1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

پروین شاکر

Discussion in 'Parveen Shakir' started by nizamuddin, Jan 19, 2016.

  1. nizamuddin

    nizamuddin Regular Member


    [​IMG]
    پروین شاکر

    مرگئے بھی تو کہاں، لوگ بھُلا ہی دیں گے
    لفظ مرے، مرے ہونے کی گواہی دیں گے

    منفرد لہجے , اسلوب اور محبت کی خوشبو کو شعروں میں سمونے والی شاعرہ پروین شاکر 24 نومبر 1952 کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ ۔ ان کے والد سید ثاقب حسین خود بھی شاعر تھے اور شاکر تخلص کیا کرتے تھے، اس نسبت سے پروین شاکر اپنے نام کے ساتھ شاکر لکھتی تھیں۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد ان کے والد پاکستان ہجرت کرکے کراچی میں آباد ہوئے۔ پروین شاکر نے انگریزی ادب میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کو اردو کی منفرد لہجے کی شاعرہ ہونے کی وجہ سے بہت ہی کم عرصے میں وہ شہرت حاصل ہوئی جو بہت کم لوگوں کو حاصل ہوتی ہے۔ دوران تعلیم وہ اردو مباحثوں میں حصہ لیتی رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ریڈیو پاکستان کے مختلف علمی ادبی پروگراموں میں شرکت کرتی رہیں۔ وہ استاد کی حیثیت سے درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہیں اور پھر بعد میں آپ نے سرکاری ملازمت اختیار کرلی۔ 1986 میں کسٹم ڈیپارٹمنٹ، سی بی آر اسلام آباد میں سیکریٹری دوئم کے طور پر اپنی خدمات انجام دینے لگیں۔ 1990 میں ٹرینٹی کالج جو کہ امریکہ سے تعلق رکھتا تھا تعلیم حاصل کی اور 1991 میں ہاورڈ یونیوسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ پروین شاکر کی شادی ڈاکٹر نصیر علی سے ہوئی جس سے بعد میں طلاق لے لی۔ شاعری میں آپ کو احمد ندیم قاسمی کی سرپرستی حاصل رہی۔ اپنی منفرد شاعری کی کتاب ’’خوشبو‘‘ سے اندرون و بیرون ملک بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ انہیں اس کتاب پر آدم جی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ بعد ازاں انہیں پرائڈ آف پرفارمنس ایوارڈ بھی ملا۔
    پروین شاکر کی شاعری میں ایک نسل کی نمائندگی ہوتی ہے اور ان کی شاعری کا مرکزی نقطہ عورت رہی ہے۔
    ان کے شعری مجموعوں میں ’’خوشبو، خود کلامی، صد برگ، انکار، ماہ تمام، مسکراہٹ، چڑیوں کی چہکار، بارش کی کن من اور کف آئینہ شامل ہیں۔
    26 دسمبر 1994 کو ٹریفک کے ایک حادثے میں اسلام آباد میں بیالیس سال کی عمر میں مالک حقیقی سے جاملیں۔
     
    IQBAL HASSAN likes this.
  2. بھت خوب شاندار
     
  3. Aqibimtiaz786

    Aqibimtiaz786 mr.anjaan

    Bht Khoooob Share Krne Ka Shukriya.........
     
  4. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators


    ...........................
    بہت ھی عمدہ شیرینگ ھے ۔
    اپ کابہت شکریہ۔ نوازش ۔
    ...........................
    پھول چڑھانے والے آنا چھوڑ گئے
    رفتہ رفتہ قبر کا کتبہ ٹوٹ گیا
    ...........................

     

Share This Page