1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ No-07

Discussion in 'History aur Waqiat' started by IQBAL HASSAN, Jan 22, 2016.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators

    حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ No-07



    بچھڑےکی پوجا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سرزنش:۔
    ======================================

    حضرت موسیٰ علیہ السلام تورات لانے کےلئے جب کوہِ طور پر گئے تو موقع پا کر سامری نے بہت سا زیور پگھلا کر سونا جمع کیا اور اس سے گاۓ کا بت تیار کیا اور پھر اس نے کچھ خاک اس بت میں ڈالی تو وہ گاۓ کے بچھرے کیطرح بولنے لگ گیا اور اسمیں جان پیدا ہو گئی۔ سامری نے بنی اسرائیل میں اس بچھڑے کی پوجا شروع کروا دی اور بنی اسرائیل بھی اس بچھڑے کے پجاری بن گئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور سے واپس تشریف لاۓ تو قوم کا یہ حال دیکھ کر بہت غصے میں آ گئے اور سامری سے پوچھا کہ یہ تم نے کیا کیا؟ سامری نے بتایا کہ میں نے دریا سے پار ہوتے وقت جبریلؑ کو گھوڑے پر سوار دیکھا تھا اور اس گھوڑے کے قدم جس جگہ پڑتے وہاں سبزہ اُگ آتا تھا میں نے اس گھوڑے کے قدم کی جگہ سے کچھ خاک اٹھائی اور وہ خاک میں نے بچھڑے کے بت میں ڈال دی اور یہ زندہ ہو گیا مجھے یہ بات اچھی لگی کہ میں نے جو کیا اچھا کیا۔

    حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اچھا جا!!! تو دور ہو جا۔ اب اس دنیا میں تیری سزا یہ ہے کہ تو ہر ایک سے کہے گا کہ مجھے چھونا مت۔
    یعنی تیری یہ حال ہو جاۓ گا کہ جو کوئی اسکو چھوتا تو اس چھونے والے کو اور سامری دونوں کو سخت بخار ہو جاتا اور انہیں بڑی تکلیف ہوتی۔
    سامری چیخ چیخ کے لوگوں سے کہتا پھرتا کہ میرے ساتھ کوئی نہ لگے، اور لوگ بھی اس سے اجتناب کرتے تاکہ بخار کی تکلیف میں مبتلا نہ ہوں۔ اس دنیا کے عذاب میں گرفتار ہو کر سامری بالکل تنہا رہ گیا اور جنگل میں چلا گیا آخر بڑا **** ہو کر مرا
    حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام سے بھی ناراض ہوۓ کہ جب قوم گمراہ ہو رہی تھی تو آپ میرے پیچھے کیوں نہ آۓ اور مجھے اطلاع کیوں نہ دی ا تو حضرت ہارون علیہ السلام نے کہا کہ قوم میری کسی بات کو نہ مانتی تھی اور مجھے یہ خیال گزرا کہ اگر میں چلا گیا تو آپؑ کہیں گے کہ آپ مجھے اپنا نائب بنا کر گئے تھے تو میں قوم کو چھوڑ کر آپکے پاس کیوں چلا آیا۔
    اس پورے واقعے کا ذکر قرآن پاک میں بھی کیا گیا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    " اور اے موسیٰ! تم نے اپنی قوم سے (آگے چلے آنے میں ) جلدی کیوں کی؟ کہا: وہ میرے پیچھے (آ رہے) ہیں، اور اے پروردگار میں نے تیری طرف (آنے کی) جلدی اسلئے کی کہ تو خوش ہو۔ فرمایا کہ ہم نے تمہاری قوم کو مہارے بعد آزمائش میں ڈال دیا ہے اور سامری نے انکو بہکا دیا ہے۔ اورموسیٰ غم اور غصے کی حالت میں اپنی قوم کے پاس واپس آۓ(اور) کہنے لگے کہ اے میری قوم! کیا تمہارے پروردگار نے تم سے ایک اچھا وعدہ نہیں کیا تھا؟( کیا میری جدائی کی) مدے تمہیں دراز (معلوم) ہوئی یا تم نے چاہا کہ تم پر تمہارے پروردگار کیطرف سے غضب نازل ہو؟ اور (اسلئے) تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا (اسکے) خلاف کیا؟ وہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے اختیار سے تم سے کوئی وعدہ خلافی نہیں کی بلکہ ہم لوگوں کے زیوروں کا بوجھ اٹھاۓ ہوۓ تھے۔ پھر ہم نے انکو (آگ میں) ڈال دیا اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا۔ تو اس نے ان کے لئے ایک بچھڑا بنا دیا۔ جسکی آواز گاۓ کی سی تھی۔ تب لوگ کہنے لگے کہ یہی تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا بھی معبود ہے مگر وہ بھول گئے ہیں۔ کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ وہ انکی کسی بات کا جواب نہیں دیتا اور نہ ان کے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتا ہے۔ اور ہارون نے ان سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ لوگو! اس سے صرف تمہاری آزمائش کی گئی ہے اور تمہارا پروردگار تو اللہ ہے، سو میری پیروی کرو اور میرا کہا مانو۔ وہ کہنے لگے کہ جب تک موسیٰ ہمارے پاس واپس نہ آئیں تو ہم اسی(کی پوجا) پر قائم رہیں گے۔ (پھر موسیٰ نے ہارون سے ) کہا کہ ہارون! جب تم نے دیکھا تھا کہ یہ گمراہ ہو رہے ہیں تو تمکو اس بات سے کس چیز نے روکا کہ تم میرے پیچھے نہ آۓ۔ بھلا تم نے میرے حکم کے خلاف(کیوں) کیا؟ کہنے لگے کہ بھائی میری داڑھی اور سر کو نہ پکڑیے، میں تو اس سےڈرا کہ آپ یہ نہ کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میری بات کو ملحوظ نہ رکھا۔ (پھر سامری سے) کہنے لگے کہ سامری تیرا کیا معاملہ ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے ایسی چیز دیکھی ہے جو اوروں نے نہ دیکھی۔ پس میں نے فرشتے کے نقش پا سے (مٹی کی) ایک مٹھی بھری۔ پھر اسکو (بچھڑے کے قالب میں)ڈال دیا اور مجھے میرے جی نے (اسکام کو) اچھا ظاہر کیا۔( موسیٰ نے کہا) جا تجھ کو دنیا کی زندگی میں یہ (سزا) ہے کہ کہتا رہے کہ مجھے ہاتھ نہ لگانا اور تیرے لئے ایک اور وعدہ ہے (یعنی عذاب کا) جو تجھ سے ٹل نہ سکے گا اور جس معبود کی پوجا پر تو معتکف تھا، اسکو دیکھ ہم اسے جلا دیں گے، پھر اسکی راکھ کو اڑا کر دریا میں پھینک دیں گے۔ تمہارا معبود اللہ ہی ہے جسکے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کا علم ہر چیز پر محیط ہے۔" (طہٰ: ۸۳۔۹۸)
    حضرت موسیٰ علیہ السلام نےیہ واقعہ سن کر تورات کی تختیوں کو پھینک دیا اور اس بچھڑے کو جلا کر اسکی راکھ سمندر میں پھینک دی بائبل میں ذکر ہے کہ پھر حضرت موسٰی ؑ نے قوم سے کہا کہ اب یہ پانی پئو ان میں سے جو شخص بچھڑے سے محبت کرتا تھا اسکے جسم پر سونے کے ذرات ظاہر ہو گئے اور بعد میں جب وہ نادم ہوۓ تو انہوں نے یہ دیکھا کہ وہ گمراہ ہو چکے ہیں تو کہنے لگے اے ہمارے رب! اگر تو نے ہم پر رحم نہ کیا اور ہمیں معاف نہ کیا تو ہم بڑے نقصان میں پڑ جائیں گے ۔ ارشاد ربانی ہے: " اور جن لوگوں نے گناہ کے کام کئے، پھر وہ ان کے بعد توبہ کر لیں اور ایمان لے آئیں تو تمہارا رب اس توبہ کے بعد معاف کر دینے والا ہے، رحم کرنے والا ہے۔" (الاعراف:۱۵۳) مگر اللہ پاک نے بچھڑا پوجنے والوں کی توبہ قبول نہیں کی ، جب تک انہیں سزا نہیں ملی۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: " جب موسٰی نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم! بچھڑے کو معبود بنا کر تم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے، اب تم اسے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع کرو، اپنے کو آپس میں قتل کرو، تمہاری بہتری اللہ کے نزدیک اسی میں ہے۔ پھر اس نے تمہاری توبہ قبول کر لی۔ وہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔" (البقرۃ: ۵۴) لہٰذا انہوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا جس میں بہت سے لوگ مارے گئے جنکی تعداد تقریباً ستر ہزار تھی۔ اس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام نے اللہ پاک سے دعا کی کہ اے ہمارے روردگار! بنی اسرائیل قتل ہو رہے ہیں۔ اے اللہ! انہیں بچا لے تو اللہ پاک نے قتل کا حکم ختم فرما دیا اور بقیہ کی توبہ قبول فرما لی۔ جو قتل ہوۓ وہ شہید کہلاۓ اور بقیہ کیطرف کفارہ بنے۔
    جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کا غصہ ختم ہوا تو انہوں نے تورات کی تختیوں کو اٹھا لیا اور اسکے مضامین میں اپنے رب سے ڈرنے والوں کے لئے ہدایت اور رحمت تھی۔
    ستر اسرائیلیوں کو کوہِ طور پر لے جانا:۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے ستر بہترین افراد کو منتخب کیا اور ان سے کہا کہ تم اللہ کیطرف چلو اور اس سے اپنے اور اپنی باقی ماندہ قوم کے گناہوں کی معافی مانگو، روزے رکھو اور اپنے جسم اور کپڑوں کو پاک رکھو پس وہ سب حضرت موسیٰ علیہ السلام کیساتھ اللہ پاک کے حکم سے کوہِ طور پہنچے اور کہنے لگے کہ ہم اللہ پاک کا کلام سننا چاہتے ہیں ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ میں اللہ پاک سے اجازت مانگوں گا اور جب موسٰیؑ پہاڑ کے قریب گئے تو پورے پہاڑ کو بادلوں نے چھپا لیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام آگے بڑھے اور بادل کے اندر داخل ہو گئے اور دوسروں سے فرمایا: قریب آ جاؤ۔
    جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ہم کلامی کا شرف حاصل ہوتا تھا تو آپکے چہرہ مبارک پر ااسقدر روشن نور ا جاتا تھا کہ کوئی انسان آپکی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا تھا، چنانچہ آپکے اور ان افراد کے درمیان ایک پردہ حائل ہو گی۔ جب یہ حضرات بادل میں داخل ہوۓ تو سربسجود ہو گئے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام پر سے بادل ہٹ گئے تب ان لوگوں نے کہا: " جب تم ہم اپنے رب کو سامنے نہ دیکھ لیں، آپ پر یقین نہ کریں گے۔" ( البقرۃ: ۵۵) اس پر ایک کڑک آواز آئی اور ان کی جانیں جسموں سے نکل گئیں۔ وہ مر گئے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام عجز و نیاز کے ساتھ دعا کرنے لگے ،آپ نے عرض کیا: " اے میرے پروردگار! اگر تجھ کو یہ منظور ہوتا تو اس سے قبل ہی ان کو اور مجھ کو ہلاک کر دیتا۔ کیا تو ہم میں سے چند بیوقوفوں کی حرکت پر سب کو ہلاک کر دے گاَ؟۔ یہ واقعہ تیری طرف سے ایک امتحان ہے۔" (الاعراف:۱۵۵) میں نے قوم سے ستر آدمی چُنے اور جب واپس جاؤں گا تو میرے ساتھ ایک بھی نہ ہو گا پھر میری تصدیق کون کرے گا؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام بار بار پکارتے رہے یہاں تک کہ اللہ پاک نے ان کی روحوں کو واپس لوٹا دیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    [​IMG]
     
  2. Ahsaaan

    Ahsaaan Senior Member

    اچھی شئرنگ ہے
    جزاک اللہ
     

Share This Page