیا میں تعظیم اور کبریائی ہوتی ہے۔ شعور کی دنیا میں تو وہ ہر حال میں اُس شرک سے برأت کرے جو اُس کے گرد و پیش میں کیا جاتا ہے۔ قلب و ذہن سے تو وہ لازماً اُس نزاع میں شریک ہو جو دنیا کے اندر ?عبادتِ غیر اللہ? کے خلاف اٹھایا جانا ہے۔ سب سے بڑھ کر گرم ہونے اور جوش میں آنے کی بات اُس کے یہاں ہو تو یہی کہ اُس کی دنیا میں کہیں خدا کی عظمت پر حرف آیا ہے اور کسی نادان نے زمین پر آسمان والے کا شریک ٹھہرا دیا ہے۔ سب سے بڑھ کر رد کرنے کی بات اُس کے ہاں ہو تو یہی کہ خدا کے مرتبے اور مقام کو چیلنج کر دیا گیا ہے، جویہ ہے کہ پرستش، اطاعت، بندگی اور اتباعِ آئین میں کسی کو اُس کا شریک یا ہمسر ٹھہرا دیا جائے۔ یہ بات بہرحال اُس کی برداشت سے باہر ہو جائے۔ اِس کے بغیر آدمی کیسا مسلمان? ہے؟؟؟!
    [​IMG]
     
  2. Ab Ghafar Jamari
    Offline

    Ab Ghafar Jamari Champ
    • 18/8

  3. muzafar ali
    Offline

    muzafar ali Legend
    • 28/33

Share This Page