1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا حج

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, Feb 1, 2016.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators

    حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا حج

    حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ماہ ذوالقعدہ کے آخر میں بروز جمعرات غسل فرماکر تہبند مبارک و چادر شریف زیب تن فرمائی، مسجد نبوی شریف میں نماز ظہر ادا فرمانے کے بعد مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کی جانب روانہ ہوئے، مدینہ طیبہ سے آگے چھ میل کے فاصلہ پر اہل مدینہ کی میقات ذوالحلیفہ پر احرام باندھا، دو رکعت نماز ادا فرمائی ، حج قِران کی نیت سے تلبیہ پڑھا اور اپنی مبارک اونٹنی قصواء پر سوار ہوکر بآواز بلند تلبیہ پڑھا۔

    چار ذی الحجۃ کی نماز فجر مقام ??ذی طوی?? میں ادا فرمائی پھر غسل فرماکر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور چاشت کے وقت مسجد حرام شریف میں تشریف لائے۔

    جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم حجراسود کے سامنے تشریف لائے تو حجر اسود پر دست مبارک رکھ کر اس کو بوسہ دیا اس کے بعد کعبۃ اللہ شریف کا طواف فرمایا۔

    پہلی تین چکروں میں آپ نے رمل فرمایا اور باقی چار چکروں میں رمل کے بغیر طواف فرمایا۔

    حجر اسود کو کبھی آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے لب ہائے مبارک سے بوسہ دیا، کبھی استلام فرمایا یعنی دست مبارک سے اشارہ فرماکر دست مبارک کو چوما اور کبھی اپنے عصائے مبارک سے اشارہ فرماکر اس کو بوسہ دیا۔



    طواف کے بعد آپ نے مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت نماز ادا فرمائی، پھر حجر اسود کا استلام فرماکر صفا کی جانب روانہ ہوئے، صفا و مروہ کی سعی فرمائی چونکہ آپ کا یہ حج ،حج قِران تھا اور آپ کے ساتھ قربانی کے جانور تھے اس لیے ادائی عمرہ کے بعد آپ نے احرام نہیں کھولا۔

    حج کا پہلا دن



    ذوالحجہ کی آٹھویں تاریخ بروز جمعرات حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم منیٰ تشریف لے گئے اور جمعرات کی ظہر سے جمعہ کی فجر تک پانچ نمازیں وہیں ادا فرمائیں



    حج کا دوسرا دن



    اور نویں ذوالحجہ بروز جمعہ طلوع آفتاب کے بعد منٰی سے روانہ ہوکر عرفات تشریف لائے۔

    مسجد نمرہ کے پاس آپ کے لیے خیمہ نصب کیا گیا آپ نے اس خیمہ میں قیام فرمایا۔

    زوال آفتاب کے بعد اپنی مبارک ناقہ قصواء پر سوار ہوکر بطن وادی میں تشریف لائے۔

    اس مقام پر حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے عظیم ترین تاریخ ساز خطبہ ارشاد فرمایا ۔

    پھر ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ ظہر کے وقت میں نماز ظہر و عصر کی امامت فرمائی ۔

    نماز کے بعد جبل رحمت کے دامن میں غروب آفتاب تک دعائیں اور اذکار کرتے ہوئے وقوف فرمایا ۔



    غروب آفتاب کے بعد مزدلفہ روانہ ہوئے ۔ وہاں ایک اذان ،ایک اقامت کے ساتھ عشاء کے وقت میں مغرب و عشاء کی امامت فرمائی ۔

    کچھ دیر استراحت فرمانے کے بعد فجر تک دعا و ذکر میں مشغول رہے ۔



    حج کا تیسرا دن





    نماز فجر کے بعد وقوف فرمایا ?طلوع آفتاب سے کچھ پہلے منٰی کی طرف روانہ ہوئے ۔

    منٰی میں جمرۂ عقبہ کی رمی فرمائی ۔

    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منٰی میں بھی ایک طویل خطبہ ارشادفرمایا،قربانی ادا کی ۔

    جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اونٹ ذبح فرمانے کی غرض سے تشریف فرما ہوئے تو اونٹوں کی حالت قابل دید تھی وہ بذات خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں لپکتے ہوئے مچلتے ہوئے آرہے تھے کہ سب سے پہلے حضور اپنے دست کرم سے ہمیں ذبح فرمائیں۔ (مشکوۃ المصابیح ۔ج1۔ص232) ?



    موئے مبارک کی تقسیم:



    قربانی کے بعد جب حلق کروانے کاموقع آیاتو دونوں جہاں میں رب کی نعمتیں تقسیم فرمانے والے حبیب اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے سرانور کی دائیں جانب اشارہ فرمایاحجام نے دائیں جانب حلق کرنے کی سعادت حاصل کی ،جو صحابہ کرام حاضر خدمت تھے آپ نے اُنہیں موئے مبارک عطافرمائے پھر ارشاد فرمایا دوسری جانب حلق کرو اور فرمایا ابوطلحہ کہاں ہے ؟ پھر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو وہ موئے مبارک عطافرمائے۔(مسلم شریف ج 1 ص421) علاوہ ازیں حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا:صحابہ کرام کے درمیان ان موئے مبارک کوتقسیم کر دیں۔ (مسلم شریف ج1 ص421)

    سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کاکرم با لائے کرم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے موئے مبارک شیفتگان جمال نبوی میں بنفس نفیس عنایت فرمائے اور تقسیم کرنے کا حکم بھی فرمایا۔

    طواف زیارت کے لئے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے۔ نماز ظہر مکہ معظمہ میں ادا فرمائی ۔



    حج کا چوتھا،پانچواں اور چھٹا دن:



    منٰی تشریف لائے ، منٰی میں 13! تک قیام فرمایا ۔ ہردن، تینوں جمرات کی رمی فرماتے رہے ۔

    13! کو مکہ مکرمہ تشریف لائے ، طواف وداع کے بعد مدینہ منورہ کا قصد فرمایا ۔

     
  2. subhan allah
     
  3. naponnamja

    naponnamja Superior Member

Share This Page