1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

سورۃالفاتحہ کا جمال وجامعیت

Discussion in 'History aur Waqiat' started by Sadia Naz, Jul 2, 2016.

  1. Sadia Naz

    Sadia Naz Banned

    عوذ باللّٰہ من الشیطن الرجیم، بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
    الحمدللّٰہ رب العلمین الرحمن الرحیم مٰلک یوم الدین ایاک نعبد وایاک نستعین اھدناالصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم غیرالمغضوب علیھم ولاالضالین (آمین)
    سب تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، بڑامہربان نہایت رحم والا ہے، انصاف کے دن کا حاکم ہے، اے پروردگار ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں، ہم کو سیدھا راستہ چلا، ان لوگوں کے راستہ پر جن پر تو اپنا فضل و کرم کرتا رہا، نہ ان کے جن پر غصہ ہوتا رہا اور نہ گمراہوں کا۔
    ایک بے مثال شہ پارہ
    یہ سورۃ آسمانی معجزات کا ایک لعلِ بے بہا اور قرآن مجید کی آیاتِ بیّنات کا ایک بے مثال شہ پارہ ہے، اگر ساری دنیا کے ذہین اور ساری قوموں کے ادیب وانشاء پرداز، ماہرین نفسیات، معلمینِ اخلاق اور روحانی پیشوا یکجا ہو کر کوئی ایسا مضمون تیار کرنا چاہیں جو تمام انسانی طبقات کے لئے ان کی ضرورتوں اور خواہشات کے اختلاف کے باوجود کافی ہواور وہ اس کے ذریعہ اپنی عبادتوں میں اپنے مافی الضمیرکو مکمل طور پر ادا کر سکیں تو وہ سورئہ فاتحہ جیسا مضمون تیار نہیں کر سکتے جو ہر انسانی گروہ اور فرد کی تسکین کے لئے کافی ہے?اس سورۃ کے متعلق ارشاد بانی ہے:
    ولقد اتینک سبعامن المثانی والقرآن العظیم (حجر:۸۷)
    اوربالیقین ہم نے آپ کو( وہ) سات آیتیں دیں (جو) مکرر( پڑھی جاتی ہیں) اور قرآن عظیم( دیا)
    ??حمد??بہترین وسیلہ ہے
    ??الحمدللّٰہ رب العلمین?? جو شکر و تعریف کا جامع کلمہ ہے اور ان معجزانہ اور بلیغ کلمات میں سے ہے جن کا کسی اور زبان میں صحیح ترجمہ بے حد مشکل بلکہ ناممکن ہے۔
    ??حمد?? ہی وہ بہترین وسیلہ ہے جس کے ذریعہ ایک وفاشعار اور محسن شناس بندہ اپنی دعاومناجات کا آغاز اور اس مقام محمود اور قیام و سجود( نماز) کا افتتاح کرسکتا ہے۔
    پھر نمازی یہ محسوس کرتا ہے کہ جس رب کی وہ حمد و ثنا بیان کررہا ہے اور جس کی عبادت میں مشغول ہے، وہ صرف کسی قبیلہ اور قوم، کسی خاندان اور برادری اور کسی ملک و وطن کارب نہیں، بلکہ?? رب العٰلمین?? ہے۔
    دو وحدتوں کا اعلان
    یہ انقلاب آفریں اور نیاعقیدہ ان تمام مصنوعی اور خود ساختہ تقسیموں کے خلاف اعلانِ جنگ ہے جنہوں نے انسانیت پر ظلم عظیم کیا ہے، اس طرح مسلمان دووحدتوں کا اعلان کرتا ہے اور ان ہی دونوں وحدتوںپرانسانی معاشرہ کے امن و سکون کی بنیاد ہے اور ان ہی دونوں ستونوں پر اسلام انسانیت کی تعمیر نوکاکام انجام دیتا ہے، ایک نوع انسانی کے خالق و صانع کی وحدت اور ایک نسل انسانی کے بانی و مورث کی وحدت، اس طرح ر نگ و نسل اور ملک ووطن کی تفریق کے بغیر نسل انسانی کی وحدت ثابت ہوتی ہے، اس لئے کہ ہر انسان دوسرے انسان سے دوہرا رشتہ رکھتا ہے ایک روحانی اور حقیقی طورپر، وہ یہ کہ ان سب کا رب ایک ہے! دوسرے جسمانی و ثانوی طورپر ، وہ یہ کہ وہ سب ایک باپ( آدم) کی اولاد ہیں?!
    یاایھاالناس اتقواربکم الذی خلقکم من نفس واحدۃ وخلق منھا زوجھا وبث منھما رجالا کثیرا ونساء واتقوااللّٰہ الذی تساء لون بہ والارحام ان اللّٰہ کان علیکم رقیبا( سورہ نسائ:۱)
    ??اے لوگو! اپنے پروردگار سے تقویٰ اختیار کرو جس نے تم( سب)کو ایک ہی جان سے پیدا کیااو راسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں سے بکثرت مرد اور عورتیں پھیلا دئیے اور اللہ سے تقویٰ اختیار کرو جس کے واسطے تم ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور قرابتوں کے باب میں بھی( تقویٰ اختیار کرو) بیشک اللہ تمہارے اوپر نگران ہے۔??
    یاایھاالناس انا خلقنکم من ذکر وانثیٰ وجعلنکم شعوبا وقبائل لتعارفوا ان اکرمکم عنداللّٰہ اتقکم ان اللّٰہ علیم خبیر( حجرات:۱۳)
    ??اے لوگو! ہم نے تم( سب) کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور مختلف قومیں اور خاندان بنا دئیے ہیں کہ ایک دوسرے کو پہچان سکو، بیشک تم میں سے پرہیز گار اللہ کے نزدیک معزز تر ہے، بے شک اللہ خوب جاننے والا ہے، پورا خبردار ہے۔??
    اس حکم اور اصول کی شرح و تفصیل میں رسول اللہﷺ نے فرمایا:
    ?? اللہ تعالیٰ نے جاہلیت کا تعصب اور آباء واجداد کا فخر تم سے دور فرمادیا ہے، اب صرف(دوقسم کے لوگ ہیں) پرہیز گار مسلمان یابد نصیب فاسق وفاجر، سب انسان آدم کے بیٹے ہیں اور آدم مٹی سے پیدا کئے گئے تھے، کسی عربی کو عجمی پر فضیلت حاصل نہیں مگر تقویٰ کے ساتھ۔??(ترمذی)
    صفت رحمت کا استحضار
    نمازی اللہ تعالیٰ کی ان بہترین صفات کریمہ میں سے جن پر وہ پہلے ہی ایمان لاچکا ہے، سب سے پہلے اس کی صفت رحمت کا استحضار کرتا ہے(الرحمٰن الرحیم) اس لئے اس موقع اور محل کے لئے اس سے بہتر صفت کوئی اور نہیں ہو سکتی، یہ وہ موقعہ ہے جب مسلمان خشوع وعبادت، دعاوابتہال، توبہ وانابت اور احتیاج و فقر کا استحضارکرتے ہوئے خدا کے حضور سر بسجود ہوتا ہے،یہ اُمید اور خوش گمانی کا موقع ہے نہ کہ نااُمیدی وبدگمانی کا۔
    اس کے بعد وہ آخرت اور جزاء وسزا کا دن (مٰلک یوم الدین) یاد کرتا ہے ۔ وہ دن جس میں اللہ تعالیٰ کی حکومت مطلقہ اور اقتدار اعلیٰ اپنی پوری شان کے ساتھ جلوہ گر ہوگا اور کسی بادشاہ، امیر اور وزیر کو اس کے حضور میں دم مارنے کا یارانہ ہوگا???لمن الملک الیوم للّٰہ الواحد القھار?? آج کے روز کس کی حکومت ہے؟بس اللہ واحد و غالب ہی کی ہے۔( سورئہ مؤمن:۱۶)
    اس وقت وہ اپنے دل میں آخرت کے ایمان کو از سر نوتازہ کرتا ہے ، جو ہر خوف، باز پرس کے ڈر اور نفس اور ضمیر کی نگرانی کاسرچشمہ ہے، ایک مسلمان کو جو ترغیبات سے بھری ہوئی دنیا میں رہتا ہے اس ایمان اور یقین کی جو شدید ضرورت ہے، اس کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔
    پھر وہ عربی زبان کے (جس میں قرآن مجید نازل کیا گیا اور جس کو نماز کی عالمی اور سرکاری زبان قرار دیا گیا) پورے زور کلام اور بلیغ انداز میں کہتا ہے کہ ?? وہ نہیں عبادت کرتا کسی کی سوائے اللہ کے اور نہیں مدد چاہتا کسی سے سوااس کے??
    ??ایاک نعبدوایاک نستعین??
    (جاری ہے)
     
  2. BlackSoul

    BlackSoul Guest

  3. FahadIqbal25

    FahadIqbal25 Well Wishir

    Nice sharing
     
  4. FahadIqbal25

    FahadIqbal25 Well Wishir

Share This Page