1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ No-13

Discussion in 'History aur Waqiat' started by IQBAL HASSAN, Jan 22, 2016.

Share This Page

  1. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 83/98


    حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ No-13


    فرعونیوں پر گو ناگوں عذاب اور سمندر میں غرق ہونا:۔
    =================================

    اللہ پاک نے فرعونیوں کیطرف اپنے رسول بھیجے انکے شبہات کا ازالہ کیا اور ترغیب و تر ہیب کے ذریعے سے دلائل واضح کر دئیے لیکن وہ کفر اور اپنی جہالت سے نہ ہٹے ارشادِ پاک ہے:
    " اور ہم ے فرعونیوں کو قحطوں اور پھلوں کے نقصان میں پکڑا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ پھر جب انکو آسائش حاصل ہوتی تو کہتے کہ ہم اسکے مستحق ہیں اور اگر سختی پہنچتی تو موسیٰ اور انکے رفیقوں کی بدشگونی بتاتے۔ دیکھو! انکی بدشگونی اللہ کے ہاں (مقدر) ہے لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔ اور کہنے لگے کہ تم ہمارے پا س کوئی بھی نشانی لاؤ تاکہ اس سے ہم پر جادو کرو مگر ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ سو ہم نے ان پر طوفان اور ٹڈیاں اور جوئیں اور مینڈک اور خون، کتنی کھلی نشانیاں بھیجیں مگر وہ تکبر ہی کرتے رہے اور وہ لوگ تھے ہی گنہگار۔" (الاعراف: ۱۳۰۔۱۳۳)
    یہ سارے عذاب صرف فرعون کی قوم پر آۓ اور بنی اسرائیل ان سے مکمل طور پر محفوظ رہے۔ اس لحاظ سے یہ معجزہ بھی ایک دو ٹوک دلیل تھی کہ یہ سب کچھ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں ظاہر ہو رہا تھا اور قوم فرعون کے ہر فرد کو متاثر کرتا تھا جبکہ بنی اسرائیل کا کوئی فرد اس سے متاثر نہیں ہو تا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیاں پے در پے عذابوں کی صورت میں ظاہر کرنا شروع کر دیں۔ پہلے قحط واقع ہوا، پھر طوفان آیا، ٹڈی، مینڈک جوؤں اور خون کے عذاب آۓ یہ سب الگ الگ نشانیاں تھیں پھر پانی کا طوفان بھیجا پانی پورے علاقے میں پھیل اور پھر وہیں رک گیا وہ نہ کاشتکاری کر سکتے تھے اور نہ کوئی اور کام حتیٰ کہ بھوک کا شکار ہو گئے جب یہ عذاب ان کی برداشت سے باہر ہو گئے تو کہنے لگے:
    "اے موسیٰ! ہمارے لئے اپنے رب سے اس بات کی دعا کیجئے، جسکا اس نے آپ سے عہد کر رکھا ہے۔ اگر آپ اس عذاب کو ہٹا دیں تو ہم ضرور آپکے کہنے سے ایمان لے آئیں گے اور ہم بنی اسرائیل کو بھی (رہا کر کے) آپ کے ہمراہ کر دیں گے۔"
    حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی تو عذاب ختم ہو گیا لیکن کفار نے اپنا وعدہ نہ پورا کیا ۔ تب اللہ پاک نے ان پر ٹڈی کا عذاب بھیج دیا جس نے تمام درخت اور پودے کھا لئے ان لوگوں نے دوبارہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے وعدہ کیا ااور جب عذاب ٹل گیا تو وعدہ توڑ دیا ۔ اسی طرح ہر بار جب عذاب آتا تو وعدہ کرتے اور جب عذاب ٹل جاتا تو مکر جاتے ، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    " جب ان پر کوئی عذاب نازل ہوتا تو یوں کہتے: اے موسیٰ! ہمارے لئے اپنے رب سے اس بات کی دعا کیجئے، جسکا اس نے آپ سے عہد کر رکھا ہے۔ اگر آپ اس عذاب کو ہٹا دیں تو ہم ضرور آپکے کہنے سے ایمان لے آئیں گے اور ہم بنی اسرائیل کو بھی (رہا کر کے) آپ کے ہمراہ کر دیں گے۔ پھر جب ان سے، اس عذاب کو ایک خا ص وقت رک کہ اس تک انکو پہنچنا تھا، ہٹا دیتے تو وہ فوراً عہد شکنی کرنے لگتے پھر ہم نے ان سے بدلہ لے لیا یعنی انکو دریا میں غرق کر دیا۔ اسی سبب سے ہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے اور ان سے بالکل ہی غفلت کرتے تھے۔" ( الاعراف: ۱۳۴۔۱۳۶)
    فرعون اور اسکی قوم توحید کے دلائل اور پیغمبرانہ معجزات سے فیضیاب نہ ہو سکے اور بالآخر انکی سزا کا وقت آ پہنچا ۔ ایک قول کے مطابق اس وقت تک اہلِ مصر میں سے صرف تین افراد ایمان لاۓ تھے فرعون کی بیوی(حضرت آسیہ علیہ السلام)، قوم فرعون کا وہ مومن جسکا قصہ تفصیل سے بیان کیا گیا(فرعون کا چچا زاد) اور وہ شخص جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعونیوں کے فیصلے سے آگاہ کرنے کے لئے شہر کے دوسرے کنارے سے بھاگا آیا تھا اور اس نے کہا تھا:
    "موسیٰ! سردار تیرے قتل کا مشورہ کر رہے ہیں۔ پس تو یہاں سے چلا جا! مجھے اپنا خیر خواہ مان۔" (ا لقصص: ۲۰)
    اللہ پاک نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کو وحی کے ذریعے حکم دیا کہ اپنی قوم کے افراد کی رہائش فرعونیوں سے الگ کر لیں تاکہ جونہی ہجرت کا حکم ملے، سفر کے لئے تیار ہوں ۔ نماز پڑھو اور اپنی مشکلات کے لئے اللہ پاک سے ہی مدد مانگو۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب فرعون کی حد سے بڑھتی ہوئی سرکشی دیکھی تو اپنے رب سے یوں دعا مانگی:
    " اے ہمارے رب! تو نے فرعون اور اسکے سرداروں کو سامان زینت اور طرح طرح کے مال دنیاوی زندگی میں دئیے۔ اے ہمارے رب! (کیا اس واسطے دئیے ہیں) کہ وہ تیری راہ سے گمراہ کر دیں؟ اے ہمارے رب! ان کے مالوں کو نیست و نابود کر دے ااور ان کے دلوں کو سخت کر دے۔ سو یہ ایمان نہ لانے پائیں یہاں تک کہ دردناک عذاب کا دیکھ لیں۔ حق تعالیٰ نے فرمایا: تم دونوں کی دعا قبول کر لی گئی ، سو تم ثابت قدم رہو اور ان لوگوں کی راہ پر نہ چلنا جن کو علم نہیں۔" (یونس:۸۸۔۸۹)
    اللہ پاک نے یہ بددعا قبول کر لی جیسے حضرت نوح علیہ السلام کی بد دعا انکی قوم کے بارے میں قبول فرمائی تھی۔ بنی اسرائیل نے فرعون سے اپنی ایک عید منانے کے لئے شہر سے باہر نکلنے کی اجازت مانگی۔ وہ پسند تو نہ کرتا تھا تاہم اس نے اجازت دے دی۔ چنانچہ بنی اسرائیل نے نکلنے کی تیاری کر لی جو کہ در حقیقت مصر سے ہمیشہ کے لئے چلے جانے کی تیاری تھی۔ یعنی ہجرت کی تیاری۔ بنی اسرائیل فوراً شام کے ملک کی طرف روانہ ہو گئے۔ جب فرعون کو انکے چلے جانے کی اطلاع ملی تو وہ انتہائی غضب ناک ہوا اور فوج کے سرداروں کو حکم دیا کہ فوراً ان کا تعاقب کر کے انہیں گرفتار کریں اور سزا دیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    "اور ہم نے موسیٰ کیطرف وحی بھیجی کہ ہمارے بندوں کو رات کو لے نکلو کہ (فرعونیوں کیطرف سے) تمہارا تعاقب کیا جاۓ گا ۔ لہٰذا فرعون نے شہروں میں نقیب روانہ کئے (اور کہا) کہ یہ لوگ تھوڑی سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب باسازوسامان ہیں۔ تو ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکالا، اور خزانوں اور نفیس مکانات سے (ان کے ساتھ ہم نے) اسی طرح کئے اور ان چیزوں کا وارث بنی اسرائیل کو کر دیاتو انہوں نے سورج نکلتے انکا تعاقب کیا۔ جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے ساتھی کہنے لگے کہ ہم تو پکڑ لئے گئے۔ موسیٰ نےکہا، ہر گز نہیں! میرا پروردگار میرے ساتھ ہے وہ مجھے راستہ بتاۓ گا۔ اس وقت ہم نے موسیٰ کیطرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی سمندر پر مارو تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ایک ٹکڑا (یوں ) ہو گیا (کہ) گویا بڑا پہاڑ اور ہم دوسروں کو وہا ں قریب لے آۓ اور موسیٰ اور انکے ساتھ والوں کو تو بچا لیا تاہم دوسروں کو ڈبو دیا۔ بیشک اس قصے میں نشانی ہے لیکن یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے۔" ( الشعراء: ۵۲۔۶۸)
    فرعون بنی اسرائیل کے تعاقب میں روانہ ہوا اور اپنے بڑے لشکر سمیت ان تک پہنچ گیا۔ اس وقت سورج طلوع ہو رہا تھا دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا اور ظاہراً بنی اسرائیل کے بچنے کا کوئی امکان نہ تھا سامنے سمندر تھا اور پیچھے فرعون کی فوج۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کےساتھ حضرت ہارونؑ اور حضرت یوشیع بن نونؑ بھی تھے جو اس وقت کے اہم قائد اور عالم تھے انہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کی وفات کے بعد نبوت سے سرفراز کیا گیا۔ غرض فرعون کی فوج کو قریب دیکھ کر مومن پریشان ہوۓ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا کہ کیا انہیں یہیں سے گزرنے کا حکم ملا ہے ؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔
    جب فرعون کا لشکر بہت قریب پہنچا اور معاملہ انتہائی نازک ہوا تو اللہ پاک نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو وحی فرمائی کہ اپنا عصا سمندر پر ماریے۔ آپؑ نے عصا مارتے ہوۓ فرمایا: اللہ کے حکم سے پھٹ جا۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ کے سمندر میں راستہ بن گیا اور پانی پہاڑوں کیطرح کھڑا ہو گیا۔ اسے اللہ پاک کی عظیم قدرت نے روک رکھا تھا ۔ اور اللہ کے حکم سے ہوا نے کیچڑ کو خشک کر دیا اور یوں گھوڑوں اور دوسرے جانوروں کے جسم دھنسنے سے محفوظ ہو گئے۔
    اللہ پاک کے حکم سے سمندر کی یہ کیفیت ہوئی تھی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مومنوں کو وہاں سے گزرنے کا حکم دیا یہ ایسا عظیم واقعہ تھا کہ ہر شخص دیکھ کر حیران رہ جاۓ اورمومنوں کو ہدایت نصیب ہو۔ پس مومن خوش ہو کر جلدی جلدی ان راستوں سے گزرنے لگے جب انکا آخری فرد بھی سمندر سے باہر آ چکا، عین اس وقت فرعون کا لشکر سمندر میں بنے ان راستوں میں داخل ہو رہا تھا۔ فرعون وہ منظر دیکھ کر خوفزدہ ہوا اسے یقین ہو گیا کہ یہ اللہ پاک کی قدرت ہے وہ دل میں شرمندہ تھا اور اگے جانے سے رکنا چاہتا تھا لیکن اپنے اکڑ کی وجہ سے اپنے بیوقوف پیروکاروں کو بولا کہ دیکھو کس طرح سمندر نے مجھے راستہ دیا ہے جب اسکی فوج کا اگلا حصہ سمندر سے نکلنے کے قریب تھا تو اللہ پاک نے اپنے کلیم کو وحی کے ذریعے حکم دیا کہ سمندر پر عصا مار دیں اسی وقت سمندر اسی طرح رواں ہو گیا جیسے پہلے ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ سب کافر غرق ہو گئے ایک بھی نجات نہ پا سکا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    "اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے پار کرا دیا، پھر ان کے پیچھے پیچھے فرعون اپنے لشکر کے ساتھ ظلم و زیادتی کے ارادہ سے چلا، یہاں تک کہ جب وہ ڈوبنے لگا تو بولا: میں ایمان لاتا ہوں کہ اس (الہٰ) کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لاۓ ہیں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔ (جواب دیا گیا) کیا اب(ایمان لاتا ہے)؟ اور پہلے تو سرکشی کرتا رہا اور مفسدوں میں شامل رہا۔ سو آج ہم صرف تیری لاش کو نجات دیں گے تاکہ تُو ان کے لئے نشانِ عبرت ہو جو تیرے بعد ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ بہت سے آدمی ہماری نشانیوں سے غافل ہیں۔"
    حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب فرعون نے کہا: میں ایمان لاتا ہوں کہ اس (الہٰ ) کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لاۓ ہیں ( اس وقت کےبارے میں) جبریل علیہ السلام نے مجھے فرمایا: محمد(ﷺ) ! کاش آپ دیکھتے جب میں نے سمندر کی کیچڑ لے کر فرعون کے منہ میں ٹھونس دی تھی، اس ڈر سے کہ اس پر اللہ کی رحمت نہ ہو جاۓ۔" ( مسند احمد، جلد اول،۲۴۰)
    بنی اسرائیل کا فرعون کی موت کا یقین نہ آیا۔ تب سمندر نے اللہ کے حکم سے اسکی لاش پانی کی سطح پر یا ایک ٹیلے پر اچھال دی اور اسکی وہ قمیص اسکے جسم پر تھی جسے لوگ پہچانتے تھے تاکہ انہیں اسکی ہلاکت کا یقین ہو جاۓ اور وہ اللہ کی قدرت کا مشاہدہ کر لیں۔

    [​IMG]
     
  2. Ab Ghafar Jamari
    Offline

    Ab Ghafar Jamari Champ
    • 18/8

  3. Ahsaaan
    Offline

    Ahsaaan Senior Member
    • 48/49

    اچھی شئرنگ ہے
    جزاک اللہ
     

Share This Page