1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

من و سلوٰی

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, Jan 12, 2016.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators



    من و سلوٰی

    جب حضرت موسٰی علیہ السلام چھ لاکھ بنی اسرائیل کے افراد کے ساتھ میدان تیہ میں مقیم تھے تو اللہ تعالٰی نے ان لوگوں کے کھانے کیلئے آسمان سے دو کھانے اتارے۔ ایک کا نام ?من? اور دوسرے کا نام ?سلوٰی? تھا۔ من بالکل سفید شہد کی طرح ایک حلوہ تھا یا سفید رنگ کی شہد ہی تھی جو روزانہ آسمان سے بارش کی طرح برستی تھی اور سلوٰی پکی ہوئی بٹیریں تھیں جو دکھنی ہوا کے ساتھ آسمان سے نازل ہوا کرتی تھیں۔ اللہ تعالٰی نے بنی اسرائیل پر اپنی نعمتوں کا شمار کراتے ہوئے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ


    وانزلنا علیکم المن و السلوٰی ( پ1، البقرۃ : 57 )
    ترجمہ کنزالایمان: اور تم پر من اور سلوٰی اتارا۔


    اس من و سلوٰی کے بارے میں حضرت موسٰی علیہ السلام کا یہ حکم تھا کہ روزانہ تم لوگ اس کو کھا لیا کرو اور کل کیلئے ہرگز ہرگز اس کا ذخیرہ مت کرنا۔ مگر بعض ضعیف الاعتقاد لوگوں کو یہ ڈر لگنے لگا اگر کسی دن من و سلوٰی نہ اترا تو ہم لوگ اس بے آب و گیاہ، چٹیل میدان میں بھوکے مر جائیں گے۔ چنانچہ ان لوگوں نے کچھ چھپا کر کل کیلئے رکھ لیا تو نبی کی نافرمانی سے ایسی نحوست پھیل گئی کہ جو کچھ لوگوں نے کل کیلئے جمع کیا تھا وہ سب سڑ گیا اور آئندہ کیلئے اس کا اترنا بند ہو گیا اسی لئے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بنی اسرائیل نہ ہوتے تو نہ کھانا کبھی خراب ہوتا اور نہ گوشت سڑتا، کھانے کا خراب ہونا اور گوشت کا سڑنا اسی تاریخ سے شروع ہوا۔ ورنہ اس سے پہلے نہ کھانا بگڑتا تھا نہ گوشت سڑتا تھا۔ ( تفسیر روح البیان۔ ج1، پ1، البقرۃ: 57 )

    [​IMG]
     
  2. usama

    usama Regular Member

    ﺟﺰﺍﮎ ﺍﻟﻠﮧ
    ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎﺭﯼ ﺷﯿﺌﺮﻧﮓ ﮐﯽ ﮬﮯ
    ﺷﮑﺮﯾﮧ
     

Share This Page