1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

آثار اولیاء کے فیوض و برکات

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, Feb 1, 2016.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators


    آثار اولیاء کے فیوض و برکات

    اولیاء کرام اللہ تعالی کے محبوب بندے ومقربان بارگاہ ہوتے ہیں ،اللہ تعالی یہ گوارا نہیں کرتا کہ کوئی شخص انہیں کسی قسم کی اذیت پہنچائے یا ان کی شان میں نامناسب الفاظ کہے ، اللہ تعالی اولیاء کرام کو تکلیف دینے والوں کے خلاف جنگ کا اعلان کرتا ہے ،جیساکہ صحیح بخاری شریف میں حدیث قدسی ہے : مَنْ عَادَى لِى وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ ۔۔۔ترجمہ : جو شخص میرے کسی ولی سے دشمنی کرے تومیں اس کے خلاف جنگ کا اعلان کرتاہوں ۔﴿ صحیح بخاری شریف ،کتاب الرقاق، باب التواضع ،حدیث نمبر:6502﴾

    اولیاء کرام وبزرگان دین کے آثار سے برکت حاصل کرنے کے بارے میں بعض لوگ گفتگو کرتے ہیں او رکہتے ہیں کہ اولیاء اللہ کے لباس کی تعظیم کی جاتی ہے اس سے کیا فائدہ ہونے والا ہے ؟

    ذہن وفکر میں پیدا ہونے والے اور دل کو الجھنوں کا مرکز بنانے والے ان جیسے وساوس وخیالات کا حضرت ابوالحسنات سیدنا محدث دکن حضرت سید عبداللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری قدس سرہ العزیزنے نہایت ہی آسان اسلوب میں ازالہ فرمایاہے چنانچہ تفسیر سورئہ یوسف میں آیت کریمہ فلماان جاء البشیر القاہ علی وجہہ فارتد بصیرا ۔

    ترجمہ: جب خوشخبری سنانے والا آپہنچا اس نے وہ قمیص حضرت یعقوب علیہ السلام کے چہرے پر ڈال دی تو اسی وقت ان کی بینائی لوٹ آئی۔ ﴿سورة یوسف:96 ﴾ کے تحت بزرگان دین کے لباس اور دیگر آثار سے برکت حاصل ہونے پر استدلال کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں ۔

    ??صاحبو! لباس کی صحبت کا یہ اثر ہے تو لباس والے کی صحبت کا کیا اثر ہوگا اس کوخود سمجھ لیجئے ، اس آیت کریمہ سے اولیا ء اللہ کی اور نیکوں کی صحبت کا مفید ہونا معلوم ہوا ، نئی تعلیم یافتہ لوگ کثر ت سے اور پرانے لوگوں میں وہابی لوگ اولیا اللہ کے لباس کی برکت کا انکار کرتے ہیں۔

    اس آیت سے معلوم ہوا کہ ان کا خیال غلط ہے اولیا ء ا للہ کے لباس کی برکت کا انکا رنہیں ہوسکتا مشاہدہ سے بھی برکت ثابت ہے ۔

    حدیث:۔ حضرت رسو ل اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو اپنا ایک کپڑا عنایت فرمایا تھا انہوں نے اس کواپنے کفن کے واسطے رکھا تھا اور وصیت کی تھی کہ اس کو میرے کفن میں شریک کرنا ۔

    حدیث :۔ ایک مرتبہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کے بال تقیسم فرمائے تے جس کوحضرات صحابہ ؓ نے بڑے ادب او راہتمام سے محفوظ رکھاتھا ۔

    ایک صاحب کا تجربہ ہے ان کوایک بزرگ نے چھینٹ کا جھبہ دیا تھا فرماتے ہیں میں اس کو پہنتا تو جت تک بدن پر رہتا کسی گنا ہ صغیرہ وکبیرہ کا وسوسہ تک نہ آتا تھا، پہلے تو میں اس کوا تفاقی امر سمجھا لیکن جب باربار پہننے کے بعد یقین ہوگیا کہ یہ اس لباس کی برکت ہے??۔﴿تفسیرسورئہ یوسف ص285﴾

    اولیاء اللہ کی دشمنی پراللہ کا اعلان جنگ

    اولیاء کرام اللہ تعالی کے محبوب بندے ومقربان بارگاہ ہوتے ہیں ،اللہ تعالی یہ گوارا نہیں کرتا کہ کوئی شخص انہیں کسی قسم کی اذیت پہنچائے یا ان کی شان میں نامناسب الفاظ کہے ، اللہ تعالی اولیاء کرام کو تکلیف دینے والوں کے خلاف جنگ کا اعلان کرتا ہے ،جیساکہ صحیح بخاری شریف میں حدیث قدسی ہے : مَنْ عَادَى لِى وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ ۔۔۔ترجمہ : جو شخص میرے کسی ولی سے دشمنی کرے تومیں اس کے خلاف جنگ کا اعلان کرتاہوں ۔(صحیح بخاری شریف ،کتاب الرقاق، باب التواضع ،حدیث نمبر:6502) حضرت محد ث دکن رحمۃ اللہ علیہ ولایت کے درجات اور اولیاء اللہ کی اقسام بیان کرنے کے بعد حدیث قدسی کے حوالہ سے فرماتے ہیں۔

    ??میں میرے دوست کو اذیت پہونچانے والے کے خلاف اعلان جنگ کردیتا ہوں بعض دفعہ اللہ تعالی اپنے دوستوں کا امتحان ان کے مخالفین او ردشمنوں کے ذریعہ فرماتے ہیں ، مگر پھر بہت جلد مخالفین پر غضب نازل ہونے لگتا ہے ، یہ نہ سمجھو کہ ہم نے بزرگوں کی مخالفت کی لیکن ہمارا کچھ نہ بگڑا، اولیاء اللہ کو ستانا کبھی خالی نہیں جاتا ۔

    ﴿اللہ تعالی کا حلم تیرے ساتھ لطف ونرمی کا معاملہ کرتا ہے لیکن جب تو حدسے بڑھ جاتا ہے تو پھر تجھے وہ رسوا کردیتا ہے﴾??﴿مواعظ حسنہ ج۱ ص54﴾

    اولیاء اللہ کی بے ادبی سے خاتمہ خراب ہوتا ہے

    حضرت محدث دکن علیہ الرحمہ نے اولیاء اللہ کی بارگاہوں میں جانے والے راستے کی بھی بے ادبی کرنے پر سخت تنبیہ فرمائی اور برے خاتمہ سے ڈرایا چنانچہ فرماتے ہیں: میرے دوستو! ایک اور وجہ بتلاتا ہوں کہ جس سے خاتمہ خراب ہو تا ہے۔ سنو! اولیاء اللہ کے ساتھ بے ادبی کرنے سے بھی خاتمہ خراب ہوتا ہے۔یاد رکھو! آج کل یہ بھی شروع ہو گیا ہے کہ اولیاء اللہ کے ساتھ بڑی بے ادبی ہورہی ہے معلوم نہیں ان کا خاتمہ کیسا ہوتا ہے۔ایک صاحب نے مجھ سے کہا حضرت یوسف صاحب اور شریف صاحب کی درگاہ کے سامنے جو سڑک ہے اس پر سے بھی گزرنا نہیں چاہئے ،اندر درگاہ میں جانا تو بُرا ہے ہی اس سڑک پر چلنا بھی برا ہے۔

    افسوس افسوس اولیاء اللہ کی یہ قدر ہے آپ کے پاس!خدا کے دوستوں کے ساتھ یہ معاملہ ہے ، یہ حال ہے تو تب کیا حال ہوگا آپ کا ، خیال کرلو اس کو یاد رکھو ہر گز ایسا راستہ اختیار نہ کرنا۔(فضائل رمضان،ص 189)
     
  2. BlackSoul

    BlackSoul Guest

  3. naponnamja

    naponnamja Superior Member

Share This Page