1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

اوکھا منڈا ـــــ منیرنیازی

Discussion in 'Tanz o Mzaah' started by BlackSoul, Feb 13, 2016.

  1. BlackSoul

    BlackSoul Guest

    اوکھا منڈا ـــــ منیرنیازی
    مصنف : ممتاز رفیق
    پوسٹ نمبر 1
    وہ ایک شہرِ طلسم تھا۔ جس میں شاہ زادے نے، اپنے افسوں سے، ایک عمارتِ عالی شان قائم کررکھی تھی۔ اِس عمارت کا مکیں، رہتے ہوئے، خودشاہ زادہ، ایک اساطیری حیثت اختیار کر گیا تھا۔ شہر میں اُس کے حوالے سے، عجب ناگوار کہانیاں گردش کرنے لگی تھیں۔ کوئی کہتا، وہ خود پسندی کے روگ میں مبتلا ہے، توکوئی گمان کرتا کہ وہ خوف زدہ ہے۔ تو کوئی گرہ لگاتاکہ وہ اپنے ماضی میں دفن ہے، اور کوئی، دور کی کوڑی لاتا اور حکم لگاتا کہ وہ دنیائے خیال کا باشندہ ہے۔ حالانکہ اِن تمام افواہوں میں کوئی سچائی نہ تھی۔ بات محض اتنی تھی کہ شاہ زادہ، حسن کا شیدائی تھا اور ایسی خوبصورت دنیا میں زندگی گزارنے کا تمنائی، جیسے خود اُس کے خواب و خیال مجسم ہوگئے ہوں، اور یہ دنیا جس میں وہ زندگی کرنے پر مجبور تھا، اُس میں بدصورتی اور بدہئیتی، اس کے چاروں اُور، رقصاں تھی۔ شاہ زادے کے لیے یہ ایک نوع کی سزا تھی ،جسے اُسے جھیلنا ہی تھا۔ اپنی اِس بپتا کو سہل کرنے کیلیے، اُس نے آئینہ اختیار کیا، اور اپنے عشق میں مبتلا ہو کر، زندگی کی ڈور کاٹنے لگا۔
    اِس مردِ خدا کی، شاہ زادگی کا معاملہ بھی عجب تھا۔ دراصل، اُسے اپنا شمار، اُس خلقتِ عام میں ہونا، ہرگز گوارہ نہ تھا، جو اُس کے اردگرد کی فضا کو، اپنے تنفس کی بُوسے، مکدّر کیے ہوئے تھی، لیکن اِس ماحول سے چھٹکارہ تو اِسی صورت میں ممکن تھا، اگر وہ اِن عامیوں سے دور، کسی بلند سنگھاسن پر، براجمان ہوتا۔ اِس شخص کی وجاہت،متاث ر کن ڈیل ڈول اور شخصیت سے اظہارپاتے وقار نے مل جل کے، اُسے تیقّن کی اُس منزل پر پہنچا دیا ۔جہاں آدمی بلاجھجک، کوئی بھی فیصلہ صادر کرگزرتاہے۔ سُو، منیر نیازی نے، شہزادگی اختیار کی اور کسی شاہ زادے کے سے طور و اطوار اختیار کر کے، اپنے گرد خوش بو کا حصار قائم کرنے کے جتن کرنے لگا۔ اِس کوشش میں اُس کی یادداشت سے، وہ چھوٹی سی لائبریری بھی محو ہوگئی ۔جو اُس نے کسبِ معاش کے لےے، منٹگمری شہر کی ایک تنگ گلی کی ،مختصر سی دکان میں، کبھی قائم تھی۔
    منیر نیازی نے ،اپنے تئیں تو ایک نیا شخصی جاہ و جلال اختیار کر لیا تھا ،لیکن اِس میں مسئلہ یہ تھا ،کہ حیثیت کی تبدیلی، ہمیشہ سے دو طرفہ قبولیت کی متقاضی رہی ہے۔ جب کے یہاں تو، ایک ہمارا شہزادہ ہی، اپنی بات منوانے پر تُلا ہوا تھا۔ منیر نیازی کے اِس اصرار کے خلاف ایک خاموش ناپسندیدگی فضا میں ڈولنے لگی۔ جس نے شدّت اختیار کر کے، آخرِکار انکار کا روپ دھار لےا۔ آدمی کا تنہا رہ جانا، اُس کے دن ہی بے رنگ نہیں کرتا، اُس کی راتیں بھی درہم برہم کردیتا ہے، اور اگر سکون نہ ہو، تو نیند کہاں؟ اور جب نیند کی دیوی بھٹک جائے،تو خواب بھی رستا بھول جاتے ہیں، اور ہمارے شاہ ذادے کا کل اثاثہ تو بس، خواب ہی تھے۔ اُس نے جیسے تیسے، یہ کڑا وقت کاٹا اور آخر ناچار ہو کے، اُس طلسم کو کام میں لایا، جو اُس کی تنہائیوں نے اُسے تعلیم کیا تھا۔ یہ جو قصر ِباکمال ہم دیکھتے ہےں ۔یہ اُن ہی اسماءہوش رُبا کا ثمر ہے۔ اِس پُر شکوہ عمارت کا نظارہ، آپ پر ایک قسم کی ہیبت طاری کردیتا ہے۔ اِس کے کشادہ اور بلند و بالا منقّش دروازے پر دستک دینے سے قبل، آپ کو بہت سا وقت، اپنے حواس وہمّت اور ارادوں کو مجتمع کرنے میں صرف کرنا پڑتا ہے۔ آپ کو کھٹکا رہتا ہے کہ کہیں، آپ کی ناوقت کی یہ دراندازی، ہواؤں سے برسرپیکار شاہ زادے کے اشتعال میں شدّت کا باعث نہ بن جائے اور ناگاہ آپ پر، بھتنے، بدروح یا مکروہ مخلوق ہونے کا گمان نہ کر لیا جائے۔ خواب نگر کا شاہ زادہ منیرنیازی، اپنی اقلیم میں، کسی ناپسندیدہ انسان? منظر? پیڑ? پرند یا پگڈنڈی تک کو جگہ دینے کا روادار نہیں تھا۔ اگر اُسے کسی چیز میں من چاہی خو ش نمائی نظر نہ آئے تو یا تو ،اُسے حقارت سے رد کردیتاہے، یا خیال کی رنگ برنگی پنّیاں چپکا کے اُنھیں اپنے لیے قابلِ برداشت بنانے کی کوشش کرتاہے۔اگر یہ ممکن نہ ہوتا، توایک چھوٹاسا خواب تشکیل کر کے اُس کی جگہ لا رکھتاہے۔ اِس عمارت کی تیاری میں اُس نے اپنی کتنی ہی راتیں اور دن سیاہ کر ڈالے ۔ اب یہی اُس کی پناہ گاہ تھی۔ جہاں وہ دنیا جہاں کی بدصورتی سے منہ موڑے خود اپنی نظارگی میں گم رہا کرتا، جب اِس مشغلے سے جی سَیر ہوجاتا، تودنےائے خےال سے کسی کو طلب کر کے، کسی عَالمِ نو ایجاد کا قصّہ لے بیٹھتا اور اگر یہ نہیں تو اپنے کسی دورپار کے دشمن پر کونے میں آدم قد آئینے نصب تھے، جنھیں کچھ اِس ترکیب سے آویزاں کیا گیاتھا کہ وہ محض ، حسن کو منعکس کیا کرتے۔ یہ عمارت دراصل منیر نیازی کے خوابوں کا جنگل تھا۔ جس میں ہر طرف دھنک ایسی رنگا رنگی تھی اور یہ آئینے وہ راتیں ،جن میں اُس کے خواب نمود پاتے۔ اِس جنگل میں ایسا لگتا تھا ، جیسے بہار نے دوام حاصل کر لیا ہو ۔یہاں کے چرند پرند کی خوش رنگی اور آوازیں، حسن اور نغمے تخلیق کیا کرتے، اور پائیں باغ کی مہک، منیر نیازی کے مشامِ جاں کو معطر رکھتی ۔ اُس باغ کی ہفت رنگ بِےلّوں سے لٹکتے انگوروں کے خوشے، کہ جن کا ہر دانہ، جیسے آبِ آسودہ کا ایک جام جہاں خیز تھا۔جنھیں محض آنکھوں میں بسا کے ہی ہمارے شاہ زادے کے قدم لڑکھڑانے لگتے اور آنکھوں میں گلابی اُترآتی، اور عمارت کے اَن گنت کمرے، جن کے شمار کرنے میں آدمی کو ہندسے کی عاجزی باور آئے، اور کہ جن میں سے ہر ایک کی سجاوٹ دل فریب اور منفرد، اور اِس سامانِ آرام و عیش میں حسن و نزاکت کا مرقّع دوشیزہِ فتنہ خیز، جس کی محض ایک جھلک ، آدمی کو دیوانہ بنادے اور لطف یہ کے ہر کمرے میں ایک سے بڑھ کے ایک پُرکشش اور دل آرام اور جاں سوز حسینائیں، اپنی اپنی آگ میں دھکی ہوئیں ،کہ انھیں شاہ زادے کی قربت فراغت سے نصیب نہیں ۔ یہاں تووہی، ایک انار سو بےمار کا معاملہ ہے، اگر وہ اُن میں سے کسی ایک سے ملاقات کی فرصت پاتا بھی ہے تو بس گھڑی بھر کی ،اور ےہ لمحہِ اختلاط اُس دکھیاری کے آتشِ شوق کو اور سوا کر جاتا ہے۔ اِدھر منیر نیازی ہے کہ اپنے لفظ و خیال کا پٹارا حواس پر بار کیے۔ اپنی زندگی کی تلخیوں اور ناکامیوں اور ناآسودگیوں سے آنکھیں چُرائے ، رستا بتانے والے ستارے کی رہ نمائی میں، ماہِ منیر کا تصور کیے سفر کی رات کاٹتا جاتا ہے۔ وہ خوب آگاہ ہے کہ کچھ کوس پرے اُس بے وفا کا شہرہے جو اُس کی راہ کی دیوار بنے گا۔
    لیکن یوں آنکھیں چرا لےنے سے حقیقت کہاں بدلتی ہے۔ ہر یکم کو ایک منحوس دستک اُس کے تمام کےے دھرے پر پانی پھیر دیتی ہے، اور اُسے کچھ نہیں سوجھتا کہ اِس بار کچھ دن کی مہلت کے لیے مالکِ مکان کو کیوں کر آمادہ کیا جائے۔ منیر نیازی، مشاعروں میں خواہ کتنا ہی تہلکہ مچاتا ہو۔ ادب دوست اُس کے اشعار پر کتنا ہی سرکیوں نہ دُھنتے ہوں۔ مگر علاج کی غرض سے معالج تک پہنچنے کے لیے تو جیب کا بھاری ہونا ازبس ضروری ہوتا ہے اور مشاعرے بازی سے کس شاعر نے اتنی چاندی کمائی، کہ اُسے اتنی فراغت نصیب ہو کہ اُس کا چولہا بھی روشن رہے اور اُس کے وابستگان کی دوا دارو بھی سہولت سے چلتی رہے اور وہ ملبوساتی معاملات و مشکلات سے بھی چنداں پریشاں نہ ہوتا ہو اور اس کی نسلِ آئندہ آبرو مندی سے، علم سے بھی آراستہ ہورہی ہو۔یہ تو وہ چند ضرورتیں ہیں،جن سے آدمی کا ہر پَل کا واسطہ ہے۔
    اور منیر نیازی جیسا خواب ذدہ! اُس کے مطالبات تو اِس سے کہیں سوا ہوں گے۔ سب سے بڑھ کے بنتِ انگور ہے کہ اگر وہ میسرنہ ہو توخواب کیسے تشکیل پائیں، شام کےسے مہکے؟ تو اب، اگر منیر نیازی خواب نہ دیکھے تو کیا مر جائے؟ سُو وہ خواب دیکھتا ہے اور خوب دیکھتاہے۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اُس کی زندگی ایک مسلسل خواب ہے اور اپنے خوابوںمیں ہمارے شاہ زادے کو جو آسودگی اور اطمینان اور تن آسانی حاصل ہے ،یہ دراصل اُس کے اپنے تخیل کی زرخیزی ہے۔ مگر اتنا بھی کسی کو کب مرغوب ہوا۔ ہمارا شہزادہ اچھا بھلا ،اپنی خوابوں کی نگری میں مست و مگن تھا کہ میلی نگاہوں کا ہدف ٹھہرا، اور وہ عمارت بھی زمیں بوس ہوئی، جہاں اِس جنم جلے نے پناہ لے رکھی تھی۔
    جب اُس نے چھے رنگین دروازوں والی اِس عمارت کو خیرباد کہا اور اپنی دراز قامت اور سرخ و سفید رنگت اور خوب رُوئی لیے، لباسِ عالی شان زیب تن کیے، پھرتا پھراتا مال روڈ کی پاک ٹی ہاؤس کی دروازے پر آیا تو بدصورتی اور بلاؤں اور بھتنوں اور پچھل پیریوں کا ایک انبوہ کثیر وہاں موجود تھا۔ پاک ٹی ہاؤس میں ہفتہ وار تنقیدی نشست میں پوری مستعدی سے جُگت بازی جاری تھی۔ میں نے یہیں منیر نیازی کو پہلی بار دیکھا۔ چوڑی ماتھی پر مٹی مٹی سی سلوٹوں کاجال اور ایک چمک، جو اُس کی ظفر مندی پر دلیل تھی، سلیقی سی کاڑھی گئی مہین گھنی بال اور سرور کی بوجھ سی مندی مندی درمیانی آنکھیں، جن میں مستی تیر رہی تھی، اور بھاری پپوٹی، گویا وہ صبح و شام غرقِ مئے ناب رہنے کی عادی تھی، اور ننھی منّی سی ناک، جس کی نتھنے خاصی کشادگی رکھتی تھی اور مناسب سادہانہ اور پتلی پتلی ہونٹوں سی جھانکتی، زردی مائل دانتوں کی آزاد صفاچٹ دمکتا چہرہ، اور لفظوں کا ٹوٹ ٹوٹ کر ادا ہونا، اور سانس کی ساتھ فضا میں بکھرتی بنتِ انگور کی ناگوار سی بو، اور تندرست و توانا جسم، اور لمبے چوڑے ہاتھ پاؤں، اور بدن پر کڑھا ہوا بوسکی کا کُرتا، اورلٹّھی کی چٹک مٹک کرتی شلوار، اور جگ مگ کرتے کُھسّے اپنی بہار دکھا رہے تھے۔
    منیر نیازی کے اندر کا دیہاتی ہمک ہمک کر اپنے اظہار کو مچل رہا تھا ۔لیکن وہ ایک نہایت متاثرکن اور اثرانداز ہونی والی شخصیت تھی۔ میں اُس کی وجاہت سے مرعوب، ٹھٹکا ہوا کھڑا تھا ناگاہ ایک پُرجوش سرگوشی سنائی دی،? ارے بابا! یہ تو منیر نیازی ہی، آؤ ملتے ہیں۔? یہ پروفیسر حسن علی رضوی تھی۔ جنھیں ہم سب بابا رضوی کہہ کر مخاطب کیا کرتے تھے، اور مَیں اُن ہی کی میزبانی میں اِن دنوں لاہور میں تھا۔ بابا رضوی پُر اسرار علوم کی ایک بڑی آدمی ہیں لیکن انھیں حیران کن حد تک، ادیبوں اور شاعروں سی دل چسپی تھی۔ شاید اِن دونوں علوم کی ڈانڈے کسی سرے پر جا کےجڑ جاتے ہیں۔ میں ابھی گومگو کی کیفیت میں ہی تھا کہ بابا رضوی نے منیر نیازی سی اپنی انگشتری اتارنے کو کہا۔ منیر نیازی اِس بے ڈھب فرمائش پر لخطہ بھر کو ٹھٹکا اور پھر جانے کیا سوچ کی انگوٹھی اتار، بابا رضوی کی حوالی کی۔ بابا نے منیر نیازی کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بڑے اعتماد سے سوال کیا۔ ?منیر صاحب !آپ کون سی خوش بو پسند کرتے ہیں؟?
    ?خوش بو؟? منیر نے کچھ نہ سمجھنے کی انداز میں بابا کی بات دھرائی پھر بے دھیانی سے بولا۔ ?رات کی رانی، مجھی یہی خوش بو پسند ہے۔? بابا منہ ہی منہ میں کچھ بدبدائے اور پھر انگشتری پر پھونک مار کی اُسے منیر نیازی کی طرف بڑھا دیا۔ لیجیے، رات کی رانی، صبح تک لطف لیتے رہیے۔? منیر نیازی نے الجھی ہوئی نظروں سے بابا کو دیکھتے ہوئے انگوٹھی کو سونگھا تو مارے حیرت کے اُس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔
    یہ بابا رضوی کا پرانا پینترا تھا۔ وہ جس سے متاثر ہوتے اُسے حیران کرنے کے لیے اپنا یہی چٹکلا آزماتے تھے۔ اِدھر منیر نیازی، پاک ٹی ہاؤس کی دروازے کی طرف رخ کیے تقریباً دہاڑ رہا تھا
     

Share This Page