1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

سات ستمبر ایک تاریخی د

Discussion in 'History aur Waqiat' started by Sadia Naz, Jul 2, 2016.

  1. Sadia Naz

    Sadia Naz Banned


    سات ستمبر کو پاکستان کے مسلمانوں نے ملک بھر میں یومِ ختم نبوت کو انتہائی تزک واحتشام سے منایا۔۔۔ یہ دن پوری دنیا کے مسلمانوں کیلئے بالعموم اورپاکستانی قوم کیلئے بالخصوص اس لئے تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔۔۔ کیونکہ39سال قبل7ستمبر1974ء کو قومی اسمبلی نے لاہوری و قادیانی مرزائیوں کے خلاف ایک تاریخی قرار دادمنظور کرتے ہوئے۔۔۔ انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا۔۔۔ قرآن و حدیث کی رو سے حضرت محمد کریمﷺ اللہ کے لاڈلے اور آخری نبی ہیں۔۔۔ اللہ پاک نے ختم نبوت کا تاج محمد کریمﷺ کے سرمبارک پر سجا رکھا ہے۔۔۔ اور مذہب اسلام کی تعلیمات کے مطابق جو شخص حضورﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرے گا۔۔۔ وہ دجال، کذاب اورمرتدہوگا۔۔۔
    مرزا غلام احمد قادیانی وہ دجال تھا کہ جس نے فرنگی سامراج کی زیر سرپرستی نبوت کادعویٰ کیا تھا۔۔۔برصغیر کے شاطر انگریزوں کو۔۔۔ ایک ایسے شخص کی ضرورت تھی۔۔۔ جو ان کے ایجنڈے کے مطابق امت مسلمہ میں نفاق کے بیج بونے کی کوشش کرے۔۔۔ مسئلہ قتال و جہاد قرآن و حدیث کا سمجھایا اوربتایا ہوا مسئلہ ہے۔۔۔ بنی مکرمﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ??جہاد قیامت تک جاری رہے گا??۔۔۔ قرآن مقدس کی تقریبا پانچ سو بیاسی آیاتِ مبارکہ جہادمقدس پر دلالت کرتی ہیں۔۔۔
    سرکار دو عالم ﷺ کے دور میں ابوجہل اینڈ کمپنی ہو۔۔۔ قیصر و کسریٰ ہوں یا روم و شام کے کافر۔۔۔ وہ مسلمانوں کی جہادی یلغار کے سامنے بے بس ہو جایا کرتے تھے۔۔۔یہود ونصاریٰ ، ہندو و مجوس آج بھی۔۔۔ مسلمانوں کی جہادی سوچ اور جہادی میدانوں میں اترنے والے مجاہدین سے سخت خوفزدہ رہتے ہیں۔۔۔ کفریہ طاقتیں خود جتنا مرضی مسلمانوں پر مظالم ڈھائیں۔۔۔ مسلمانوں کے بچوں کا قتل عام کریں۔۔۔ مسلمان خواتین کی بیحرمتی کریں۔۔۔ مسلمانوں کی جائیداد و املاک کو نقصان پہنچائیں۔۔۔ اس کی نہ تو کسی کو فکر ہوتی ہے اور نہ پرواہ۔۔۔ بلکہ مسلمانوں کا قتل عام کرنے والے یہود و نصاریٰ اور ہنود کی سرپرستی دنیا کی عالمی طاقتیں تسلسل کے ساتھ جاری رکھتی ہیں۔۔۔ جس وقت یہود وہنود اپنے اپنے ممالک میں بسنے والے مسلمانوں پر خوفناک مظالم ڈھا رہے ہوتے ہیں تب نہ ان کے دفاع کے لئے کوئی حکومت سامنے آتی ہے۔۔۔ اور نہ ہی ان کے تحفظ کے لئے نام نہاد مہذب دنیا کوئی راست اقدام کرتی ہے۔۔۔
    مظالم سے تنگ آئے ہوئے مظلوم مسلمان جب جہادی راستوں پر چلتے ہوئے اپنے تحفظ کی جنگ شروع کرتے ہیں تو پھر کفار اورمنافقین کی راتوں کی نیندیں حرام ہونا شروع ہو جاتی ہیں، بجائے اس کے کہ کفار و منافقین اپنے کرتوتوں پر توجہ دیتے ہوئے مسلمانوں پر مظالم بند کریں۔۔۔ مسلمانوں کے قتل عام پر معافی مانگیں۔۔۔ الٹا وہ جہاد و قتال کی خوبصورت عبادت کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیتے ہیں۔۔۔ جہاد مقدس کو بدنام کرنے کیلئے کبھی جعلی نبوت کے دعویدار اور کبھی خود ساختہ مذہبی اسکالر کھڑا کرنے کی سازشیں کرتے ہیں۔۔۔ فرنگی سرکار نے بھی مرزا غلام احمد قادیانی ملعون کی سرپرستی اسلئے کی تھی تاکہ اس کے ذریعے جہاد کی منسوخی کا فتویٰ جاری کروایا جائے۔۔۔ اورمرزا غلام احمدقادیانی ملعون نے یہ کام کیا بھی۔۔۔ انگریز کے اس خود کاشتہ پودے نے انگریز کے کہنے پر یہاںتک کہہ دیا کہ
    اب چھوڑ اے دو دوستو جہاد کا خیال
    دین میں حرام ہے اب جنگ اور قتال
    لیکن فرنگی سامراج شاید یہ نہیں جانتا تھا کہ۔۔۔ امت مسلمہ ہزاروں کمزوریوں کے باوجود نہ صرف یہ کہ قرآن کے فلسفہ جہاد و قتال کو تسلیم کرتی ہے۔۔۔ بلکہ محمد کریمﷺ کی ختم نبوت پر بھی کامل یقین رکھتی ہے۔۔۔ اور یہ بھی کہ مرزا غلام احمد قادیانی جیسے دجال جب بھی پیدا ہوں گے۔۔۔ مسلمان امت ان دجالوں کو کذاب ہی سمجھتی رہے گی۔۔۔ 7ستمبر1974 کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے جو قادیانیوں کوغیر مسلم اقلیت قراردیا تھا۔۔۔ تو یہ بھی کوئی اچانک یا حادثاتی طورپر نہ تھا۔۔۔ بلکہ اس کے پیچھے بھی مرزائیوں کے خلاف مسلمانوں کی ایک طویل جدوجہد۔۔۔ اور لامتناہی قربانیوں کا تسلسل تھا۔۔۔ پاکستان بننے سے قبل ہی ہندوستان کے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے مرزا غلام احمد قادیانی کے کفریہ عقائد و نظریات پر اپنے شدید تحفظات بیان کرناشروع کر دیئے تھے۔۔۔ مگر سب سے پہلے علماء ِلدھیانہ نے مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والوں پر کفر کا فتویٰ جاری کیا۔۔۔۔
    علماء لدھیانہ کے اس فتویٰ کی ہندوستان کے تمام مسالک نے تائید و حمائیت کی۔۔۔مولانا ظفر علی خانؒ ہوں شاعر مشرق علامہ محمد اقبالؒ ہوں، محدث العصر مولانا سید محمد انور شاہ ؒ ہوں یا حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ۔۔۔ ہندوستان بھر میں ختم نبوتؐ کے اس باغی ٹولے کے خلاف حق و صداقت کی شمع کو فروزاں رکھا۔۔۔
    پاکستان1947ء میں معرض وجود میں آیا۔۔۔ اور پاکستان کی قومی اسمبلی نے 7ستمبر1974ء کو متفقہ طور پر احمدیوں ، قادیانیوں کو کافر قرار دیا۔۔۔ مگر1947ء سے لیکر 1974ء تک ان درمیانی24سالوں میں قادیانیوں نے انگریزوں اور ہندوؤں کے ساتھ مل کر نومولود ریاست پاکستان کو جس طرح سے عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے سازشیں کیں۔۔۔ وہ کسی بھی ذی شعور سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔۔۔ قادیانیوں نے پاکستان کے اقتدار پر قابض ہونے کے بڑے جتن کئے۔۔۔
    مرزا بشیر الدین محمود قادیانی نے سال1952ء کو احمدیت(قادیانیت) کا سال قرار دیا۔۔۔ اور صوبہ بلوچستان کو احمدی اسٹیٹ بنانے کیلئے ریشہ دوانیاں شروع کر دیں۔۔۔ پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ سر ظفراللہ خان کو بنایا گیا۔۔۔ تو اس نے بجائے پاکستان کی مضبوطی اور استحکام کی بات کرنے کے۔۔۔ پاکستان کی ہی جڑیں کاٹنا شروع کر دیں۔۔۔ آج کچھ گمراہ لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر قادیانی غیر مسلم تھے تو پھر قائد اعظم نے سرظفراللہ خان کو وزیر خارجہ کیوں بنایا تھا؟ ان گمراہوں کو کوئی بتائے کہ قادیانیوں کے دجل اور فریب کا تو ہمیں تو پہلے دن سے ہی یقین تھا۔۔۔ مگرقادیانیوں کوحکومتی سطح پر قومی اسمبلی کے ذریعے پہلی مرتبہ1974ء میں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا، قائداعظم نے اگر کسی حسن ظن کی بنیاد پر سر ظفراللہ خان کو وزیر خارجہ بنا ہی دیا تھا۔۔۔ تو اسے چاہئے تھا کہ وہ ان کی امیدوںاور توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کرتا، مگر یہ بات ریکارڈ کا حصہ ہے۔۔۔
    کہ پاکستان جیسی ایک اسلامی نظریاتی مملکت کا وزیر خارجہ بننے کے باوجود سر ظفراللہ خان نے۔۔۔ پاکستانی بننے کے بجائے??قادیانی?? بننے کو ترجیح دی۔۔۔ اس نے ریاست کے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے قادیانیت کے پرچار کو جاری رکھا۔۔۔ غیر ممالک میں موجود پاکستانی سفارت خانوں کو قادیانیت کی تبلیغ کے لئے استعمال کیا۔۔۔ اس نے اپنی سرکاری حیثیت کے باوجود۔۔۔ احمدیت کو زندہ اور اسلام کو مردہ مذہب قرار دیا(نعوذ باللہ)
    سر ظفراللہ خان کا پاکستان کا وزیر خارجہ بننا پاکستان کی بدقسمتی تھی۔۔۔ کیونکہ۔۔۔ اس شخص نے اتنا بڑا منصب سنبھالنے کے باوجود قادیانی کفر و ذلالت کے خول سے باہر نکلنا گوارا نہ کیا۔۔۔ سوال یہ ہے کہ جو شخص نبی کریمﷺ کی ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتا۔۔۔ اسے پھر مسلمان کہلوانے کا شوق کیوں ہے؟
    جو گروہ یا جماعت۔۔۔ رسول رحمتﷺ کے بعد۔۔۔ کسی ہندوستانی شخص کو ظلی یا بروزی نبی تسلیم کرتی ہے۔۔۔ اس گروہ یا جماعت کو پھر اپنے مسلمان ہونے پر اصرار کیوں ہے؟ جو شخص جماعت یا گروہ جہاد و قتال کو حرام سمجھتے ہیں۔۔۔ یا کہتے ہیں۔۔۔ اس شخص یا جماعت یا گروہ کو پھریہ حق کیسے دیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتے پھریں۔۔۔ 7ستمبر1974ء کوپاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو تھے۔۔۔ ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست سے ہزار ہا اختلاف کے باوجود۔۔۔ ان کی مسئلہ ختم نبوت سے کمٹمنڈ پر انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی۔۔۔??بھٹو کے آخری323 دن?? نامی کتاب میں کرنل رفیع لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ بھٹو کہنے لگے کہ رفیع??یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ہم ان کو پاکستان میں وہ مرتبہ دیں جو یہودیوں کو امریکہ میں حاصل ہے۔۔۔ یعنی ہماری ہر پالیسی ان کی مرضی کے مطابق چلے۔۔۔ اگر ان کے اعتقاد کو دیکھا جائے تو وہ(قادیانی) حضرت محمدﷺ کو آخری نبی نہیں مانتے۔۔۔اور اگر وہ مجھے اپنے آپ کو غیر مسلم قرار دینے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں تو کوئی بات نہیں۔۔۔ پھر کہنے لگے کوئی بات نہیں۔۔۔ میں تو بڑا گناہ گار ہوں۔۔۔ اور کیا معلوم کہ میرا یہ عمل ہی میرے گناہوں کی تلافی ہو جائے۔۔۔ اور اللہ تعالیٰ میرے تمام گناہ اس نیک عمل کی بدولت معاف کر دے??۔۔۔
    7ستمبر1974ء کو ختم نبوت کے باغی گروہ قادیانیوں کے خلاف قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر جو فیصلہ دیا تھا۔۔۔ اس فیصلے سے نہ صرف یہ کہ اس وقت کی حکومت بلکہ پاکستانی قوم کا بھی ملت اسلامیہ میں سر فخر سے بلند ہوا۔۔۔ آج امریکہ، اسرائیل اور لندن کی اشیر باد پر کچھ سیکولر دانش فروش ایک دفعہ پھر قادیانیوں کی حمایت میں کمر بستہ ہیں۔۔۔ اور وہ قادیانیوں کی ایجنٹی کرتے ہوئے۔۔۔ مسلمانوں کے خلاف سازشوںمیں مصروف ہیں۔۔۔ پاکستان کی سر زمین پر کچھ ایسے بدبخت اور خبیث بھی بستے ہیں جوکہ احمدیوں(قادیانیوں) کو دوبارہ سے پھر مسلم فرقہ کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں؟ اور اسلام آباد جیسے شہر میں اجلاسوں پہ اجلاس کر کے یہ مطالبے کر رہے ہیں کہ 7ستمبر1974ء کوپاکستان کی قومی اسمبلی نے لاہوری و قادیانی مرزائیوں کو جو غیر مسلم اقلیت قرار دیاتھا۔۔۔ وہ مذہبی شدت پسندوں کے دباؤ پر کیا جانے والا ایک سیاسی فیصلہ تھا۔۔۔ لہٰذا۔۔۔۔7ستمبر1974ء کے فیصلے کو کالعدم قرار دیکر ۔۔۔ قادیانیوں کو مسلم فرقہ تسلیم کیا جائے۔۔۔ امریکہ اور برطانیہ کے ان گماشتوں کے اس قسم کے غیر منصفانہ اور متعصبانہ مطالبوں کی بدولت پاکستان کے مسلمانوں میں بے چینی کی فضا پائی جاتی ہے۔۔۔ پاکستان کے حکمرانوں اوربالادست قوتوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ7ستمبر1974ء کا دن مسلمانوں کیلئے انتہائی خصوصیت کاحامل دن ہے، اس دن نبی کریمﷺ کی عزت و حرمت کو قانونی طور پر تحفظ حاصل ہوا تھا۔۔۔ پیارے پیغمبرﷺ کی ختم نبوتؐ کا پرچم بلند ہوا تھا۔۔۔ اگر یہود و نصاریٰ اور ان کے غلاموں کے دباؤ میں آکر کسی نے اس فیصلے کو چھیڑنے کی کوشش کی تو۔۔۔ پاکستان کے کروڑوں مسلمان۔۔۔ شدید ترین احتجاج پر مجبور ہو جائیںگے۔۔قادیانی چوہوں کو چاہئے کہ وہ اپنے باطل نظریات سے تائب ہو ​
     
  2. BlackSoul

    BlackSoul Guest

  3. FahadIqbal25

    FahadIqbal25 Well Wishir

    nice sharing
     
  4. FahadIqbal25

    FahadIqbal25 Well Wishir

Share This Page