1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

ايک پرندہ اور جگنو

Discussion in 'Baat Cheet' started by ғσяυм gυяυ, May 31, 2013.

  1. ايک پرندہ اور جگنو

    سر شام ايک مرغ نغمہ پيرا
    کسی ٹہنی پہ بيٹھا گا رہا تھا
    چمکتی چيز اک ديکھی زميں پر
    اڑا طائر اسے جگنو سمجھ کر
    کہا جگنو نے او مرغ نواريز!
    نہ کر بے کس پہ منقار ہوس تيز
    تجھے جس نے چہک ، گل کو مہک دی
    اسی اللہ نے مجھ کو چمک دی
    لباس نور ميں مستور ہوں ميں
    پتنگوں کے جہاں کا طور ہوں ميں
    چہک تيری بہشت گوش اگر ہے
    چمک ميری بھی فردوس نظر ہے
    پروں کو ميرے قدرت نے ضيا دی
    تجھے اس نے صدائے دل ربا دی
    تری منقار کو گانا سکھايا
    مجھے گلزار کی مشعل بنايا
    چمک بخشی مجھے، آواز تجھ کو
    ديا ہے سوز مجھ کو، ساز تجھ کو
    مخالف ساز کا ہوتا نہيں سوز
    جہاں ميں ساز کا ہے ہم نشيں سوز
    قيام بزم ہستی ہے انھی سے
    ظہور اوج و پستی ہے انھی سے

    ہم آہنگی سے ہے محفل جہاں کی
    اسی سے ہے بہار اس بوستاں کی​
     
  2. Net KiNG

    Net KiNG VIP Member

    Thanks For Sharing
     
  3. Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!

    Thanks For Sharing
    Click to expand...
    Shukriya Visit Karnay Aur Comments Denay K Liye ...
     

Share This Page