1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

ہونٹوں پہ کبھی اُن کے مرا نام ہی آئے

Discussion in 'Ahmad Faraz' started by nizamuddin, Jan 22, 2016.

  1. nizamuddin

    nizamuddin Regular Member

    ہونٹوں پہ کبھی اُن کے مرا نام ہی آئے

    آئے تو سہی، برسرِ الزام ہی آئے
    حیران ہیں، لب بستہ ہیں، دلگیر ہیں غنچے
    خوشبو کی زبانی ترا پیغام ہی آئے
    لمحاتِ مسرت ہیں تصور سے گریزاں
    یاد آئے ہیں جب بھی غم و آلام ہی آئے
    تاروں سے سجالیں گے رہِ شہرِ تمنا
    مقدر نہیں صبح چلو شام ہی آئے
    کیا راہ بدلنے کا گلہ ہم سفروں سے
    جس رہ سے چلے تیرے در و بام ہی آئے
    تھک ہار کے بیٹھے ہیں سرِ کوئے تمنا
    کام آئے تو پھر جذبۂ ناکام ہی آئے
    باقی نہ رہے ساکھ ادا دشتِ جنوں کی
    دل میں اگر اندیشۂ انجام ہی آئے
    (ادا جعفری)


    [​IMG]
     
  2. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators

Share This Page