1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ No-14

Discussion in 'History aur Waqiat' started by IQBAL HASSAN, Jan 22, 2016.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators


    حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ No-14


    حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کے دربار میں:۔
    ===============================

    اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کو حکم دیا کہ فرعون کے پاس جا کر اسے توحید کا پیغام دیں کہ وہ صرف اللہ واحدہ لا شریک کی عبادت کرے اور بنی اسرائیل کو اپنے قبضے اور تسلط سے آزاد کر دے کہ وہ جہاں چاہیں جا کر اپنے رب کی عبادت کریں اور اسکی توحید پر کاربند رہتے ہوۓ اس سے دعا و التجا میں مشغول ہو جائیں۔ فرعون پر فخر و تکبر کے جذبات غالب آ گئے اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تحقیر کی نظر سے دیکھتے ہوۓ کہا " کیا تو وہی نہیں جسے ہم نے اپنے گھر میں پالا اور طویل عرصہ تک تجھ سے حسنِ سلوک کرتے ہوۓ انعامات کی بارش کئے رکھی؟"
    "اور پھر تو اپنا وہ کام کر گیا جو کر گیا اور تو ناشکروں میں سے ہے۔" (الشعراء)
    یعنی تو نے قبطی(قوم فرعون کے) آدمی کو قتل کیا اور ہمارے پاس سے بھاگ گیا اور ہمارے احسانات کا منکر ہوا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا:
    " یہ کام میں نے اس وقت کیا تھا جب میں بھولے ہوۓ لوگوں میں سے تھا" (الشعراء، ۲۰) یعنی اس وقت مجھ پر وحی نازل نہیں ہوتی تھی۔ " پھر تم سے خوف کھا کر میں تم میں سے بھاگ گیا۔ پھر مجھے میرے رب نے حکم ( وعلم) عطا فرمایا اور مجھے اپنے پیغمبروں میں سے کر دیا۔" (الشعراء، ۲۱)
    فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر پرورش اور حسن سلوک کا جو احسان جتلایا تھا اسکا جواب دیتے ہوۓ انہوں نے فرمایا: " مجھ پر تیرا کیا یہی وہ احسان ہے جسے تو جتا رہا ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے؟" ( الشعراء، ،۲۲) یعنی تو نے مجھ ایک فرد پر جو احسان کیا ہے، کیا تو اپنے اس ظلم کے مقابلے میں اسکا ذکر کر سکتا ہے کہ تو نے ایک پوری قوم کو غلام بنا کر اپنی خدمت میں لگا رکھا ہے؟
    اللہ پاک نے سورۃ الشعراء کی مندرجہ ذیل آیات میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا مکالمہ بیان کیا ہے ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    "فرعون نے کہا، رب العالمین کیا ہوتا ہے؟ موسیؑ نے فرمایا: وہ آسمانوں اور زمین اور انکے درمیان تمام چیزوں کا رب ہے، اگر تم یقین رکھنے والے ہو۔ فرعون نے اپنے اردگرد والوں سے کہا: کیا تم سن نہیں رہے؟ موسیؑ نے فرمایا: وہ تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادا کا پروردگار ہے۔ فرعون نے کہا: (لوگو!) تمہارا یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے، یہ تو یقینا" دیوانہ ہے۔ موسیٰؑ نے فرمایا: وہی مشرق و مغرب کا اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب ہے، اگر تم عقل رکھتے ہو۔" (الشعراء، ۲۳۔۲۸)
    فرعون اللہ پاک کے وجود کا انکار کرتا تھا اور دعویٰ کرتا تھا کہ (نعوذ باللہ ) وہ خود معبود ہے اس کے اس اعلان کا ذکر قرآنِ پاک میں کچھ یوں ہے۔ " اے درباریو! میں تو اپنے سوا کسی کو تمہارا معبود نہیں جانتا۔" ( القصص، ۳۸) ایک اور جگہ ذکر ہوا : " تم سب کا سب سے بلند و بالا رب میں ہی ہوں۔" (النازعات،۲۴)
    وہ یہ سب محض ہٹ دھرمی کی بنیاد میں کہہ رہا تھا حالانکہ اسے معلوم تھا کہ وہ ایک بندہ ہے اور کسی اور کے سایہ ربونیت میں ہے اور اللہ ہی خالق ہے اور سچا معبود ہے۔ لیکن وہ دلائل کے میدان میں شکست کھا چکا تھا اسے اسکے شبہات کا واضح جواب مل چکا تھا اور اب اسکے پاس عناد اور ضد کے سوا اللہ پاک کے وجود سے انکار کی کوئی وجہ نہ تھی اوراس نے اپنی بادشاہت، اقتدار اور اختیارات کا رعب ڈالنا چاہا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    " فرعون کہنے لگا: (سن لے!) اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قیدیوں میں شامل کر لوں گا۔ موسیٰؑ نے کہا: اگرچہ میں تیرے پاس کوئی کھلی چیز لے آؤں تو بھی؟ فرعون نے کہا: اگر تُو سچوں میں سے ہے تو اسے پیش کر۔ آپ نے اسی وقت اپنی لاٹھی (زمین پر) ڈال دی، جو اچانک زبردست اژدھا بن گئی اور اپنا ہاتھ کھینچ نکالا تو وہ بھی ااس وقت دیکھنے والوں کو سفید چمکیلا نظر آنے لگا۔" ( الشعراء،۲۹۔۳۳)
    یہ دو معجزے ہیں جن سے اللہ پاک نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مدد فرمائی، یعنی عصا اور ید بیضا۔ لیکن ان سب سے بھی فرعون کو کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ کفر پر اڑا رہا۔ اس نے ان معجزات کو جادو قرار دیا اور انکا مقابلہ جادو کے ذریعے سے کرنا چاہا۔ اس نے اپنے ملک کے ان تمام جادوگروں کو جمع کرنے کے لئے آدمی بھیج دئیے جو اسکی رعیت میں شامل تھے لیکن اسکے نتیجے میں حق کی حقانیت مزید پختہ ہو گئی۔

    ۔۔۔ بحوالہ قصص الانبیاء

    [​IMG]
     
  2. Ahsaaan

    Ahsaaan Senior Member

    Jazak Allah
    ____________
     

Share This Page