1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

جو محبت کی آگ لگائی ہے وہ بھجآئن بھی آپ

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by Azeem007, Feb 3, 2016.

  1. Azeem007

    Azeem007 Mobile Expert

    جو محبت کی آگ لگائی ہے وہ بھجآئن بھی آپ

    جالندهر کے خیر المدارس میں جلسہ ہوا اور جلسے کے اختتام پر کهانا لگا، دستر خوان پر امیر شریعت مولانا عطا اللہ شاه بخاری رحمہ اللہ بهی تهے انکی نظر ایک نوجوان عیسائی پر پڑی تو اسکو فرمایا
    " بهائی کهانا کها لو"

    عیسائی نے جواب دیا
    "جی میں تو بهنگی ہوں"

    شاه جی نے درد بهرے لہجے میں فرمایا
    "انسان تو ہو اور بهوک تو لگتی ہے"
    یہ کہہ کر اٹهے اور اور اسکے ہاته دهلا کر اپنے ساته بٹها لیا

    وہ بیچارہ تهر تهر کانپتا تها اور کہتا جاتا تها
    "جی میں تو بهنگی ہوں"

    شاہ صاحب نے خود لقمہ بنا کر اسکے منہ میں ڈالا، اسکا حجاب اور خوف کچه دور ہوا تو شاہ صاحب نے ایک آلو اس کے منہ میں ڈال دیا جب اس نے آدها آلو کاٹ لیا تو باقی آدها شاه صاحب نے خود کها لیا، اسی طرح اس نے پانی پیا تو اسکا بچایا ہوا پانی بهی شاه صاحب نے پی لیا

    وقت گذر گیا اور وہ عیسائی کهانا کها کر غائب ہو گیا.. اس پر رقت طاری تهی،وہ خوب رویا اور اسکی کیفیت ہی بدل گئی
    عصر کے وقت وہ عیسائی اپنی نوجوان بیوی اور بچے کو لے کر آیا اور کہا
    " شاہ جی ! جو محبت کی آگ لگائی ہےوہ بجهائیں بهی آپ، اللہ کیلئے ہمیں کلمه پڑها کر مسلمان کر لیں
    اورمیاں بیوی دونوں مسلمان ہوگئے
    وه ادائے دلبری ہو یا نوائے عاشقانہ
    جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ

    (بخاری کی باتیں، ص 29.30 ) ​
     
  2. BlackSoul

    BlackSoul Guest

  3. Great Brother Keep It up
     
  4. naponnamja

    naponnamja Superior Member

Share This Page