1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ No-04


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'History aur Waqiat' started by IQBAL HASSAN, Jan 22, 2016.

History aur Waqiat"/>Jan 22, 2016"/>

Share This Page

  1. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 63/65


    حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ No-04



    حضرت موسیٰ علیہ السلام سے جو قتل اتفاقا" سرزد ہو گیا تھا اسکی خبر بادشاہ کو ہو گئی اور اس نے آپؑ کی گرفتاری کا حکم دے دیا لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مصر سے ہجرت کر لی اور خوف محسوس کر رہے تھے کہ کہیں فرعون کی قوم کا کوئی شخص آپ تک نہ پہنچ جاۓ۔ آُپؑ کبھی مصر سے باہر نہ گئے تھے اسلئے انہیں کچھ پتہ نہ تھا کہ وہ کدھر جائیں پس وہ ایک راستے پر چل پڑے اور فرمایا کہ مجھے امید ہے میرا رب مجھے سیدھے راستے لے جاۓ گا اور وہ منزلِ مقصود تک پہنچ جائیں گے اور ایسے ہی ہوا ۔ انہیں منزل مل گئی بلکہ عظیم منزل ملی۔

    حضرت موسیٰ علیہ السلام مدین پہنچ گئے مدین وہی شہر ہے جس میں حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم پر عذابِ الہی نازل ہوا تھا۔ پس موسیٰؑ وہاں پہنچے اور دیکھا کہ ایک کنویں پر کچھ لوگ اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے اور دو لڑکیاں بھی تھیں جو انتظار کر رہیں تھیں کہ چرواہے اپنےمویشیوں کو پانی پلا کر ہٹیں تو وہ اپنی بکریوں کو پانی پلائیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے بات کی تو پتہ چلا کہ ان لڑکیوں کے والد بزرگ اور کمزور ہیں اسلئے انہیں مویشی چرانے کے لئے آنا پڑتا ہے۔ یہ سن کے انہوں نے خود ان لڑکیوں کے مویشیوں کو پانی پلا دیا اور پھر وہاں سے ہٹ گئے۔ وہ طویل سفر کے بعد تھکے ہارے تھے اس لئے کیکر کے ایک پیڑ کے نیچے بیٹھ گئے اور فرمایا:۔ اے پروردگار! تو جو کچھ بھلائی میری طرف اتارے میں اسکا محتاج ہوں۔" ان خواتین نے آپؑ کی یہ بات سن لی۔

    وہ اپنے گھر واپس چلی گئیں اور کچھ ہی دیر بعد واپس آ گئیں۔ ان میں سے ایک شرم و حیا کا پیکر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئی اور کہا کہ میرے والد آپکو بلا رہے ہیں تاکہ آپکو جانوروں کو پانی پلانے کی اجرت دے سکیں۔

    حضرت موسیٰ علیہ السلام جب ان کے والد کے پاس پہنچے تو اپنا پورا حال کہہ سنایا کہ مصر کے بادشاہ فرعون کے ڈر سے اپنے ملک مصر سے نکلا ہوں ۔ وہ بزرگ کہنے لگے کہ اب تم نہ ڈرو تم نے ظالم قوم سے نجات پا لی ہے تب ایک لڑکی نے اپنے والد سے کہا کہ ابا جان انہیں مزدوری پر رکھ لیجئے تاکہ وہ ہماری بکریاں چرا سکیں کیونکہ یہ طاقتور اور دیانتدار ہیں جب اس نے یہ بات کہی تو والد نے پوچھا کہ تمہیں اس بات کی کیسے خبر؟ اس نے کہا کہ جو بھاری پتھر بہت سے آدمی مل کے اٹھاتے ہیں انہوں نے اکیلے ہی اٹھا لیا اس سے مجھے انکی طاقت کا اندازہ ہوا اور جب میں انہیں لے کے گھر آ رہی تھی تو میں آگے چل رہی تھی انہوں نے کہا کہ میرے پیچھے چلو اور جب مڑنا ہو تو اس راستے کی طرف کنکری پھینک کے اس اشارے سے مجھے بتا دینا۔ الغرض بزرگ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ میں اپنی دونوں بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح آپؑ کے ساتھ کرنا چاہتا ہوں اس مہر پر کہ آپ آٹھ سال تک میرا کام کاج کریں گے لیکن ہاں! اگر آپ دس سال پورے کریں تو یہ آپکی طرف سے احسان ہو گا اور میں ہر گز نہیں چاہتا کہ آپکو کسی مشقت میں ڈالوں۔ اللہ کو منظور ہے تو آپ مجھے بھلا آدمی پائیں گے۔

    پس انکے درمیان اللہ کو گواہ بنا کر یہ بات پختہ ہو گئی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے سسر سے فرمایا کہ آپ نے جو بات کہی درست ہے میں جو بھی مدت پوری کرونگا مجھے اسکا حق ہو گا اس سلسلے میں مجھ پر کوئی زیادتی نہیں کیجاۓ گی۔ ہماری مفاہمت پر اللہ گواہ ہے جو سب کچھ سن رہا ہے تاہم حضرت موسیٰ علیہ السلام نے زیادہ مدت پوری کی، یعنی پورے دس سال انکی خدمت کی۔

    حضرت سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے حیرہ کے ایک یہودی نے پوچھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دونوں میں سے کونسی مدت پوری کی تھی؟ میں نے کہا مجھے تو نہیں معلوم البتہ میں عرب کے بڑے عالم کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے دریافت کرونگا۔ تو میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے یہ مسئلہ دریافت کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ آپؑ نے زیادہ اور بہتر مدت پوری کی تھی۔ اللہ کا رسول جب کوئی بات کہہ دے تو اسے پورا کرتا ہے۔ (صحیح البخاری، الشھادات، حدیث ۲۶۸۴)

    بحوالہ قصص الانبیاء

    [​IMG]

     
  2. Ab Ghafar Jamari
    Offline

    Ab Ghafar Jamari Newbi
    • 18/8

  3. Ahsaaan
    Offline

    Ahsaaan Lover
    • 48/49

    اچھی شئرنگ ہے
    جزاک اللہ
     

Share This Page