1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام (سوئم)۔

Discussion in 'History aur Waqiat' started by Sadia Naz, Jul 2, 2016.

  1. Sadia Naz

    Sadia Naz Banned

    حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام (سوئم)۔

    ماخوذ از قصص القرآن۔ مولانا حفظ الرحمٰن سیو ہارویؒ

    بعثت
    خدا کے فضل کا موسیٰ علیہ السلام سے پوچھئے احوال
    کہ آگ لینے کو جائیں پیمبری مل جائے
    حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دیکھا کہ عجیب آگ ہے درخت پرروشنی نظر آتی ہے مگر نہ درخت کو جلاتی ہے اور نہ گل ہی ہوجاتی ہے، یہ سوچتے ہوئے آگے بڑھے لیکن جوں جوں آگے بڑھتے جاتے تھے آگ دور ہوتی جاتی تھی یہ دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام کو خوف ساپیدا ہوااور انہوں نے ارادہ کیا کہ واپس ہوجائیں جوں ہی وہ پلٹنے لگے آگ قریب آگئی اور قریب ہوگئی اور قریب ہوئے تو سنا کہ یہ آواز آر ہی ہے:
    اے موسیٰ!میں ہوں میں اللہ پروردگار جہانوں کا۔ (قصص)۔
    پس جب موسیٰ اس( آگ) کے قریب آئے تو پکارے گئے اے موسیٰ! میں ہوں تیرا پروردگار پس اپنی جوتی اتار دے تو طویٰ کی مقدس وادی میں کھڑا ہے اور دیکھ! میں نے تجھ کو اپنی رسالت کے لئے چن لیا ہے پس جو کچھ وحی کی جاتی ہے اس کو کان لگا کر سن۔( طٰہٰ:ع۱)۔
    قرآن عزیز کی سابق آیت اور ان آیات کے پیش نظر دوباتیں کتب تفسیر میں زیر بحث لائی جاتی ہیں:۔
    ۱)حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جس روشنی کو آگ سمجھا تھا وہ آگ نہ تھی بلکہ تجلّیٔ الہٰی کا نور تھا لیکن جو آواز اس پر دہ نور سے سنی گئی وہ فرشتے کی آواز تھی اور اس کے واسطہ سے خدا نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو شرف ہمکلامی بخشایاخود اللہ تعالیٰ کی ندا تھی؟ بعض مفسرین کہتے ہیں یہ فرشتے کی آواز تھی اور اس کے واسطہ سے موسیٰ علیہ السلام کو خدا کی ہم کلامی کا شرف حاصل ہوا ،یہ خداکی آوز نہ تھی اس لئے کہ
    قول او را لحن نے آواز نے
    اور ارباب تحقیق کی رائے یہ ہے کہ یہ براہ راست ندائے الہٰی تھی اورحضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو کسی واسطہ سے بھی نہیں سنا بلکہ اسی طرح سنا جس طرح پیغمبرانِ خدا وحی الہٰی کو سنتے اور مِنْ وَّرَائِ حِجَابٍ اس سے ہم کلامی کا شرف حاصل کرتے ہیں۔( صفوۃ الکلام ابن تیمیہؒ ص۲۷)۔
    ۲)وادی مقدس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جوتی اُتارنے کا حکم دیا گیا حالانکہ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ نبی اکرمﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مساجد میں جوتیوں سمیت نماز ادا کیا کرتے تھے اور آج اُمت کے لئے بھی یہی اسلامی مسئلہ ہے کہ اگر جوتیاں پاک ہوں تو ان سے بے تأمل نماز پڑھنا درست ہے، تو پھر اس جگہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے یہ کیوں کہا گیا کہ یہ وادی مقدس ہے لہٰذا جوتی اُتارو تو اس کا جواب صحیح حدیث میں موجود ہے اور رسول اللہﷺ نے خود اس کی وجہ بیان فرمائی ہے:۔
    کانتا من جلد حمار میت(موسیٰ علیہ السلام ) کی جوتیاں مردہ گدھے کی کھال سے بنائی گئی تھیں( یعنی غیر مدبوغ تھیں اس لئے طاہر نہ تھیں)(تفسیر ابن کثیر مع فتح البیان ج۶ص ۲۲۹)۔
    بہر حال اب حضرت موسیٰ علیہ السلام خدائے تعالیٰ کے پیغمبر اور جلیل القدر رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو انبیاء کے سچے دین کی تلقین اور فرعون کی غلامی سے بنی اسرائیل کی رہائی کی اہم خدمات کے لئے چن لیا ہے،وہ اب وادی مقدس میں حق تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف حاصل کر رہے ہیں، وہ موسیٰ علیہ السلام جو مدین کی راہ سے بھٹکے ہوئے تھے آج مصر جیسے متمدن و مہذب ملک اور اس کے سرکش و مغرور بادشاہ کی رہنمائی کرنے کے لئے منتخب کئے گئے ہیں اور جو کل تک اونٹوں اور بکریوں کی گلہ بانی کررہے تھے آج انسانوں کی قیادت کے فرض کو انجام دینے کے لئے چنے گئے اور جو نصاب زندگی کل بکریوں کے گلہ کی چرائی سے شروع ہواتھا وہ آج وادی مقدس میں خدا کی بہترین مخلوق حضرت انسان کی گلہ بانی پر تکمیل کو پہنچ رہا ہے اور کل کا گلہ بان آج جہاں بان بن رہا ہے۔
    خدائے تعالیٰ کے ید قدرت کی یہی کرشمہ سازیاں ہیں جو زبان سے انکار کرنے والوں کے دلوں میں کبھی اقرار کا کانٹا چبھوئے رکھتی ہیں، کجاخانہ بدوش چرواہا اور کجا متمدن حکومتوں کے لئے خدا کی صداقت کی پیغامبر۔۔۔
    حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب اللہ کی اس آواز کو سنا اور ان کویہ معلوم ہوا کہ آج ان کے نصیب میں وہ دولت آگئی ہے جو انسانی شرافت کا طغرائے امتیاز اور اللہ کی موہبت کا آخری نشان ہے، تو پھولے نہ سمائے اور والہانہ فریفتگی میں مثل مورت حیران کھڑے رہ گئے، آخر پھر اسی جانب سے ابتداء ہوئی اور پوچھا:۔
    وماتلک بیمینک یاموسیٰ
    موسیٰ ! تیرے داہنے ہاتھ میں کیا ہے؟
    بس پھر کیا تھا محبوب حقیقی کا سوال عاشق صادق سے
    یہ نصیب اللہ اکبر لوٹنے کی جائے ہے
    وارفتگی عشق میں یہ بھی خیال نہ رہا کہ سوال کے پیمانہ ہی پر جواب کو تولا جائے اور جوکچھ پوچھا گیا ہے صرف اسی قدر جواب دیا جائے، بولے
    ھی عصای أتوکأ علیہاوأھش بہاعلی غنمی
    ??یہ میری لاٹھی ہے اس پر(بکریاں چراتے وقت) سہارالیاکرتاہوںاوراپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑ لیتا ہوں۔??
    جواب میں صرف یہ کہنا چاہیے تھا??عصا?? مگر محبت کے اس ولولہ کو کیسے روکیں جو محبوب کے ساتھ ہمکلامی کے شرف کو طول دے کر سوختہ جانی کا سامان مہیا کرنا چاہتا ہے، کہتے ہیں کہ یہ میری لاٹھی ہے اور اس کے فوائد بیان کرنے لگتے ہیں مگر یکایک جذبہ شوق کی جگہ محبو ب حقیقی کا پاس ادب دل میں چٹکی لیتا ہے۔موسیٰ! خبر دار کس دربار میں کھڑے ہو کہیں یہ طول گستاخی اور بے ادبی نہ شمار ہوجائے۔موسیٰ علیہ السلام نے یہ سوچ کر فوراً پہلو بدلا اور جناب باری میں عرض کی:
    ولی فیھامآرب اخری??اور میرے لئے اس سے متعلق اور ضروریات بھی ہیں۔??
    خدایا!د ل کے ولولے اور روح کی بیتابیاں تو چاہتی ہیں کہ کہے جائوں اور اس لطف بے پایاں کی لذت کو حاصل کئے جائوں لیکن پاس ادب مانع اور چشم حقیقت بیں کا حکم ہے کہ خاموش ہوجائوں، اس لئے قصہ کو تاہ کرتا ہوں ورنہ داستان عشق تو بہت طویل ہے?
    عشق کہتا ہے کہ جنوں کاجوش رہنا چاہئے
    ضبط کی تاکید ہے خاموش رہنا چاہئے
    قصۂ موسی،سبق ہے ہوش والوں کے لئے
    کس طرح عشاق کو خاموش رہنا چاہئے
    آیات اللہ
    اب اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:۔
    ألقھایاموسی??موسیٰ ! اپنی اس لاٹھی کو زمین پر ڈال دو۔??
    اور موسیٰ علیہ السلام نے اس ارشاد عالی کی تعمیل کی:
    فالقاھافاذاھی حیۃ تسعی??موسیٰ نے لاٹھی کو زمین پر ڈال دیا پس ناگاہ وہ اژدہا بن کردوڑنے لگا۔??
     
  2. BlackSoul

    BlackSoul Guest

  3. FahadIqbal25

    FahadIqbal25 Well Wishir

    nice sharing
     
  4. FahadIqbal25

    FahadIqbal25 Well Wishir

Share This Page