1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ No-05


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'History aur Waqiat' started by IQBAL HASSAN, Jan 22, 2016.

History aur Waqiat"/>Jan 22, 2016"/>

Share This Page

  1. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 63/65


    حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ No-05


    فرعون کی ہلاکت


    فرعون کی ہلاکت کے بعد بنی اسرائیل کے حالات:۔
    ================================

    فرعون اور اسکی کافر قوم کی غرقابی کے بعد اللہ پاک نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور آپکی قوم کو بے شمار نعمتوں سے نوازا خصوصاً غلامی سے نجات اور امن کی نعمت سے سرفراز کیا ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    "پھر ہم نے ان (قوم فرعون) سے بدلہ لے لیا اور ان کو سمندر میں غرق کر دیا۔ اس سبب سے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے اور ان سے بالکل ہی غفلت کرتے تھے اور ہم نے ان لوگوں کو جو بالکل کمزور شمار کئے جاتے تھے اس سرزمین کے مشرق و مغرب کا مالک بنا دیا جس میں ہم نے برکت رکھی ہے اور آپکے رب کا نیک وعدہ بنی اسرائیل کے حق میں ان کے صبر کی وجہ سے پورا ہو گیا اور ہم نے فرعون اور اسکی قوم کے ساختہ پرداختہ کارخانوں کو اور جو کچھ وہ اونچی اونچی عمارتیں بنواتے تھے، سب کو درہم برہم کر دیا اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر کے پار اتار دیا۔ پس ان لوگوں کا ایک قوم پر گزر ہوا جو اپنے چند بتوں سے لگے بیٹھے تھے، کہنے لگے: اے موسیٰ! ہمارے لئے بھی ایک معبود ایسا مقرر کر دیجئے جیسے ان کے معبود ہیں۔ آپ نے فرمایا: واقعی تم لوگوں میں بڑی جہالت ہے یہ لوگ جسکام میں لگے ہیں یہ تباہ کیا جاۓ گا اور انکا یہ کام محض بے بنیاد ہے۔ فرمایا: کیا اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کو تمہارا معبود تجویز کر دوں؟ حالانکہ اس نے تم کو تمام جہان والوں پر فوقیت دی ہے۔ اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے تمکو فرعون والوں سے بچا لیا جو تم کو بڑی سخت تکلیفیں پہنچاتے تھے، تمہارے بیٹوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوٹ دیتے تھے اور اسمیں تمہارے پروردگار کیطرف سے بڑی بھاری آزمائش تھی۔" (الاعراف: ۱۳۶۔۱۴۱)
    جب حضرت موسیٰ علیہ السلام مصر سے نکلے اور بیت المقدس کی طرف روانہ ہوۓ تو انکا سامنا حیثانی ، فزاری اور کنعانی اقوام کے لوگوں سے ہوا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ ان کافروں کے خلاف جہاد کریں اور انہیں بیت المقدس سے نکال دیں، جسکے بارے میں اللہ پاک نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام سے وعدہ کیا ہے کہ وہ بنی اسرائیل کو ملے گی۔ لیکن قوم نے جہاد سے انکار کر دیا، چنانچہ اللہ پاک نے ان پر خوف مسلط کر دیا اور اسکی سزا میں انہیں چالیس سال کی طویل مدت کے لئے میدانِ تیہ میں بھٹکنے دیا ۔ وہ چلتے رہے، سفر کرتے رہے، ادھر اُدھر آتے جاتے رہے حتٰی کہ چالیس سال بیت گئے کہتے ہیں کہ جو لوگ اس میدان میں داخل ہوۓ تھے وہ سب اس چالیس ساہ دور میں مر کھپ گئے۔ صرف یوشع اور کالب علیہ السلام باقی بچے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    " اےبنی اسرائیل! ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی اور تم سے کوہِ طور کی دائیں طرف کا وعدہ کیا اور تم پر من و سلویٰ اتارا۔ تم ہماری دی ہوئی پاکیزہ روزی کھاؤ اور اس میں حد سے آگے نہ بڑھو ورنہ تم پر میرا غضب نازل ہو گا اور جس پر میرا غضب نازل ہو جاۓ، وہ یقیناً تباہ ہوا۔ ہاں! بیشک میں انہیں بخش دینے والا ہوں جو توبہ کریں، ایمان لائیں، نیک عمل کریںاور راہِ راست پر بھی رہیں۔" (طہٰ: ۸۰۔۸۲)
    اللہ پاک نے انہیں من و سلویٰ عطا فرمایا یہ دونوں من پسند کھانے تھے جو انہیں بلا مشقت حاصل ہوتے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پتھر پر عصا مارنے سے ان کے لئے اللہ پاک کی قدرت سے بارہ چشمے جاری ہو گئے، ہر قبیلے کے لئے ایک چشمہ تھا جس میں سے پہلے تھوڑا تھوڑا پانی جاری ہوتا، پھر وہ میٹھا پانی تیز ی سے بہنے لگتا۔ وہ خود بھی پیتے ، جانوروں کو بھی پلاتے اور ضرورت کے مطابق ذخیرہ بھی کر لیتے۔ گرمی سے بچاؤ کے لئے انہیں بادلوں کا سایہ میسر تھا۔
    یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتیں تھیں جو انہیں حاصل تھیں مگر ان لوگوں نے شکر ادا نہ کیا بلکہ ان میں سے بہت سے افراد بہت جلد ان نعمتوں سے تنگ ا گئے اور ان کے بدلے زمین سے اگنے والی ترکاریاں مانگنے لگے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام انہیں سختی سے تنبیہ کرتے ہوۓ فرمایا کہ تم بہتر چیز کے بدلے ادنٰی چیز کیوں طلب کرتے ہو جو کچھ تم مانگتے ہو وہ تو ہر چھوٹی بری بستی والوں کو حاصل ہے جب تم وہاں جاؤ تو یہ چیزیں تمہیں مل سکتی ہیں لیکن یہاں میں تمہارا مطالبہ پورا نہیں کر سکتا۔
    ان تمام باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں جن کاموں سے منع کیا جاتا وہ وہی کرتے اور باز نہ آتے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حد سے آگے نہ بڑھو نہ بڑھو ورنہ تم پر میرا غضب نازل ہو جاۓ گا ۔ لیکن اس شدید وعید کے ساتھ ان لوگوں کے لئے رحمت کا اور امید کا دروازہ کھلا رکھا کہ جو توبہ کر کے اللہ کی طرف آ جا ئیں اور مردود شیطان کے راستے پر نہ چلیں انہیں اللہ پاک اپنے کرم سے بخش دے گا۔

    [​IMG]
     
  2. Ab Ghafar Jamari
    Offline

    Ab Ghafar Jamari Newbi
    • 18/8

  3. Ahsaaan
    Offline

    Ahsaaan Lover
    • 48/49

    اچھی شئرنگ ہے
    جزاک اللہ
     

Share This Page