1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ No-17


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'History aur Waqiat' started by IQBAL HASSAN, Jan 22, 2016.

History aur Waqiat"/>Jan 22, 2016"/>

Share This Page

  1. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 63/65


    حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ No-17


    حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر:۔
    ========================

    حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے سسر کی دس سال تک خدمت کی اور جب مدت پوری ہو گئی تو اپنی زوجہ محترمہ اور گھر والوں سمیت مصر کی طرف روانہ ہوۓ۔ راستے میں رات ہو گئی ، رات تاریک اور سرد تھی، وہ راستہ بھول کر معروف راہ سے ہٹ گئے۔ ان حالات میں آپکو طور کے دامن میں آگ روشن نظر آئی آپ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، "ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے، بہت ممکن ہے کہ میں وہاں سے کوئی خبر لاؤں۔" یعنی وہاں جو کوئی ملے اس سے راستہ پوچھ لوں یا آگ کا کوئی انگارا لاؤں تاکہ تم سینک لو۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ آگ صرف حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نظر آئی تھی ان کے اہل کو نہیں کیونکہ وہ آگ اصل میں نور تھا جسے ہر کوئی نہیں دیکھ سکتا۔ ارشادِ ربانی ہے:
    "کیا آپ کو موسیٰ کا قصہ معلوم ہے؟ جب اس نے آگ دیکھ کر گھر والوں سے کہا: تم ذرا سی دیر ٹھر جاؤ۔ مجھے آگ دکھائی دی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ میں اسکا کوئی انگارہ تمہارے پاس لاؤں یا آگ کے پاس رہنمائی میسر ہو۔" (طہٰ، ۹۔۱۰)
    سورہ نمل کی آیت ۷ میں بھی اس بات کا ذکر کیا گیا ہے الغرض جب حضرت موسیٰ علیہ السلام وہاں گئے تو وہاں سے واقعی ایک عظیم خبر اور بے مثال روشنی اور رہنمائی لے کر لوٹے۔ اللہ پاک کا ارشاد ہے:
    "پس جب وہ وہاں پہنچے تو اس بابرکت زمین کے دائیں کنارے کے درخت میں سے انہیں آواز دی گئی: اے موسیٰ! یقینا" میں ہی اللہ ہوں، سارے جہانوں کا پروردگار۔ (القصص، ۳۰)
    اسی بات کا ذکر سورۃ طہٰ میں یوں ہوا ہے:
    "جب وہ وہاں پہنچے توآواز دی گئی: اے موسیٰ! یقینا" میں ہی تیرا پروردگار ہوں، تو اپنی جوتیاں اتار دے کیونکہ تو پاک میدان طویٰ میں ہے اور میں نے تجھے منتخب کر لیا ہے، اب جو وحی کی جاۓ اسے کان لگا کر سن! بیشک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ پس تو میری ہی عبادت کر اور میری یاد کے لئے نماز قائم رکھ۔ قیامت یقینا" آنیوالی ہے جسے میں پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر شخص کو وہ بدلہ دیا جاۓ جو اس نے کوشش کی ہو۔ پس تجھے اس (کے یقین) سے کوئی ایسا شخص روک نہ دے، جو اس پر ایمان نہ رکھتا ہو اور اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو، ورنہ تو ہلاک ہو جاۓ گا۔" (طہٰ، ۱۱۔۱۶)
    بائبل میں لکھا ہے کہ روشنی اس قدر شدید تھی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی نظر ختم ہو جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا، چنانچہ آپؑ نے آنکھوں پر ہاتھ رکھ لئے۔

    بحوالہ قصص الانبیاء

    [​IMG]
     
  2. Ab Ghafar Jamari
    Offline

    Ab Ghafar Jamari Newbi
    • 18/8

  3. Ahsaaan
    Offline

    Ahsaaan Lover
    • 48/49

    اچھی شئرنگ ہے
    جزاک اللہ
     

Share This Page