1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

اسرائیل کا حقیقی

Discussion in 'History aur Waqiat' started by Sadia Naz, Jul 2, 2016.

  1. Sadia Naz

    Sadia Naz Banned

    ??غزہ?? میں جنگ بندی اور حماس کی فتح عظیم والے معاہدے کے بعد بھی محمد الضیف کا خوف تاحال اسرائیل کے اعصاب پر شدت سے سوار رہے۔ اس ہنستے اسرائیل کے سب سے بڑے اخبار میں ایک دلچسپ رپورٹ شائع ہوئی ہے جس کا عنوان ہے ??اسرائیل کا حقیقی حکمران??
    تجزیہ نگار نے اس مضمون میں کئی سروے، جائزوں ،تاثرات اور واقعات سے یہ ثابت کیا ہے کہ اسرائیل کے عوام جتنا محمد الضیف کی باتوں اور اعلانات پر یقین رکھتے ہیں اتنا اپنے حکمرانوں،فوجی اداروں کی باتوں کا اعتبار نہیں کرتے۔??اگر محمد الضیف کہے کہ وہ کچھ کرنے والا ہے اور اس کے بر خلاف اسرائیل کے تمام ادارے سیکیورٹی کا یقین دلاتے رہیں ایک اسرائیلی کچھ ہونے کے خوف میں ہی مبتلا رہے گا تا وقتیکہ الضیف اسے اپنی زبان سے ہی امن دینے کا اعلان کر دے۔ لہٰذا اصلی حکمران وہی ہے جس کا حکم اسرائیل پر چلتا ہے???یہ ہیں اس تجزیہ نگار کے الفاظ?
    تو آئیے اس اصلی ??حکمران?? فقیر کے کچھ حالات کا تذکرہ کرتے ہیں:
    ??الضیف?? جن کا اصلی نام ??محمد دیّاب المصری?? اور کنیت ??ابو خالد?? ہے، خان یونس کے ایک مہاجر کیمپ میں 1965؁ء میں پیدا ہوئے۔ان کا اصلی خاندانی علاقہ ??قبیبہ?? ہے جو مقبوضہ فلسطین کا ایک معروف قصبہ ہے۔ان کے خاندان کو اسرائیلی قبضے کے بعد 1945؁ء میں وہاں سے ہجرت کرنا پڑی۔مختلف مہاجر کیمپوں سے ہوتا ہوا یہ خاندان خان یونس کی بستی میں وارد ہوا اور یہاں اس انتہائی غریب گھرانے کے ایک کمرے پر مشتمل نامکمل تعمیر اور ٹین کی چھت والے گھر میں اس بچے کی ولادت ہوئی جو آج ??اسد الاسلام ?? کے لقب سے پورے فلسطین کے ایک ایک شخص کی زبان پر ہے۔
    ??محمد?? کا بچپن اسی مہاجر کیمپ کی گلیوں میں کھیلتے کودتے گزرا۔ابتدائی تعلیم یہیں حاصل کی اور گھر میں شدید عسرت کے سبب بہت کمسنی سے ہی مزدوری کی مشقت اپنا لی۔اپنے والد کی معیت میںقالین بافی کے ایک کارخانے میں کام کیا۔لڑکپن (14) سال کی عمر میں ایک چھوٹا سا مرغی خانہ قائم کیا تاکہ والدین کی مدد کر سکیں،اور اس طرح کے کئی چھوٹے بڑے مشقت بھرے کام کرتے رہے۔ساتھ ساتھ تعلیم بھی جاری رکھی اور سکول سے فراغت کے بعد کالج میں داخلہ لیا۔اس زمانے کا ??محمد الضیف?? علاقے بھر میں اپنی خوش طبعی اور کھلنڈرے پن کی وجہ سے معروف تھا۔سکول اور کالج کے زمانے میں ڈراموں میں مزاحیہ کردار ادا کرتا تھا اور اپنے رُفقاء کا دل بہلاتا تھا۔گریجویشن کے بعد کچھ عرصے کے لئے انہوں نے اداکاری کو باقاعدہ پروفیشن کے طور پر بھی اختیار کر لیا اور کئی ٹیلی ویژن ڈراموں میں مختلف مزاحیہ اور دیگر کردار ادا کئے۔خصوصاً ایک تاریخی ڈرامے میں بنو عباس کے زمانے کی ایک افسانوی شخصیت ??ابو خالد المہرج?? کا کردار ادا کر کے بہت شہرت حاصل کر لی۔ان کے اس زمانے کے قریبی دوست اور کلاس فیلو ??علی?? کا کہنا ہے کہ ??محمد?? اپنی کھلنڈری طبیعت اور اداکاری کی لائن میں شہرت کے باوجود ایک بلند کردار شخص تھا۔اس کی ذات میں ایسی کوئی خرابی نہ تھی جس پر انگلی اٹھائی جا سکتی۔وہ لوگوں کو خوش رکھتا تھا اور ان کی مدد کر کے خوش ہوتا تھا۔ایک بار خانیونس میں سیلاب کی وجہ سے بہت تباہی آ گئی،لوگوں کے نامکمل مکان گر گئے، ایسے میں ??محمد?? ان کی مدد کرنے میں سب سے آگے آگے تھا،اس نے اپنے دوستوں کو جمع کیا اور ملبے سے لوگوں کو نکالا،پھر ان کے ساتھ مل کر ان کے گھر تعمیر کرنے میں مدد کی ،علاج معالجہ فراہم کیا اور ہر طرح سے امداد پہچائی،وہ ہمیشہ لوگوں کی مدد کر کے خوش ہوتا تھا۔??علی?? مزید کہتے ہیں کہ ??وہ ہمیشہ ہنساتا تھا لیکن تنہائی میں گہری فکر اور سوچ میں مبتلا رہتا تھا۔شاید اس کے دل میں کوئی خلش تھی جو ہم سب محسوس کرتے تھے۔??
    ??محمد ?? کی اندرونی خلش ہی انہیں راہ راست پر لے آئی اور وہ اس راستے پر آ گئے جس کے لئے وہ پیدا کئے گئے تھے۔انہوں نے اداکاری کو خیر آباد کہا اور ??مسجد ??میں آ گئے۔مسجدِ امام شافعی وہ پہلی جگہ ہے جہاں سے ??محمد ?? کی نئی زندگی کا آغاز ہوا۔اہل علاقہ کے بقول وہ مسجد میں آئے تو مسجد کے ہوگئے۔مسجد کی صفائی کرنا ، رضاکارانہ طور اس کے امور میں حصہ لینا،درس میں حاضر رہنا اور دیر تک اکیلے مسجد میں بیٹھے رہنا ان کی پختہ عادت بن گئی۔پھر وہ نماز کے داعی بن گئے۔نوجوانوں کو دعوت دے کر مسجد کی طرف راغب کرنے کو اپنا مشن بنا لیا۔ علاقے کے نوجوان پہلے سے ان کے گرویدہ تھے انہوں نے دعوت پر لبیک کہا اور یوں وہ شخص جو پہلے ان کو تھیٹر کی طرف لے گیا کھینچ کر مسجد میں لے آیا۔??محمد ?? کی بستی کے اردگرد پانچ مساجد تھیں۔وہ ان سب میں ایک ایک نماز ادا کرتے اور قریب کے نوجوانوں کو اپنے ساتھ مسجد میں لے جاتے،کچھ دنوں بعد انہوں نے ایک اور عجیب کام کیا۔انہوں نے ??شباب المساجد?? کے نام سے ایک انجمن قائم کی اور ہر مسجد کے نوجوان نمازیوں کو اس کا رُکن بنا لیا۔یہ شباب (نوجوان) ان مساجد کو صاف رکھتے، لوگوں کو نماز کی دعوت دیتے اور سب سے بڑھ کر اپنی مسجد کے نمازیوں کی ہر ممکن خدمت کرتے،ان کی مسجد کے ایک نماز ی کے بقول:
    ??ہم میں سے جسے کوئی مشکل کام در پیش ہوتا مثلاً مکان کی تعمیر یا کسی مریض کو ہسپتال لے جانا وغیرہ۔یہ شباب فوراً ہماری مدد کو آ جاتے اور ہماری مشکل آسان کر دیتے???
    اس طرح ??محمد الضیف?? اپنے علاقے میں نماز اور خدمت کا شعار بن
     
  2. BlackSoul

    BlackSoul Guest

  3. FahadIqbal25

    FahadIqbal25 Well Wishir

    nice sharing
     
  4. FahadIqbal25

    FahadIqbal25 Well Wishir

Share This Page