1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

حال کُھلتا نہیں جبینوں سے

Discussion in 'Ahmad Faraz' started by nizamuddin, Jan 22, 2016.

  1. nizamuddin

    nizamuddin Regular Member

    حال کُھلتا نہیں جبینوں سے
    رنج اُٹھائے ہیں کن قرینوں سے

    رات آہستہ گام اُتری ہے
    درد کے ماہتاب زینوں سے

    ہم نے سوچا نہ اُس نے جانا ہے
    دل بھی ہوتے ہیں آبگینوں سے

    کون لے گا شرارِ جاں کا حساب
    دشتِ امروز کے دفینوں سے

    تو نے مژگاں اُٹھا کے دیکھا بھی
    شہر خالی نہ تھا مکینوں سے

    آشنا آشنا پیام آئے
    اجنبی اجنبی زمینوں سے

    جی کو آرام آ گیا ہے اداؔ
    کبھی طوفاں، کبھی سفینوں سے

    اداؔ جعفری
     
  2. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators




    ہم نے سوچا نہ اُس نے جانا ہے
    دل بھی ہوتے ہیں آبگینوں سے

    کون لے گا شرارِ جاں کا حساب
    دشتِ امروز کے دفینوں سے
    ......................................
    بہت ہی عمدہ
    بہت ہی مزیدار
    مزید اچھی شیرینگ کا انتیظار رھے گا ۔
    .....................................
    [​IMG]


     

Share This Page