1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

نام صرف اللہ اور اسکے رسولﷺکا زندہ رہے گا

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, Jan 12, 2016.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators

    نام صرف اللہ اور اسکے رسولﷺکا زندہ رہے گا


    عَنِ عبد الله ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِىِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ? اجْعَلُوا مِنْ صَلاَتِكُمْ فِى بُيُوتِكُمْ وَلاَ تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا ?.( صحيح البخاري : 432، الصلاة ? صحيح مسلم : 777، المسافرين )

    ترجمہ :حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنی نمازوں کا کچھ حصہ اپنے گھروں کے لئے کرو ،اور انہیں قبرستان نہ بناو ۔

    { صحیح بخاری و مسلم } ۔

    تشریح : گھروں کو اللہ تعالی نے ?سکن? بتلایا ہے، یعنی سکون و اطمینان کی جگہ، لیکن کسی بھی گھر کے ?مسکن ? [سکون کی جگہ ] ہونے کے لئے ضروری ہے کہ اسے معنوی و مادی دونوں طرح آباد رکھا جائے اور اس کی معنوی و مادی زینت پر توجہ دی جائے ، اور اگر اس کی صرف مادی زیبائش پر توجہ دی گئی اور معنوی زینت سے مزین نہ کیا گیا تو وہ گھر کبھی بھی سکون و اطمینان کی جگہ نہیں بن سکتا بلکہ اس کی مثال جسد بے روح کی ہوگی کہ مردہ لاش کو خواہ کتنے خوبصورت لباس پہنائے جائیں اسے اچھی سی اچھی خوشبو سے معطر کیا جائے لیکن سڑنے گلنے اور کیڑے مکوڑوں کی غذا بننے سے اسے کوئی چیز نہیں روک سکتی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اس گھر کی مثال جس میں اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے اور اس گھر کی مثال جس میں اللہ تعالی کا ذکر نہیں کیا جاتا زندہ و مردہ کی مثال ہے ۔

    { صحیح مسلم بروایت ابو موسی } ۔

    لہذا ضروری ہے کہ جہاں گھر کی ظاہری صفائی کا اہتمام کیا جائے وہیں گھر میں داخلے کے وقت بسم اللہ اور ذکر الہی کے ذریعہ شیطان کے وجود سے بھی اس کو پاک کیا جائے ، جہاں اپنے گھروں میں عطر بیزی کی جائے اور خوشبو لگائی جائے وہیں ذکر الہی اور تلاوت قرآن سے بھی اسے معطر کیا جائے ، اور جہاں گھروں کو مزین کرنے کے لئے دیواروں پر پھول پتے بنائے جائیں اور پھولوں کے گلدستے رکھے جائیں وہیں نمازوں کے گلدستوں سے بھی اسے سجایا جائے ، یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھروں میں سنت و نفل نماز پڑھنے کی خصوصی تاکید فرماتے تھے ، جیسا کہ زیر بحث حدیث میں ارشاد نبوی ہے کہ اپنی نمازوں کا کچھ حصہ یعنی فرائض سے ہٹ کر نفلی نمازیں اپنے گھر میں ادا کرو اور انہیں قبرستان نہ بنادو کہ جس طرح قبریں عبادت وعمل سے خالی ہوتی اور جس طرح مرد ے اپنے گھروں [ قبروں ] میں نماز نہیں پڑھتے ویسے تم لوگ بھی نہ بنو بلکہ اپنے گھروں میں نمازیں پڑھا کرو اور اپنی عبادت کا کچھ حصہ گھروں کو ضرور دو ۔

    ایک اور حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص اپنی [ فرض ] نماز مسجد میں ادا کرلے تو اس کو چاہئے کہ اپنی نماز میں سے کچھ حصہ اپنے گھر کے لئے بھی کرے ، اللہ تعالی اس کے گھر میں اس کی نماز کی ادائیگی سے خیر و برکت عطا فرمائے گا ۔

    { صحیح مسلم بروایت جابر }

    اہل علم کہتے ہیں کہ گھر میں نفل نماز پڑھتے کے متعدد فائدے ہیں :

    [۱] ریا ونمود سے دوری : کیونکہ جب کوئی بندہ کسی ایسی جگہ نماز پڑھ رہا ہو جہاں لوگ اسے دیکھ رہے ہوں توریا و نمائش کا شائبہ ہوسکتا ہے لیکن وہی نماز جب تنہائی یا گھر میں ادا کرے گا تو اس میں ریا کا شبہ کم از کم ہوگا اور اخلاص کے زیادہ قریب ہوگی ، اسی مفہوم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : آدمی کا اپنے گھر میں نماز پڑھنا اس جگہ کے مقابل میں جہاں لوگ اسے دیکھ رہےہوں وہ فضیلت رکھتا ہے جو فضیلت فرض نماز کو نفل پر حاصل ہے ۔

    { شعب الایمان } ۔

    [۲] خیر وبرکت کا سبب ہے ۔

    [۳] گھر میں رحمت کے فرشتے رہتے ہیں ۔

    [۴] شیطان اس گھر سے دور بھاگتا ہے ، چنانچہ امام نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ گھر میں نفل نماز کی ادائیگی سے خیر وبرکت کے حصول کا معنی یہ ہے کہ فرشتے حاضر رہتے ہیں ، شیطان دور بھاگتا ہے اور گھر میں کشادگی ہوتی ہے جیسا کہ دیگر حدیثوں سے پتا چلتا ہے ۔

    { شرح مسلم للنووی } ۔

    [۵] گھر میں نور : نماز کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نور قرار دیا ہے { صحیح مسلم } جس کی وجہ سے انسان کو اس کی خبر میں بھی نور ملے ، حشر کے میدان میں بھی نور ملے گا اور اس کا دل نور الہی سے منور رہے گا ، لہذا اگر کوئی شخص اپنے گھر میں بکثرت نماز کا اہتمام کرتا ہے تو اس کا گھر بھی اللہ تعالی کے نور سے منور رہے گا ۔ بدقسمتی سے آج یہ سنت ہمارے یہاں سے مفقود ہے ، بہت سے لوگ تو یہ غلطی کرتے ہیں کہ فرض نمازیں بھی اپنے گھروں ہی میں ادا کرلیتے ہیں جب کہ یہ امر قطعا جائز نہیں ہے بلکہ فرض نمازیں مسجدوں میں جماعت کے ساتھ پڑھنا واجب ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : جو اذان سنے اور نماز کے لئے مسجد میں نہ آئے تو اس کی نماز نہیں ہوئی الا یہ کہ کوئی عذر ہو ۔

    { سنن ابن ماجہ ، ابن حبان } ۔

    اور بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نماز کےلئے مسجد ہی بہتر اور افضل ہے خواہ فرض ہو یا نفل ، اسی لئے آپ دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ نماز کا اہتمام کرتے ہیں کہ فرض نمازوں سے قبل و بعد کے سنن ونوافل بھی ادا کرتے ہیں لیکن کبھی گھر میں نماز پڑھنے کی توفیق نہیں ہوتی حالانکہ سنن و نوافل کا گھر میں ادا کرنا مسجد حرام اور مسجدنبوی میں ادا کرنے سے بھی افضل ہے، چنانچہ عبد اللہ بن سعد نامی ایک صحابی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے ہیں کہ مسجد میں نماز پڑھنا افضل ہے یا اپنے گھر میں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ نہیں دیکھتے کہ میرا گھر مسجد سے کتنا قریب ہے ، لیکن مسجد میں نماز پڑھنے کے مقابلہ میں گھر میں نماز پڑھنا مجھے زیادہ محبوب ہے الا یہ کہ فرض نماز ہو۔

    { سنن ابن ماجہ ، مسند احمد ، صحیح ابن خزیمہ }

    لیکن یہ امر بھی واضح رہنا چاہئے کہ یہ قطعا مناسب نہیں ہے کہ گھر میں نماز کے بہانے سنن و نوافل کو چھوڑ دیا جائے ۔

    فوائد :

    ۱- فرض نمازوں کے علاوہ دیگر تمام نمازیں اپنے گھر میں ادا کرنا افضل ہے ۔

    ۲- وہ نفل نمازیں جن کے لئے جماعت مشروع ہے جیسے تراویح ، کسوف و غیرہ ان کا مسجد میں ادا کرنا بہتر ہے ۔

    ۳- فرض نمازوں کے لئے [ حسب استطاعت ] جماعت اور مسجد متعین ہے ۔

    ۴- گھر وں اور اپنی رہائش گاہوں میں نماز نہ پڑھنا گویا اسے قبرستان بنانا ہے ۔

    ۵- قبرستان نماز پڑھنے کی جگہ نہیں ہے ۔

    [​IMG]
     
  2. usama

    usama Regular Member

    Bohot pyari sharing ki ha
    Bohot shukriya share krnay ka....
     

Share This Page