1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

تیزاب سے صفائی کرنا صحت کےلئے خطرناک

Discussion in 'Health & Diet' started by IQBAL HASSAN, Jan 16, 2016.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management

    تیزاب سے صفائی کرنا صحت کےلئے خطرناک

    :PakistanFlag::PakistanFlag::PakistanFlag::PakistanFlag:
    سبھی گھریلوکاموں میں ٹوائلٹ کی صفائی کرنا سب سے مشکل کام ہے لیکن صفائی کے لحاظ سے ٹوائلٹ صاف کرنا سب سے زیادہ اہم ہے اور اس کی بلا ناغہ صفائی تو اور بھی زیادہ اہم ہے۔ٹوائلٹ صاف کرنے لئے اکثر لوگ تیزاب جیسے مصنوعات استعمال کرتے ہیں جو کہ پیخانہ جیسی جگہ کو صاف کرنے لئے نہیں بنے ہیں۔
    ماہرین مانتے ہیں کہ اگر آپ نے ٹوائلٹ کلینر احتیاط سے نہیں چنا تو یہ آپ کے اور آپ کے پریوار کی صحت پر الٹا اثر ڈال سکتا ہے۔ ہندوستان میں پاخانہ صاف کرنے کےلئے تیزاب کا استعمال بہت ہی عام ہے۔ حالانکہ بیداری اور تعلیم کے باعث لوگوں میں پاکیزگی کو لے کر کافی سمجھ آئی ہے لیکن ابھی بھی لوگ صاف صفائی کے لئے صحیح مصنوعات چننے کی اہمیت کو نہیں سمجھ پائے ہیں۔ بہت سے لوگوں کو یہ معلوم ہی نہیں ہوگا کہ ایسڈ کا استعمال بہت ہی غیر محفوظ اور صحت کے لئے نقصان دہ ہے۔ ایسڈ سے نکلنے والے دھوئیں سے سانس سے متعلقہ مسائل دمہ وغیرہ ہو سکتے ہیں۔ اگر اس کا استعمال طویل وقت تک کر لیا جائے تو اس سے جسم کے دوسرے حصے جیسے جگر اورگردوں پر بھی شدید اثر پر سکتا ہے۔
    تیزاب کی بوتل پر ہمیشہ خطرے کانشان بنا ہوتا ہے یا لکھا ہوتا ہے لیکن لوگ اسے نظر انداز کر دیتے ہیں اور یہ خطرہ آ پکی صحت سے ہی جڑا ہوتا ہے۔ عام طور پر جو ایسڈ استعمال ہوتے ہیں ان میں سوڈیم بائی سلفیٹ آکسالک ایسڈ ، ہائیڈروکلوریک ایسڈ اور سلفیورک ایسڈ ہوتا ہے۔ یہ کیمیکلز ہمارے جسم میں نہ صرف دھوئیں کے ذریعے جاتے ہیں بلکہ جلد کے ذریعے بھی جذب ہو جاتے ہیں اس سے جسم کے اندرونی حصوں جیسے کہ گردے اور جگر کو بھی نقصان ہو سکتا ہے۔ اگر ایسڈ کا طویل عرصے تک استعمال کیا جائے تو یہ مرکزی نظام سسٹم کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے اور کینسر ہو نے یا ہارمون میں رکاوٹ ہونے کا چانس پیدا ہو جاتا ہے۔
    اس لئے لوگوں کو یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ٹائلٹ صاف کرنے کے لئے ایسڈ کا استعمال خطرناک ہو سکتا ہے۔ وہ صرف اس محدود جگہ کو صاف نہیں کرنا بلکہ مسلسل استعمال سے اس کا دھواں آپ کے جسم کے اندرونی اعضاءکو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے اور طویل عرصے تک اس کا استعمال کیا جائے تو آنکھوں کی روشنی پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ ویسے بھی مارکیٹ میں کئی ایسے متبادل موجود ہیں جو محفوظ اور موثر ہیں تو پھر خطرناک ایسڈ کا استعمال ہی کیوں کیا جائے۔
    یہ بھی اہم حقیقت ہے کہ کچھ عرصہ پہلے سپریم کورٹ نے کھلے میں ایسڈ فروخت کرنے پر پابندی لگارکھی ہے۔ لیکن بہت سی چھوٹی چھوٹی صنعتیں سپریم کورٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان ایسڈوں کو ٹائلٹ کلینر کے نام سے بنا کر فروخت کر رہی ہیں۔
    یہ سب اس لئے ہو رہا ہے کیونکہ ملک میں صاف صفائی کے مصنوعات بنانے والے لوگوں کے لئے کوئی مناسب رہنما خطوط نہیں ہیں اس لئے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ صرف نام بدلنے سے ایسڈ کی نقصان دہ ہونے کی فطرت نہیں بدل سکتی ۔ اس لئے کھلے میں فروخت ہونے والے ایسے تیزاب پر روک لگنی ضروری ہے تاکہ لوگوں کی صحت سے کھلواڑ نہ کیا جا سکے۔
    اسکے علاوہ جب ٹوائلٹ کلینر کےلئے ایسڈ استعمال کیا جاتا ہے تو وہ نالیوں سے گزرتا ہے تو وہ نالیوں کے پانی کے ایکو سسٹم کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ بہت سے ایسے باریک جراثیموں کو تباہ کر دیتا ہے جو نالیوں کی ہریالی اور جانداروں کی صحت کےلئے ضروری ہے۔
    تو اس کا کیا حل ہے؟ اس کا حل بہت آسان ہے ، بس آپ کو ایسے ٹوائلٹ کلینر لینے چاہئیں جس میں صحت کےلئے نقصان دہ کیمیکلز نہ ہوں۔
    تو اپنے ٹوائلٹ کو ایسڈ جیسے کلینر سے نہ صاف کریں کیونکہ یہ نہ صرف آپ کے ٹوائلٹ کی نالیوں کو خراب کرتے ہیں بلکہ آپ کی صحت پر بھی بھاری پڑ سکتے ہیں۔ اس لئے آپ وہی ٹوائلٹ کلینر چنیں جس میں متوازن مقدار میں کیمیکل ہوں حالانکہ سننے میں یہ تھوڑا عجیب لگتا ہے کہ ٹائلٹ کلینر کو احتیاط سے چننا چاہئے لیکن اگر یہ کلینر آپ کی صحت پر بھاری ہوتا ہو تو ضرور دو بارہ سوچنے کی ضرورت ہے۔


    [​IMG]
     
  2. بھت عمدہ کوشش ہے
     

Share This Page