1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

گھر کا کھانا کھانے والے بچے زیادہ صحت مند

Discussion in 'Health & Diet' started by IQBAL HASSAN, Jan 18, 2016.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management

    گھر کا کھانا کھانے والے بچے زیادہ صحت مند


    برطانوی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے بچے جو اپنے گھر کا پکا ہواکھانا کھاتے ہیں وہ ان بچوں کی نسبت زیادہ صحت مند ہوتے ہیں جوگھر کا کھانا نہیں کھاتے ہیں ۔ لندن میں اکیسویں صدی کی اس تیز رفتار زندگی میں سبھی لوگوں کو وقت کی کمی کا سامنا ہے۔ ان میں ایسے والدین بھی شامل ہیں جن کے لئے بازاروں میں آسانی سے دستیاب بچوں کے کھانے پینے کی اشیاءاور تیار شدہ فروزن پکوان گویا کسی نعمت سے کم نہیں ہوتے ۔ جھٹ پٹ مائیکر و ویوو میں تیار ہو جانے والے یہ کھانے بچوں کی بھی بے حد مرغوب غذاءبن چکے ہیں لہٰذا ہر ماہ اچھی خاصی رقم خرچ کرنے کے بعد بھی خاتون خانہ کو یہ گھاٹے کا سودا معلوم نہیں ہوتا۔ بچوں میں فاسٹ فوڈ کھانے کی عادت اتنی پختہ ہو چکی ہے کہ اب انہیں گھر کا کھانا پسند نہیں آتا، ایسے میں والدین کے پاس بچوں کی ضدپوری کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا لیکن ہر بار اپنے بچے کی فرمائش پر اسے پیزا، برگر اور چپس کھلاتے ہوئے کیا کبھی ہمیں یہ خیال آیا ہے کہ ہم اس کے ساتھ بھلائی نہیں کر رہے بلکہ ہم اس طرح اسے گھر کے کھانے سے مزید دور کر تے جا رہے ہیں۔
    برطانوی طبی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے بچے جو اپنے گھر کا پکا ہوا کھانا کھاتے ہیں وہ ان بچوں کی نسبت زیادہ صحتمند ہوتے ہیں جو گھر کا کھانا نہیں کھاتے ہیں ۔ یہ تحقیق یونیورسٹی ایڈنبرگ سینٹر فارریسرچ فار فیملیز اینڈ ریلیشن شپ میں ہوئی جس میں حصہ لینے والی ایک تجزیہ کار والر یا سکافیدا ( Valeria Skafida) کا کہنا تھا کہ جو والدین بچوں کو ان کی پسندیدہ کھانوں کی پیشکش کرتے ہیں وہ در اصل انہیں گھر کے بنے ہوئے غدائیت سے بھر پور کھانے سے محروم کر رہے ہوتے ہیں مثلاً ہو سکتا ہے کہ اس روز گھر کے کھانے میں سبزی موجود ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر جو بچے اسنیک کی شکل میں مختلف کھانے کھاتے ہیں ان کے کھانوں میں غدائیت کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔ دوسری طرف ان تجزیہ کاروں نے بازاروں میں بچوں کے نام پر بکنے والے طرح طرح کے کھانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں بہت سی مائیں ایسے کھانوں کو بچوں کے اندر انڈیل رہی ہیں۔
    یہ تحقیق سوشیا لوجی ہیلتھ اینڈالینس میں شائع ہوئی ہے۔ جس میں 2ہزار 2بچوں نے حصہ لیا جن کی عمر 5سال تھیں۔ تحقیق میں دیکھا گیا کہ جب بھی بچوں کی خواہش پر انہیں پیز ااور چپس کھانے میں دیا گیا تو انہیں اس کھانے سے کیلور یز تو مل رہی تھیں لیکن اس میں غدائیت کی شرح بہت کم تھی۔ محقیقین کا کہنا کہ گھر کا کھانا والدین کو یہ جاننے میں مدد فراہم کرتا ہے کہ آیا ان کا بچہ صحت مند کھانا کھاتا ہے یا نہیں کیونکہ اکثر بچے جب دن میں اسنیک لیتے ہیں یا تنہا کھانا کھاتے ہیں تو والدین کو ان کی خوراک کے بارے میں صحیح اندازہ نہیں ہو پاتا ہے۔ اس سلسلے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عموماً گھر کے پہلے بچے کی خوراک اپنے دوسرے بہن بھائیوں کی نسبت زیادہ غذائیت والی ہوتی ہے کیونکہ گھر میں بتدریج کھانے پینے کاانداز تبدیل ہوتا جاتاہے۔ اس تحقیق میں شامل ایک تہائی والدین کا کہنا تھا کہ ایسا کبھی کبھار ہی ہوتا ہے جب گھر کا ایک ہی کھانا پورے خاندان کو پسند آئے یا صرف تقریبات کے موقع پر ہی سارا خاندان ایک ہی کھانا کھاتاہے ۔ پانچ فیصد والدین نے بتایا کہ انہیں اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے کا کم ہی موقع ملتا ہے۔ اس تحقیق کی سربراہ سکافید ا کیا کا کہنا تھا کہ سبھی لوگوں کا ایک ہی کھانا کھانا ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ انہوںنے مصروف والدین کو مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو کھانا وقت یا بے وقت بھی دیا جا سکتا ہے لیکن شرط وہی ہے کہ یہ کھانا وہ ہو جو آپ خود کھاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ہی گھر میں والد اور بہن بھائیوں کے لئے علیحدہ علیحدہ کھانے تیار کرنے کے بجائے ایک ہی دیگچی میں سب کا کھانا پکنا چاہئے۔ رائل کالج لندن کے بچوں کے ڈاکٹرکولن میچی نے اس تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں میں آئرن ، زنک اور وٹامن ڈی کی کمی کو اکثر بچوں کی تنہا کھانا کھانے کی عادت سے جوڑا جاتاہے تاہم ایک ہی کھانا کھانے کی وجہ سے بچوں کے بہت سے مسائل پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔ جبکہ ماہر غذائیت مشیل اسٹور فر کا کہنا تھا ، ہو سکتا ہے اس تحقیق سے والدین کو نئے انداز سے سوچنے کی ترغیب دی جا سکتی ہے کہ کس طرح وہ اس آسان حل کی مدد سے اپنا وقت بچا سکتے ہیں جس کے لئے انہیں سب سے پہلے اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرنی ہوگی او رگھر میں ایک صحت مند کھانے کا رحجان پیدا کرنا ہوگا ۔ رپورٹ کے آخر میں تجزیہ کاروں نے ظاہر کیا ہے کہ 2سال سے 12سال کے بچوں کی بڑھتی ہوئی نشو و نما کے دوران لی جانے والی غدائیت ان بچوں کو مستقبل میں موٹاپے اور دیگر موذی بیماریوں کے خلاف مضبوط بناتی ہے۔ جبکہ دوسری طرف ایسی غذا جو آج ہم اپنے بچوں کو خوش کرنے کے لئے انہیں کھلا رہے ہیں یہ خوراک نہ صرف ان کے لئے موٹاپے کا سبب بن سکتی ہے بلکہ مستقبل میں بھی ا نکی صحت پر اس کے مضر اثرات ظاہر ہوسکتے ہیں۔

    [​IMG]
     
  2. کیا بات ہے بہائی بھت عمدہ
     

Share This Page