1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ No-12

Discussion in 'History aur Waqiat' started by IQBAL HASSAN, Jan 22, 2016.

Share This Page

  1. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 83/98


    حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ No-12



    قوم فرعون کے ایک مومن کا اعلانِ حق:۔
    =========================

    جب فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور انکے ساتھیوں کو دردناک سزائیں دینے کا اعلان کیا تو فرعون کی قوم میں سے ایک مومن نے انہیں نصیحت کرنے کا حق ادا کیا ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    " اور ایک مومن شخص نے، جو فرعون کے خاندان میں سے تھا اور اپنا ایمان چھپاۓ ہوۓ تھا، کہا، کیا تم ایک شخص کو محض اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے اور تمہارے رب کیطرف سے دلیل لے کر آیا ہے؟ اگر وہ جھوٹا ہے تو اسکا جھوٹ اسی پر ہے اور اگر وہ سچا ہے تو جس (عذاب) کا وہ تم سے وعدہ کر رہا ہے، وہ کچھ نہ کچھ تو تم پر آ پڑے گا ۔ اللہ تعالیٰ اسکی رہبری نہیں کرتا جو حد سے گزر جانے والا اور جھوٹا ہو۔ اے میری قوم کے لوگو! آج تو بادشاہت تمہاری ہے کہ اس زمین پر تم غالب ہو لیکن اگر اللہ کا عذاب ہم پر آ گیا تو ہماری مدد کون کرے گا؟ فرعون بولا: میں تو تمہیں وہی راۓ دے رہا ہوں جو خود دیکھ رہا ہوں اور میں تو تمہیں بھلائی کی راہ ہی بتا رہا ہوں۔" ( المومن: ۲۸۔۲۹)
    یہ شخص فرعون کا چچا زاد تھا اور اپنی قوم کے ڈر سے اپنا ایمان خفیہ رکھتا تھا۔ جب فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو شہید کرنے کا اراادہ کیا اور اپنے درباریوں سے اس بارے میں مشورہ کیا تو اس مومن کو خطرہ محسوس ہوا کہ موسیٰؑ کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ چنانچہ اس نے حکمتِ عملی اختیار کی جس میں ترغیب اور ترہیب دونوں پہلو موجود تھے اس نے مشورے اور راۓ کے انداز میں بات کی۔
    اس نے کہاکہ" کیا تم ایک شخص کو محض اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے ؟" یعنی اس بات کا ردِ عمل یہ تو نہیں ہو سکتا کہ تم اسکے قتل کے درپے ہو جاؤ بلکہ اس پر تو برداشت کا مظاہرہ ہونا چاہئیے کیونکہ وہ تمہارے رب کیطرف سے دلیل لے کر آیا ہے اور معجزات ظاہر کئے ہیں۔ " اگر وہ جھوٹا ہے تو اسکا جھوٹ اسی پر ہے" یعنی اسکا نقصان تمہیں نہیں پہنچے گا۔ اور اگر وہ سچا ہےتو اس عذاب سے ڈرو جسکا اس نے کافروں سے وعدہ کیا ہے اس موقع پر یہ کلام انتہائی عقلمندی اور دور اندیشی کا مظہر ہے۔ پھر اس نے انہیں ان کے سلطنت چِھن جانے سے ڈرایا کہ جو سلطنت دین کے مقابل آ کھڑی ہوتی ہے ان لوگوں کی حکومت چھن جاتی ہے اور وہ بے عزت اور **** ہوتے ہیں۔ اور کہا کہ اگر ہم پر اللہ پاک کا عذاب آ گیا تو اسکے مقابلے میں یہ دولت ااور طاقت ہمارے کچھ کام نہ اۓ گی۔
    اس کے جواب میں فرعون نے کہا کہ میں اپنی سمجھ کے مطابق درست بات کرتا ہوں اور میں تمہیں بھلائی کی راہ ہی بتاتا ہوں۔ لیکن فرعون کی یہ دونوں باتیں جھوٹ تھیں کیونکہ وہ دل سے اچھی طرح جانتا تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سچے ہیں اور جو پیغام اللہ پاک کیطرف سے لاۓ ہیں وہ حق ہے لیکن اپنے تکبر، کفر اور ظلم کی وجہ سے اسکے برعکس خیالات کا اظہار کرتا تھا۔
    اس نے کہا تھا کہ " میں تمہیں بھلائی کی راہ بتلا رہا ہوں۔" تو یہ بات جھوٹ تھی کیونکہ وہ تو خود ہدایت پر نہیں تھا بلکہ حماقت، ضلالت اور توہمات میں گھرا ہوا تھا ۔ وہ بتوں کا پجاری تھا اور اپنی جاہل قوم کو بھی اپنا پیروکار بنا لیا ۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    "اور فرعون نے اپنی قوم کو پکار کر کہا کہ اے قوم! کیا مصر کی حکومت میرے ہاتھ میں نہیں ہے اور یہ نہریں جو میرے (محلوں کے) نیچے بہہ رہی ہیں (میری نہیں ہیں؟) کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں اس شخص سے کہیں بہتر ہوں جو کچھ عزت نہیں رکھتا اور صاف گفتگو بھی نہیں کر سکتا۔ اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں اتارے گئے یا فرشتے جمع ہو کر اس کے ساتھ آتے۔ غرض اس نے اپنی قوم کی عقل مار دی اور انہوں نے اسکی بات مان لی۔ بیشک وہ نافرمان لوگ تھے۔ جب انہوں نے ہمیں خفا کیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان سب کو ڈبو چھوڑا اور ان کو گئے گزرے کر دیا اور پچھلوں کے لئے (عبرتناک) مثال بنا دیا۔" (الزحرف: ۵۱۔۵۶)
    " اور وہ جو مومن تھا کہنے لگا کہ اے قوم! مجھےتمہاری نسبت خوف ہے (مبادا) تم پر اور امتوں کی طرح کے دن کا عذاب آ جاۓ (یعنی) نوح کی قوم اور اور عااد اور ثمود اور جو لوگ ان کے پیچھے ہوۓ ہیں، ان کے حال کیطرح( تمہارا حال ہو جاۓ) اور اللہ تو بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا۔ اور اے میری قوم! مجھے تمہاری نسبت پکار کے دن کا خوف ہےجس دن تم پیٹھ پھیر کے بھاگو گے تمکو کوئی اللہ سے بچانے والا نہ ہو گا اور جس شخص کو اللہ گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ اور پہلے یوسف بھی تمہارے پاس نشانیاں لےکر آۓ تھےجو وہ لاۓ تھے تم اسکے متعلق ہمیشہ شک میں ہی رہے یہاں تک کہ جب وہ فوت ہو گئے تو تم کہنے لگے کہ اللہ اسکے بعد کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا۔ اس طرح اللہ اس شخص کو گمراہ کر دیتا ہے جو حد سے نکل جانے والا اور شک کرنے والا ہو۔ جو لوگ بغیر اسکے کہ انکے پاس کوئی دلیل آئی ہو، اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں، اللہ کے نزدیک اور مومنوں کے نزدیک یہ جھگڑنا نہایت ناپسند ہے۔ اسی طرح اللہ ہر منکر، سرکش کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔" (المؤمن: ۳۰۔۳۵)
    فرعون نے اپنے وزیر ہامان کو ایک محل تعمیر کرنے کا حکم دیا ، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    "اور فرعون نے کہا: اے ہامان! میرے لئے ایک محل بنوا تاکہ میں (اس پر چڑھ کر) رستوں پر پہنچ جاؤں (یعنی) آسمان کے رستوں پر، پھر موسیٰ کے الہٰ کو دیکھ لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔ اور اسی طرح فرعون کو اسکے اعمالِ بد اچھے معلوم ہوتے تھے، اسے راستے سے روک دیا گیا تھا اور فرعون کی تدبیر تو بیکار تھی۔" (المؤمن: ۳۶۔۳۷)
    فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دعویِٰ رسالت کو تسلیم نہ کیا اور خود بہت بڑا جھوٹ بولتے ہوۓ کہا:
    "میں تمہارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا۔ سو اے ہامان! میرے لئے مٹی (کی اینٹیں) آگ سے پکا دو، پھر ایک (اونچا) محل بنوا دو تاکہ میں موسیٰ کے الہٰ کی طرف چڑھ جاؤں اور میں تو اسے جھوٹاسمجھتا ہوں۔" (القصص: ۳۸)
    " اور وہ شخص جو مومن تھا اس نے کہا کہ بھائیو! میرے پیچھے چلو میں تمہیں بھلائی کا راستہ دکھاؤں۔ بھائیو! یہ دنیا کی زندگی (چند روز) فائدہ اٹھانے کی چیز ہے اور جو آخرت ہے وہی ہمیشہ رہنے کا گھر ہے۔ جو برے کام کرے گا اسکو بدلہ بھی ویسا ہی ملے گا اور جو نیک کام کرے گا، مرد ہو یا عورت اور وہ صاحبِ ایمان بھی ہو گا تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے۔ وہاں انکو بے شمار رزق ملے گا۔" ( المومن: ۳۸۔۴۰)
    پھر اس نے انکے غلط عقائد کی تردید کی اور انہیں ان کے خوفناک انجام سے ڈراتے ہوۓ کہا:
    "اور اے قوم! میرا کیا (حال) ہے کہ میں تو تمکو نجات کیطرف بلاتا ہوں ااور تم مجھے آگ کیطرف بلاتے ہو۔ تم مجھے اسلئے بلاتے ہو کہ اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس چیز کو اسکا شریک ٹھہراؤں جسکا مجھے کچھ بھی علم نہیں اور میں تمکو غالب اور بخشنے والے کیطرف بلاتا ہوں۔ سچ تو یہ ہے کہ جن کی طرف تم مجھے بلاتے ہو وہ دنیا اور آخرت میں پکارے جانے کے قابل نہیں اور ہمکو اللہ کیطرف لوٹنا ہے اور حد سے نکل جانے والے دوذخی ہیں۔ جو بات میں تم سے کہتا ہوں تم اسے آگے چل کر یاد کرو گے اور میں اپنا کام اللہ کے سپرد کرتا ہوں، بیشک اللہ بندوں کو دیکھنے والا ہے۔" (المؤمن: ۴۱۔۴

    [​IMG]
     
  2. Ab Ghafar Jamari
    Offline

    Ab Ghafar Jamari Champ
    • 18/8

  3. Ahsaaan
    Offline

    Ahsaaan Senior Member
    • 48/49

    اچھی شئرنگ ہے
    جزاک اللہ
     
  4. usama
    Offline

    usama Regular Member
    • 16/8

Share This Page