1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ No-01


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'History aur Waqiat' started by IQBAL HASSAN, Jan 15, 2016.

History aur Waqiat"/>Jan 15, 2016"/>

Share This Page

  1. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 63/65


    حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ


    ==================

    قرآن مجید میں اللہ پاک نے بہت سے مقامات پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا ہے، بض مقامات پر اختصار کے ساتھ اور بعض مقامات پر تفصیل کے ساتھ۔ اللہ پاک کا ارشاد ہے:
    " اس قرآن میں موسیٰ کا ذکر بھی کر، جو چنا ہوا رسول اور نبی تھا۔ ہم نے اسے طور کی دائیں جانب سے پکارا اور سرگوشی کرتے ہوۓ اسے اپنے قریب کر لیا اور اپنی خاص مہربانی سے اسکے بھائی ہارون کو نبی بنا کر اسے عطا فرمایا۔" (مریم، ۵۱۔۵۳)

    بنی اسرائیل سے مراد ایک قوم ہے جو اللہ کے نبی حضرت یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے اور اس زمانے میں پوری دنیا میں سب سے افضل تھے۔ اللہ پاک نے ان پر "فرعون" کو مسلط کر دیا جو کہ ایک ظالم اور بدکردار کافر تھا اس نے انہیں غلام بنا لیا اور ان سے ادنیٰ ترین پیشوں کا **** ترین کام لیتا تھا ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    "انَّ فِرعَونَ عَلَا فِی الاَرضِ" ترجمہ: " یقینا" فرعون نے زمین میں سرکشی کی تھی۔"
    فرعون بنی اسرائیل سے اس لئے برا سلوک کرتا تھا کیونکہ بنی اسرائیل اپنی الہامی کتب(صحیفوں) کی روشنی میں آپس میں حضرت ابراہیمؑ کا یہ فرمان ذکر کرتے تھے کہ آپکی اولاد میں سے ایک لڑکا پیدا ہو گا جسکے ہاتھوں مصر کی سلطنت تباہ ہو جاۓ گی اور یہ خبر پھیلتے پھیلتے فرعون تک بھی پہنچ گئی اس نے اس لڑکے کی پیدائش کے خوف سے بنی اسرائیل کے تمام لڑکوں کے قتل کا حکم جاری کر دیا لیکن تقدیر کے آگے تدبیر نہیں چلتی۔

    امام سدی رحمتہ اللہ علیہ نے کئی صحابہ کرام سے روایت کیا ہے کہ فرعون نے خواب دیکھا کہ بیت المقدس کیطرف سے آگ آئی اور مصر کے تمام قبطیوں کے گھر جلا گئی لیکن بنی اسرائیل کو کوئی نقصان نہ پہنچا جب وہ بیدار ہوا تو اس خواب سے خوفزدہ تھا۔ اس نے اپنے کاہنوں، عالموں اور جادوگروں کو جمع کیا اور ان سے اسکی تعبیر پوچھی انہوں نے کہا کہ یہ لڑکا انہی میں پیدا ہو گا اور اس کے ہاتھوں اہلِ مصر تباہ ہو جائیں گے، اسلئے اس نے بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرنے اور لڑکیوں کو زندہ چھوڑنے کا حکم جاری کر دیا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: "پھر ہم نے چاہا کہ ہم ان پر کرم فرمائیں جنہیں زمین میں بے حد کمزور کر دیا گیا تھا اور ہم انکو پیشوا اور (زمین کا) وارث بنائیں۔" (القصص،۵) یعنی آخرکار بنو اسرائیل کو مصر کی حکومت اور سرزمین مل جاۓ گی۔ اور یہ بھی فرمایا کہ " اور ہم انہیں زمیں میں قدرت و اختیار دیں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وہ (منظر) دکھائیں جس سے وہ ڈر رہے تھے۔"

    فرعون بنی اسرائیل کو ملنے والی بشارت اور اپنے خواب کیوجہ بے حد خوفزدہ ہوا لہٰذا اس نے ہر طرح کی احتیاطی تدابیر اختیار کیں تاکہ موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہی نہ ہو حتیٰ کہ اس نے مردوں اور دایہ عورتوں کو اس کام کے لئے مقرر کر دیا تھا کہ جو عورتیں امید سے ہوں ان کے پا س جائیں اور ان کے پیدائش کے اوقات کا علم رکھیں چنانچہ جب بھی کسی عورت کے ہاں بیٹا پیدا ہوتا تھا وہ جلاد اسی وقت اسے ذبح کر دیتے تھے۔
    قبطیوں نے فرعون سے شکایت کی کہ بنی اسرائیل کے لڑکے قتل کرنے کیوجہ سے انکی تعداد کم ہوتی جارہی ہے اور خطرہ ہے کہ ان کے بڑے مرتے جائیں گے اور بچے قتل ہوتے جائیں گے تو ایک وقت آۓ گا جب ہمیں وہ کام خود کرنے پڑیں گے جو بنی اسرئیل کرتے ہیں۔ تب فرعون نے حکم دیا کہ ایک سال بچے قتل کئے جائیں اور ایک سال رہنے دئیے جائیں۔ مفسرین نے بیان کیا ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام اس سال پیدا ہوۓ جس سال بچے قتل نہیں کئے جا رہے تھے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اس سال پیدا ہوۓ جس سال بچے قتل کئے جا رہے تھے آپؑ کی والدہ فکر مند ہوئیں اور انہوں نے حمل کے ابتدائی ایام سے ہی احتیاط کی۔ ان کے حمل کی علامات بھی ظاہر نہ ہوئیں جسکی وجہ سے دوسروں کو حمل کا علم نہ ہو سکا۔

    جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی تو اللہ پاک نے انکی والدہ کے دل میں ڈال دیا کہ ان کے لئے ایک صندوق بنا لیں۔ آپکا گھر نیل کے کنارے پر تھا۔ آپ نے صندوق کو ایک رسی سے باندھ دیا۔ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دودھ پلاتیں اور جب خطرہ محسوس ہوتا تو آپکو صندوق میں ڈال کر دریا میں چھوڑ دیتیں اور خود رسی کا سرا پکڑ لیتیں اور جب خطرہ دور ہو جاتا تو رسی کے ذریعے سے صندوق کھینچ کر بچے کو نکال لیتیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    " اور ہم نے موسیٰ کی ماں کو وحی کی کہ اسے دودھ پلاتی رہ اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو تو اسے دریا میں بہا دینا اور کوئی ڈر خوف یا رنج و غم نہ کرنا۔ ہم اسے یقینا" تیری طرف لوٹانے والے ہیں اور اسے پیغمبروں میں سے بنانے والے ہیں۔ " (القصص، ۷)

    ایک دن حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے انہیں صندوق میں ڈالا لیکن اسکی رسی ڈالنا بھول گئیں۔ صندوق دریاۓ نیل کے پانی میں بہتا چلا گیا، حتیٰ کہ فرعون کے محل کے پاس سے گزرا تو فرعون کے لوگوں نے اسے اٹھا لیا اللہ پاک کا فرمان ہے:
    "سو فرعون کے لوگوں نے اس بچے کو اٹھا لیا آخر کا ر یہی بچہ انکا دشمن ہوا اور انکے رنج کا باعث بنا۔ کچھ شک نہیں کہ فرعون، ہامان اور انکے لشکر تھے ہی خطا کار۔ اور فرعون کی بیوی نے کہا: یہ تو میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، بہت ممکن ہے کہ یہ ہمیں کوئی فائدہ پہنچاۓ یا ہم اسے اپنا بیٹا ہی بنا لیں، اور وہ (انجام سے) بے خبر تھے۔" (القصص، ۸۔۹)
    ۔۔۔۔۔ بحوالہ قصص الانبیاء

    [​IMG]
     
  2. usama
    Offline

    usama Newbi
    • 16/8

    ﺟﺰﺍﮎ ﺍﻟﻠﮧ
    ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎﺭﯼ ﺷﯿﺌﺮﻧﮓ ﮐﯽ ﮬﮯ
    ﺷﮑﺮﯾﮧ
     
  3. muzafar ali
    Offline

    muzafar ali Regular Member
    • 28/33

    Masha Allah
     
  4. Ab Ghafar Jamari
    Offline

    Ab Ghafar Jamari Newbi
    • 18/8

    بھت عمدہ کوشش ہے
     

Share This Page