1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

کلونجی : کئی بیماریوں کا علاج

Discussion in 'Health & Diet' started by IQBAL HASSAN, Jan 18, 2016.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators


    کلونجی : کئی بیماریوں کا علاج


    کلونجی ایک قسم کی گھاس کا بیج ہے۔ پھول زردی مائل، بیجوں کا رنگ سیاہ اور شکل پیاز کے بیجوں سے ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ انہیں پیاز کا ہی بیج سمجھتے ہیں۔کلونجی کے بیجوں کی بوتیز اور شفائی تاثیر سات سال تک قائم رہتی ہے۔ صحیح کلونجی کی پہچان یہ ہے کہ اگر اسے سفید کاغذ میں لپیٹ کر رکھیں تو اس پر چکنائی کے داغ دھبے لگ جاتے ہیں۔ کلونجی کے بیج خوشبو دار اور ذائقے کے لئے بھی استعمال کئے جاتے اور اچار اور چٹنی میں پڑے ہوئے چھوٹے چھوٹے تکونے سیاہ بیج کلونجی ہی کے ہوتے ہیں ، جو اپنے اندر بے شمار فوائد رکھتے ہیں یہ سریع الاثر، یعنی بہت جلد اثر کرتے ہیں۔ طبی کتب سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم یونانی اطبا کلونجی کے بیج کو معدے اور پیٹ کے امراض ، مثلاً ریاح، گیس کا ہونا، آنتوں کا درد، کثرت ایام، استسقاد، ( نسیان) یا داشت کی کمی (ریشہ) دماغی کمزوری ، فالج اور افزائش دودھ کے لئے استعمال کراتے رہے ہیں۔
    کلونجی کی یہ ایک اہم خاصیت ہے کہ یہ گرم اور سرد دونوں طرح کے امراض میں مفید ہے جب کہ اس کی اپنی تاثیر گرم ہے اور سردی سے ہونے والے تمام امراض میں مفید ہے ، کلونجی نظام ہضم کی صلاح کے لئے اکسیر کا درجہ رکھتی ہے۔ ریاح، گیس، اور بدہضمی میں اس سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔ وہ لوگ جن کو کھانے کے بعد پیٹ میں بھاری پن ،گیس یا ریاح بھر جانے اور اپھارے کی شکایت محسوس ہوتی ہو، کلونجی کا سفوف تین گرام کھانے کے بعد استعمال کریں تونہ صرف یہ شکایت جاتی رہے گی بلکہ معدے کی اصلاح بھی ہوگی۔ کلونجی کو سر کے کے ساتھ ملا کر کھانے سے پیٹ کے کیڑے مرجاتے ہیں سردیوں کے موسم میں جب تھوڑی سی سردی لگنے سے زکام ہو نے لگتا ہے تو ایسی صورت میں کلونجی کو بھون کر باریک پیس لیں اور کپڑے کی پوٹلی بنا کر بار بار سونگنے سے زکام دور ہو جاتا ہے۔ اگر چھینکیں آرہی ہوں تو کلونجی بھون کر باریک پیس کر رو غن زیتوں میں ملا کر اس کے تین چار قطرے ناک میں ٹپکانے سے چھینکیں جاتی رہیں گی۔ کلونجی پیشاب آور بھی ہے۔ اس کا جو شاندہ شہد میں ملا کر پینے سے گردے اور مثانے کی پتھری بھی خارج ہو جاتی ہے۔
    اگر دانتوں میں ٹھنڈ ا پانی لگنے کی شکایت ہو تو کلونجی کو سر کے میں جو ش دے کر کلیاں کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔ چہرے کی رنگت میں نکھار اور جلد صاف کرنے کے لئے کلونجی کو باریک پیس کر گھی میںملا کر روغن زیتوں میںملا کر استعمال کیا جائے تو اور زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔ آج کل نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں کیل ، دانوں اور مہاسوں کی شکایت عام ہے۔ وہ مختلف بازاری کریمیں استعمال کر کے چہرے کی جلد کو مزید خراب کر لیتے ہیں۔ ایسے نوجوان بچے بچیاں کلونجی باریک پیس کر ، سر کے میں ملا کر سونے سے پہلے چہرے پر لیپ کریں اور صبح چہرہ دھولیا کریں۔ چند دنوں میں بڑے اچھے اثرات سامنے آئیں گے اس طرح لیپ کرنے سے نہ صرف چہرہ کی رنگت صاف و شفاف ہو گی اور مہانسے ختم ہو ں گے بلکہ جلد میں نکھار بھی آئے گا ۔ جلد ی امراض میں کلونجی کا استعمال عام ہے جلد پر زخم ہونے کی صورت میں کلونجی کو توے پر بھون کر روغن مہندی میں ملا کر لگانے سے نہ صرف زخم مندمل ہو جائیں گے بلکہ نشان دھبے بھی جاتے رہیں گے ۔
    جن خواتین کو دودھ کم آنے کی شکایت ہو اور ان کا بچہ بھوکا رہ جاتا ہو، وہ کلونجی کے 6-7دانے صبح نہار منہ اور راست سونے سے قبل دودھ کے ساتھ استعمال کر لیا کریں۔ اس سے ان کے دودھ کی مقدار میں اضافہ ہو جائے گا۔البتہ حاملہ خواتین کو کلونجی کا استعمال نہیں کرنا چاہئے۔جن خواتین کو ایام کم یا درد کے ساتھ آتے ہوں یا پیشاب کم یا تکلیف سے آتا ہو ، وہ کلونجی کا سفوف تین گرام روزانہ استعمال کر لیا کریں اس سے شکایت جاتی رہے گی۔ کلونجی کے چند دانے روزانہ شہد کے ساتھ استعمال کر لیا کریں ، چند دنوں میں خود کو بہتر محسوس کریں گے پیٹ اور معدے کے امراض ، پھیپھڑوں کی تکالیف اور خصوصاً دمے کے مرض میں کلونجی بہت مفید ہے۔ کلونجی کا سفوف نصف سے ایک گرام تک صبح نہار منہ اور رات کو سونے سے قبل ہمراہ شہد استعمال کر وایا جاتا ہے۔ یہ پرانی پیچش اور جنسی امراض میں بھی مفید ہوتا ہے۔ جن لوگوں کو ہچکیاں آتی ہوں وہ کلونجی کا سفوف تین گرام ، کھانے کے ایک چمچ مکھن میں ملا کر استعمال کر یں تو فائدہ ہوتا ہے۔
    کلونجی کے استعمال سے مرض ذیابیطس کو فائدہ ہوتا ہے ۔ ذیابیطس کے مریض کلونجی کے سات دانے روز انہ صبح نگل لیا کریں۔
    کلونجی سے نکلنے والا تیل دوقسم کا ہوتا ہے ایک سیاہ رنگ میں خوشبودار جو ہوا میں اٹھنے سے اڑنے لگتا ہے اور دوسری قسم انٹروی کے تیل جیسا جس کے دوانی اثرات بہت زیادہ ہوتے ہیں یہ تیل بیرونی طو رپر استعمال کیا جاتا ہے اور بہت سے جلدی امراض میں مفید ہے۔ یہ تیل بالخورہ کی شکایت میں بہت فائدہ دیتا ہے۔ بالخورہ میں بال اڑ جاتے ہیں اور دائرے کی صورت میں نشان بن جاتا ہے پھر دائرہ دن بدن بڑھتا ہے اور عجیب سی نا خوشگواری کا احساس ہوتا ہے۔ یہ تیل سر کے گنج کو دور کرنے اور بال اگانے میں بھی مفید ہے۔ مزید یہ کہ اس تیل کے استعمال سے بال جلد سفید نہیں ہوتے اور اس تیل کو مختلف طریقوں سے داد، اگزیما میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر جسم کا کوئی حصہ بے حس ہو جائے تو یہ تیل مفید ہے ۔ کان کے ورم اور نسیان میں بھی یہ تیل مفید ہے۔ کلونجی کو مختلف طریقوں سے زہر کے علاج کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ پاگل کتے کے کاٹنے یا بھڑ کے کاٹنے کے بعد کلونجی کا استعمال مفید ہے۔ کلونجی میں ورموں کو تحلیل کرنے اور گلٹیوں کو گھلا نے کی بھی صفت ہے۔
    کلونجی کی دھونی سے گھر میں پائے جانے والے کیڑے مکوڑے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ اسی خصوصیت کے سبب کلونجی کو گھروں میں قیمتی کپڑوں میں رکھا جاتاہے ۔

    [​IMG]
     
  2. کیا بات ہے بہائی بھت عمدہ
     

Share This Page