1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

دشتِ تنہائی میں، اے جانِ جہاں لرزاں ہیں

Discussion in 'Faiz Ahmed Faiz' started by nizamuddin, Jan 19, 2016.

  1. nizamuddin

    nizamuddin Regular Member

    دشتِ تنہائی میں، اے جانِ جہاں لرزاں ہیں
    تیری آواز کے سائے تیرے ہونٹوں کے سراب
    دشتِ تنہائی میں، دوری کے خس و خاک تلے
    کِھل رہے ہیں، تیرے پہلو کے سمن اور گلاب
    اٹھ رہی ہے کہیں قرب سے تیری سانس کی آنچ
    اپنی خوشبو میں سلگتی ہوئی مدھم مدھم
    دور افق پار، چمکتی ہوئی قطرہ قطرہ
    گررہی ہے تیری دلدار نظر کی شبنم
    اس قدر پیار سے، اسے جان جہاں، رکھا ہے
    دل کے رخسار پہ اس وقت تیری یاد نے ہاتھ
    یوں گماں ہوتا ہے، گرچہ ہے ابھی صبح فراق
    ڈھل گیا ہجر کا دن، آ بھی گئی وصل کی رات
    (فیض احمد فیض)

    [​IMG]
     
    PakArt likes this.
  2. بھت خوب شاندار
     
  3. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators




    بہت ھی عمدہ شیرینگ ھے ۔
    اپ کابہت شکریہ۔ نوازش ۔

    [​IMG]
     
  4. Aqibimtiaz786

    Aqibimtiaz786 mr.anjaan

    Bht Khoooob Share Krne Ka Shukriya.........
     

Share This Page