1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

حبیب جالب

Discussion in 'Habib Jalib' started by nizamuddin, Jan 15, 2016.

  1. nizamuddin

    nizamuddin Regular Member


    [​IMG]
    حبیب جالب

    [/center]
    میں نہیں مانتا جیسی شہرۂ آفاق نظموں کے خالق اردو کے عظیم شاعر حبیب جالب 24 مارچ 1928 کو متحدہ ہندوستان کے ضلع ہوشیار پور کے ایک کسان گھرانے میں پیدا ہوئے۔ اینگلو عریبک ہائی اسکول دہلی سے دسویں جماعت کا امتحان پاس کیا اور 15 سال کی عمر سے ہی مشقِ سخن شروع کردی تھی۔ وہ ابتدا میں جگر مراد آبادی سے متاثر تھے اور روایتی غزلیں کہا کرتے تھے۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ کراچی آگئے اور کچھ عرصہ معروف کسان رہنما حیدر بخش جتوئی کی سندھ ہاری تحریک میں کام کیا۔ یہی وہ دور تھا جب انہوں نے معاشرتی نا انصافیوں کو انتہائی قریب سے دیکھا اور محسوس کیا اور یہی ان کی نظموں کا موضوع بن گیا۔ حبیب جالب نے 1956 میں لاہور میں رہائش اختیار کی، اس دوران انہوں نے ایوب خان اور یحیٰی خان کے دورِ آمریت میں متعدد بار قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں اور وہ بنیادی طور پر کمیونزم کے حامی تھے۔ انہیں مشہور پاکستانی فلم زرقا میں ’رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے‘ لکھنے پر شہرت حاصل ہوئی۔ حبیب جالب متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے اور ایک عام آدمی کے انداز میں سوچتے تھے، وہ پاکستان کے محنت کش طبقے کی زندگی میں تبدیلی کے آرزومند رہے اور یہی وجہ رہی کہ وہ سماج کے ہر اُس پہلو سے لڑے جس میں آمریت کا رنگ جھلکتا تھا۔ وہ اپنی انقلابی سوچ کے تحت آخری دم تک سماج کے محکوم عوام کو اعلی طبقات کے استحصال سے نجات دلانے کا کام کرتے رہے۔
    حبیب جالب نے جو دیکھا اور جو محسوس کیا، نتائج کی پرواہ کیے بغیر اس کو اپنے اشعار میں ڈھال دیا۔ انہوں نے ہر دور کے جابر اور آمر حکمران کے سامنے کلمۂ حق بیان کیا، حبیب جالب کے بے باک قلم نے ظلم، زیادتی، بے انصافی اور عدم مساوات کے حوالے سے جو لکھا وہ زبان زدِ عام ہوگیا۔ حبيب جالب کا زندگی بھر يہ الميہ رہا کہ وہ تاريکی کو روشنی اور باطل کو حق نہ کہہ سکے۔ ان کو نگار فلمی ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ اس کے علاوہ 2006ء سے ان کے نام سے حبیب جالب امن ایوارڈ کا اجراء کیا گیا ۔
    تاریخی روایات کے عین مطابق حبيب جالب درباروں سے صعوبتيں اور کچے گھروں سے چاہتيں سميٹتا 12مارچ 1993 کو 65 برس کی عمر میں اس جہان فانی سے رخصت ہوا۔ جالب کے سرکش قلم نے محکوم اور مجبور انسانوں کو ظلم کے خلاف سینہ سپر ہونے کا حوصلہ دیا، ان کا ہر شعر مظلوم کے دل کی آواز ہے۔ اُن کی نظموں کے پانچ مجموعے: برگِ آوارہ، سرمقتل، عہدِ ستم، ذکر بہتے خون کا اور گوشے میں قفس کے شائع ہوچکے ہیں۔
     
  2. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management

    ❀❀❀❀❀❀❀❀❀❀❀❀❀❀❀❀❀❀❀❀❀


    بہت ھی عمدہ شیرینگ ھے ۔
    اپ کابہت شکریہ۔ نوازش ۔

    ❀❀❀❀❀❀❀❀❀❀❀❀❀❀❀❀❀❀❀❀❀
     
  3. بھت عمدہ کوشش ہے
     
  4. usama

    usama Regular Member

    bohot achay
     
  5. Aqibimtiaz786

    Aqibimtiaz786 mr.anjaan

    Bht Khoooooob Thanks For Sharing........
     
  6. UrduLover

    UrduLover Work hard. Dream big. Staff Member

    حبیب جالب اور شہباز شریف میں کیا مماثلث ہے
    ITUstad signature
    :BKR:
    :BS:
    :Thumb up::Yes::Thumb up:
    :Nicework:
     

Share This Page