1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ No-09

Discussion in 'History aur Waqiat' started by IQBAL HASSAN, Jan 22, 2016.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators



    حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ No-09



    حضرت موسیٰ علیہ السلام کا حلیہ مبارک اور انکی وفات کا بیان:۔
    ===========================================

    حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ وادئ ازرق سے گزرے تو فرمایا: " یہ کون سی وادی ہے؟" صحابہؓ نے کہا، وادئ ارزق ہے۔ فرمایا (میری نظروں کے سامنے وہ منظر آ گیا ہے) گویا میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ گھاٹی سے نیچے اتر رہے ہیں اور اللہ کے سامنے گڑ گڑاتے ہوۓ بلند آواز سے "لبیک" پکار رہے ہیں۔" ( پھر آپ چلتے رہے) حتیٰ کہ جب ہوشاہ کی گھاٹی پر پہنچے تو فرمایا: " یہ کون سی گھاٹی ہے؟" عرض کیا گیا : ہرشاہ کی گھاٹی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا:" گویا میں یونس بن متیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں، وہ ایک سرخ اونٹنی پر سوار ہیں ، اون کا جبہ زیب تن ہے، ان کی اونٹنی کی مہار کھجور کے پتوں (سے بنی ہوئی رسی) کی ہے اور " لبیک" پکار رہے ہیں۔ ( صحیح مسلم،الایمان: ۱۶۶)
    حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا : " جس رات مجھے معراج ہوئی، میں نے موسیٰ بن عمران علیہ السلام کو دیکھا، وہ لمبے قد کے، گھنگھریالے بالوں والے تھےجیسے کہ شنوءہ قبیلے سے تعلق رکھتے ہوں ۔ میں نے عیسیٰ ابنِ مریم کو بھی دیکھا، وہ درمیانے قد کے، قدرے سرخ و سفید رنگت والے تھے، ان کے بال سیدھے تھے۔" ( مسند احمد: ۱/۲۵۹و صحیح مسلم، الایمان: ۱۶۵)
    حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ملک الموت کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کیطرف ( انکی رو ح قبض کرنے کے لئے) بھیجا گیا۔ جب وہ آۓ تو موسیٰؑ نے ا نہیں تھپڑ مار دیا۔ وہ اپنے رب تعالیٰ کے پاس گئے اور عرض کی:" تو نے مجھے جس بندے کیطرف بھیجا ہے، وہ مرنا نہیں چاہتا۔" اللہ تعالیٰ نے فرمایا:" دوبارہ نکے پاس جائیں اور ان سے کہیں کہ کسی بیل کی پشت پر ہاتھ رکھیں، ان کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آئیں گے، اتنے سال عمر مزید مل جاۓ گی۔" ( ملک الموت نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام پہنچایا۔) آپؑ نے فرمایا:" یارب! اسکے بعد کیا ہو گا؟" اللہ تعالیٰ نے فرمایا: " پھر موت آ جاۓ گی۔" موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:" تب ابھی۔" ( یعنی وفات کا حکم ابھی قبول ہے) اس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ آپکو ارضِ مقدس کے اتنا قریب کر دے جتنی دور پتھر جا سکتا ہے۔ ( اللہ پاک نے یہ درخواست قبول فرمائی اور ارضِ مقدس کے قریب وفات دی۔) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:" اگر میں وہاں ہوتا تو تم لوگوں کو آپ کی قبر مبارک دکھا دیتا جو راستے کے سرخ ٹیلے کے قریب ہے۔" ( صحیح بخاری، احادیث الانبیاء، ۳۴۰۷)
    حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بعض واقعات پیش آنے کی امید تھی اور آپؑ کی خواہش تھی کہ (قوم کو) وہ واقعات آپکی زندگی میں پیش آ جائیں ، مثلاً: میدان تیہ سے نکل کر ارضِ مقدس میں پہنچنا لیکن اللہ کی تقدیر کا یہ فیصلہ تھا کہ آپؑ کی وفات حضرت ہارونؑ کے بعد میدان تیہ میں ہی ہو۔
    حضرت انس بن مالک ؓ سے رویت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:" جب مجھے (معراج کی) رات کو ( مکہ سے بیت المقدس تک) لے جایا گیا، تو میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا۔ وہ سرخ ٹیلے ککے پاس اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔" (مسند احمد:۳/ ۱۴۸)
    بحوالہ قصص الانبیاء

    [​IMG]
     
  2. Ahsaaan

    Ahsaaan Senior Member

    اچھی شئرنگ ہے
    جزاک اللہ
     

Share This Page