1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

مرزا اسد اللہ خان غالب

Discussion in 'Mirza Ghalib' started by nizamuddin, Jan 19, 2016.

  1. nizamuddin

    nizamuddin Regular Member

    [​IMG]
    مرزا اسد اللہ خان غالب

    دنیائے سخن وری کے مہتاب اور لازوال شاعر مرزا اسد اللہ خان غالب کا نام اسد اللہ بیگ خان تھا۔ باپ کا نام عبداللہ بیگ تھا۔ آپ 27 دسمبر 1979ء میں آگرہ میں پیدا ہوئے، غالب بچپن ہی میں یتیم ہوگئے تھے، ان کی پرورش ان کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ نے کی لیکن آٹھ سال کی عمر میں ان کے چچا بھی فوت ہوگئے۔ مرزا غالب اردو زبان کے سب سے بڑے شاعر سمجھے جاتے ہیں، ان کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے، ان کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ زندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جاکر سمجھتے تھے اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لئے بیان کردیتے تھے، غالب جس پرآشوب دور میں پیدا ہوئے اس میں انہوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھائے ہوئے دیکھا۔ غالباً یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی۔
    1850ء میں بہادر شاہ ظفر نے مرزا غالب کو نجم الدولہ دبیر الملک نظام جنگ کا خطاب عطا فرمایا اور خاندان تیموری کی تاریخ لکھنے پر مامور کردیا اور 50 روپے ماہوار وظیفہ مقرر ہوا۔ مرزا غالب اردو زبان کے ایک عظیم شاعر اور رجحان ساز نثر نگار ہونے کے علاوہ ایک آفاقی شاعر تھے، مرزا کی شاعری میں جدت، بانکپن اور جدید تشبیہات و تراکیب نے ان کے طرز سخن کو ایک ایسی دائمی تازگی بخشی جس میں آج بھی شگفتگی کا احساس موجزن نظر آتا ہے۔ مرزا غالب انسانی فطرت کے نباض اور نفسیاتی حقائق کا بھی گہرا ادراک رکھتے تھے۔ انہیں مسائل تصوف خصوصاً فلسفہ وحدت الوجود سے گہری دلچسپی تھی، غالب کو اپنی فارسی پر بڑا ناز تھا تاہم ان کی شہرت و دوام اور مقبولیت کا اصل سبب ان کا اردو دیوان ’’دیوان غالب‘‘ اور ’’خطوط غالب‘‘ ہیں۔ مرزا غالب کا انتقال 15 فروری 1869 کو ہوا۔

    کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
    ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
    ...........
    کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو
    یہ خلش کہاں سے ہوتی، جو جگر کے پار ہوتا
    ………
    ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے ، لیکن
    خاک ہوجائیں گے ہم، تم کو خبر ہونے تک
    ……
    ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے
    کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور
     
  2. بھت خوب شاندار
     
  3. Aqibimtiaz786

    Aqibimtiaz786 mr.anjaan

    Bht Khoooob Share Krne Ka Shukriya.........
     
  4. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators


    ●▬▬▬▬▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬ ▬▬▬▬●
    بہت ہی زبردست
    بہت اچھا لگا اپ کا تھریڈ پڑھ کر
    اپ کابے حد شکریہ
    ●▬▬▬▬▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬ ▬▬▬▬●
     

Share This Page