1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ No-02

Discussion in 'History aur Waqiat' started by IQBAL HASSAN, Jan 22, 2016.

Share This Page

  1. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 83/98

    حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ No-02


    حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ محترمہ نے انہیں جس صندوق میں رکھا تھا وہ دریاۓ نیل میں بہتا ہوا فرعون کے محل کے پاس سے گزرا ور کچھ عورتوں نے وہ صندوق باہر نکال لیا مگر اسے کھولنے کی جرات نہ کی بلکہ اپنی مالکہ حضرت آسیہ علیہ السلام (فرعون کی بیوی) کے سامنے پیش کر دیا۔ انہوں نے جب صندوق کھولا اور کپڑا ہٹایا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا چہرہ مبارک انوارِ نبوت سے روشن نظرآیا اور ان کے دل میں موسیٰ علیہ السلام کے لئے شدید محبت پیدا ہو گئی۔ جب فرعون آیا تو اس نے انہیں قتل کرنے کا حکم دے دیا لیکن حضرت آسیہؑ نے مزاحمت کرتے ہوۓ فرمایا: " یہ تو میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔" فرعون نے کہا : "تیرے لئے تو ہے میرے لئے نہیں۔"
    حضرت آسیہؑ نے کہا کہ بہت ممکن ہے یہ ہمیں کوئی فائدہ پہنچاۓ یا ہم اسے اپنا بیٹا ہی بنا لیں۔ اللہ پاک نے انہیں وہ فائدہ عطا فرما دیا جسکی انہوں نے امید ظاہر کی تھی دنیا میں یہ فائدہ کہ انہیں آپ کی وجہ سے ہدایت نصیب ہوئی اور آخرت میں یہ کہ آپکی وجہ سے انہیں جنت میں ٹھکانہ مل گیا۔ انہوں نے آپؑ کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا کیونکہ انکے ہاں کوئی اولاد نہیں تھی انہیں معلوم نہ تھا کہ اللہ پاک نے انکے ہاتھوں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پانی سے نکلوا کر فرعون اور اسکی فوج کو تباہ کرنے کا بندوبست کر دیا ہے۔
    حضرت موسیٰ علیہ السلام کے فرعون کے محل میں چلے جانے کے بعد انکی والدہ محترمہ انکی جدائی اور فراق میں سخت غمگین ہو گئیں انکا دل بیقرار تھا اور وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے علاوہ کچھ سوچتی نہ تھی ہر دیگر خیال سے انکا دل و دماغ خالی ہو گیا تھا اللہ پاک کیطرف سے انہیں دھارس ملی تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں رہیں پس انہوں نے اپنی بڑی بیٹی کو فرمایا کہ تو اس کے پیچھے پیچھے جا اور اسکے حالات معلوم کر کے مجھے بتا لہٰذا وہ دور ہی دور سے انہیں اس انداز میں دیکھتی رہیں کہ فرعونیوں کو اسکا علم نہ ہو سکا اور یہ گمان ہی ہوتا کہ گویا وہ اپنا کوئی کام کر رہی ہیں۔
    حضرت موسیٰ علیہ السلام جب فرعون کے محل میں پہنچ گئے تو ان لوگوں نے انہیں کچھ کھلانا پلانا چاہا۔ لیکن آپؑ نے نہ تو کسی عورت کا دودھ پیا اور نہ کوئی اور چیز قبول کی۔ وہ لوگ بہت پریشان ہوۓ آپکو ہر طرح کی غذا دینے کی کوشش کی لیکن آپ نے کچھ نہ کھایا پیا۔
    انہوں نے آپکو عورتوں کے ہاتھ آپکو بازار بھیجا کہ شائد کوئی ایسی عورت مل جاۓ جو آپکو دودھ پلا سکے وہ لوگ وہاں کھڑے تھے اور عورتیں جمع تھیں کہ آپکی ہمشیرہ نے آپکو دیکھ لیا انہوں نے یہ ظاہر نہ کیا ہ وہ آپکو جانتی ہیں بلکہ کہا: " کیا میں تمہیں ایسا گھر نہ بتاؤں جو تمہارے لئے اس بچے کی پرورش کرے اور ہوں بھی وہ اس بچے کے خیر خواہ؟" جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن نے یہ بات کہی تو ان لوگوں نے کہا کہ تجھے کیا معلوم کہ وہ اس بچے کے خیر خواہ ہونگے اور اس پر شفقت کریں گے؟ وہ بولیں کہ وہ بادشاہ کو خوش کرنا چاہیں گے اور اس سے فائدے کی امید رکھیں گے۔ تب انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن کو چھوڑ دیا اور انکے ساتھ انکے گھر آ گئے آپکی والدہ نے آپؑ کو اٹھا لیا اور آپکو دودھ پلانا چاہا تو آپ فورا" دودھ پینے لگے۔ وہ لوگ بہت خوش ہوۓ۔ ایک آدمی نے جا کر فورا" حضرت آسیہؑ کو خوشخبری دی۔ حضرت آسیہؑ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو محل میں بلا لیا اور انہیں وہاں رہنے کی پیشکش کی اور کہا کہ ان پر ملکہ کی نظرِ عنایت ہو گی۔
    انہوں نے یہ پیشکش قبول کرنے سے معذرت کر لی اور عرض کی کہ میں بال بچوں والی عورت ہوں اور میرا خاوند بھی موجود ہے اسلئے مجھے اپنے گھر میں ہی رہنا ہو گا میں اس بچے کو دودھ پلانے کی خدمت اس صورت میں انجام دے سکتی ہوں کہ آپ اس بچے کو میرے ساتھ میرے گھر میں رہنے دیں۔ حضرت آسیہؑ نے اجازت دے دی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی تنخواہ مقرر کر دی۔ اسکے علاوہ انعام وہ خلعت سے نوازا آپ بچے کو گھر لے آئیں اور یوں اللہ پاک نے ماں کو بچے سے ملا دیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:" پھر ہم نے اسے اس کی ماں کیطرف لوٹا دیا تاکہ اسکی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ آزردہ خاطر نہ ہو اور وہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔" یعنی اللہ پاک نے آپکو واپس پہنچانے اور رسول بنانے کا وعدہ فرمایا تھا، تو اب واپس پہنچانے کا وعدہ پورا ہو گیا ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کی رسالت کی خوشخبری بھی سچ ہے (جو ضرور پوری ہو گی)۔
    وَلَکِنَّ اَکثَرَھُم لَا یَعلَمُون0 لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

    ۔۔۔۔۔ بحوالہ قصص الانبیاء

    [​IMG]
     
  2. Ab Ghafar Jamari
    Offline

    Ab Ghafar Jamari Champ
    • 18/8

  3. Ahsaaan
    Offline

    Ahsaaan Senior Member
    • 48/49

    اچھی شئرنگ ہے
    جزاک اللہ
     

Share This Page