1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ No-06


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'History aur Waqiat' started by IQBAL HASSAN, Jan 22, 2016.

History aur Waqiat"/>Jan 22, 2016"/>

Share This Page

  1. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 63/65



    حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ No-06



    حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دیدارِ الہٰی کی خواہش:۔
    ====================================

    اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو خصوصی ملاقات کا شرف اور احکاماتِ شریعت دینے کے لئے کوہِ طور پر چالیس دنوں کے لئے بلا لیا موسٰی ؑ نے وہاں پر دیدارِ ربانی کی خواہش کا اظہار کیا ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

    " اور ہم نے موسیٰ سے تیس رات کی میعاد مقرر کی اور دس (راتیں) اور ملا کر اسے پورے (چالیس) کر دیا، پھر اسکے پروردگار کی چالیس رات کی میعاد پوری ہو گئی۔ اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ میرے (کوہ طور پر جانے کے) بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو جاؤ! ( ان کی) اصلاح کرتے رہنا اور شریروں کے راستے پر نہ چلنا۔ اور جب موسیٰ ہمارے مقرر کئے ہوۓ وقت پر (کوہ طور) پہنچے اور ان کے پروردگار نے ان سے کلام کیا تو کہنے لگےکہ اے میرے پروردگار!مجھے (جلوہ) دکھا کہ میں تیرا دیدار کروں۔ پروردگار نے فرمایا کہ تم مجھے ہر گز نہ دیکھ سکو گے۔ ہاں پہاڑ کیطرف دیکھتے رہو۔ اگر یہ اپنی جگہ قائم رہا تو تم مجھ کو دیکھ سکو گے۔ جب انکا پروردگار پہاڑ پر جلوہ نما ہوا تو ( تجلی انوار ربانی نے) اسکو ریزہ ریزہ کر دیا اور موسیٰ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ جب ہوش میں آۓ تو کہنے لگے تیری ذات پاک ہے اور میں تیرے حضور میں توبہ کرتا ہوں اور جو ایمان لانے والے ہیں ان سب سے اول ہوں۔ (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا: موسیٰ میں نے تم کو اپنے پیغام اور اپنے کلام کے ذریعے سے لوگوں میں ممتاز کیا ہے لہٰذا جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے لے لو اور (میرا ) شکر بجا لاؤ۔ اور ہم نے تورات کی تختیوں میں ان کے لئے ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی۔ پھر( ارشاد فرمایا کہ) اسے مضبوطی سے پکڑے رہو اور اپنی قوم سے بھی کہہ دو کہ ان باتوں کو جو اسمیں (درج ہیں اور) بہت بہتر ہیں پکڑے رہیں۔میں عنقریب تمکو نافرمان لوگوں کاگھر دکھاؤں گا۔ جو لوگ زمین میں ناحق غرور کرتے ہیں، ان کو اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا۔ اگر یہ سب نشانیاں بھی دیکھ لیں، تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر راستی کا رستہ دیکھیں تو اسے (اپنا) رستہ نہ بنائیں اور اگر گمراہی کی راہ دیکھیں تو اسے رستہ بنا لیں۔ یہ اسلئے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے غفلت کرتے رہے۔ اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں اور آخرت کے آنے کو جھٹلایا ان کے اعمال ضائع ہو جائیں گے۔ یہ جیسا عمل کرتے ہیں ویسا ہی ان کو بدلہ ملے گا۔" ( الاعراف: ۱۴۲۔۱۴۷)

    بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تیس دن کے روزے رکھے اور اس دوران میں بالکل کھانا نہ کھایا جب ایک مہینہ مکمل ہو گیا تو آپؑ نے کسی درخت کی چھال چبا لی تاکہ منہ کی مُشک ختم ہو جاۓ پھر اللہ پاک نے مزید دس دن روزے رکھنے کا حکم دیا اور اسطرح کل مدت چالیس دن ہو گئی۔

    جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دیدارِ الٰہی کی خواہش ظاہر کی تو اللہ پاک نے واضح فرمایا کہ آپ اللہ عزوجل کی تجلی برداشت نہیں کر سکتے بلکہ انسان سے زیادہ مضبوط اور بڑی مخلوق یعنی پہاڑ بھی اس قابل نہیں کہ خالق کی تجلی کے سامنے ٹھہر سکے پس جب ان کے رب نے اس پر تجلی فرمائی تو تجلی نے اسے ریزہ ریزہ کر دیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام پہاڑ کی اس کیفیت کو دیکھتے ہی بے ہوش ہو کر گر پڑے۔

    حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسکا حجاب بھی نور ہے۔ اگر وہ اس حجاب کو ہٹا دے تو اسکے چہرہ اقدس کے انوار سے وہ تمام مخلوق جل جاۓ جس تک اسکی نظر پہنچتی ہے۔ ( صحیح مسلم، الایمان، حدیث۱۷۹) انسان کا یہ دنیاوی وجود اللہ پاک کی زیارت کا شرف حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ قیامت کے دن اور جنت میں اللہ کے مومن بندوں کو یہ طاقت دی جاۓ گی کہ وہ دیدارِ الہٰی سے مشرف ہوں جیسے کہ صحیح احادیث میں مذکور ہے۔

    [​IMG]
     
  2. Ab Ghafar Jamari
    Offline

    Ab Ghafar Jamari Newbi
    • 18/8

Share This Page