1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice

قبالؒ کا پیغام امتِ مسلمہ کے نام

Discussion in 'Allama Iqbal' started by PakArt, Nov 18, 2016.

Share This Page

  1. PakArt
    Offline

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan
    • 83/98

    علامہ اقبالؒ نے ’’اسرار و رُموز‘‘ کے آخرپر ’’عرض حال مصنف بحضور رحمۃ للعالمینؐ‘‘ کے عنوان سے یہ بیان کیا ہے کہ اُمت مسلمہ کی حیثیت ایک بے جان لاش کی سی ہوگئی ہے۔ یہ آپؐ کی تعلیمات اور آپؐ کی ذات کو بھول کر آپؐ سے ناآشنا ہوگئی ہے۔ اس کے تمام دُکھوں کا مداوا کرنے کے لیے میں نے اس کو بھولا ہوا سبق یاد دلایا ہے۔ قرآنِ کریم کی تعلیمات سے اس کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی ہے اور آپؐ کے حضور میں اس کو پیش کیاہے۔ حضورؐ سے عرض کرتے ہیں کہ پہلے بھی آپؐ ہی نے انسانیت کو ایک حیات بخش پیغام سے آشنا کیا۔ اب میں آپؐ ہی کے سامنے آپؐ کی اُمت کو لے کر آیا ہوں، آپؐ ہی اس اُمت کا علاج کرسکتے ہیں۔
    اس نظم میں حضور نبی کریمؐ سے اقبال کا عشق و محبت کا تعلق بالکل صاف جھلکتاہے۔ فارسی کی اس نظم میں وہ کہتے ہیں کہ جب سے میں نے اپنی امّی سے آپؐ کا نام سناہے اور آپؐ سے آشنا ہوا ہوں، آپؐ مجھے اپنے ماں باپ سے زیادہ عزیز ہوگئے ہیں۔ جب اس اُمت کے دل میں آپؐ کی محبت جاگزیں ہوگی اور آپؐ پھر سے اس اُمت کے محبوب بنیں گے تب ہی اس کے تمام دُکھوں کا مداوا ہوسکے گا۔ اگر فارسی سمجھنے والے اس نظم ’’عرض حال مصنف بحضور رحمۃ للعالمینؐ ‘‘کا مطالعہ کریں تو انھیں اندازہ ہوگا کہ اقبال دلوں میں حضورؐ کی محبت پیدا کر کے ہمیں قرآنِ پاک کی تعلیمات سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔ اُنھوں نے عام شعرا کی طرح شاعری شوقیہ نہیں اپنائی بلکہ شعرگوئی کو اپنے پیغام کا ذریعہ بنایا ہے۔ ایک فارسی شعر میں کہتے ہیں ؂
    نغمہ کجا و من کجا سازِ سخن بہانہ ایست
    سوے قطار می کشم ناقۂ بے زمام را
     
    IQBAL HASSAN likes this.
  2. PakArt
    Offline

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan
    • 83/98

    کہاں شاعری اور کہاں میں، شاعری تو ایک بہانہ ہے۔ میرا اصل کام یہ ہے کہ جو ناقہ بے زمام [اُمت مسلمہ]ہے اس کو قطار کے اندر کسی نظم و ضبط کے تحت لے آؤں۔ چنانچہ اقبالؒ اُمت کو بتاتے ہیں کہ تیرا اصل محبوب کون ہے۔ وہ اُمت کی تمام خرابیوں کا سبب یہی بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے محبوبؐ کو بھول گئی ہے۔ ایک رباعی میں فرماتے ہیں ؂
    شبے پیش خدا بگریستم زارِ
    مسلماناں چرا زارند و خوارند
    ندا آمد ، نمی دانی کہ ایں قوم
    دلے دارند و محبوبے نہ دارند
    کہ میں ایک رات زار و قطار اللہ کے حضور میں روتا رہا۔ میں نے کہا کہ یہ مسلمان کیوں ذلیل و خوار ہیں؟ ندا آئی کہ کیا تمھیں پتا نہیں کہ اس قوم کے سینے میں دل ہے لیکن اس میں محبوب نہیں ہے۔ چنانچہ اقبالؒ کی پوری کوشش یہ ہے کہ وہ اُمت کی پہچان کرا دیں۔ اور دلوں میں نبیؐ کی محبت ڈالنے کے بعد وہ حضورؐ ، ان کی سیرت و تعلیمات، شریعت اور قرآن کے ذریعے اصلاح کا کام کریں۔چنانچہ فرماتے ہیں ؂
    در دل مسلم مقام مصطفیؐ است
    آبروئے ما زنام مصطفیؐ است
    در شبستان حرا خلوت گزید
    قوم و آئین د حکومت آفرید
    از کلیدِ دیں درِ دنیا کشاد
    ہم چو او بطن اُم گیتی نزاد
     
  3. PakArt
    Offline

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan
    • 83/98

    مسلمان کے دل میں محمدؐ کا مقام ہے۔ ہماری آبرو ان کے نام کی وجہ سے ہے۔ اُنھوں نے حرا کی تاریکیوں میں خلوت اختیار کی تو قوم بنائی، حکومت بنائی اور آئین بنایا اور دین کی چابی سے دنیا کا دروازہ کھولا۔ یعنی دین اور دُنیا کوئی الگ الگ چیزیں نہیں ہیں بلکہ دین، دُنیا کا دروازہ کھولنے کا ذریعہ ہے۔ اُنھوں نے دُنیا میں زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھایا کہ کس طریقے سے دُنیا میں رہنا ہے اور بندوں کے کیا حقوق ہیں، اللہ کے کیا حقوق ہیں، آپس میں کس طریقے سے مل جل کر رہنا ہے اور گھر کے اندر کیسے رہنا ہے، معاملات کیسے طے کرنے ہیں۔ یہ دین کے تمام اصول اور طریقے دنیا میں جینے کا سلیقہ سکھانے کے لیے آئے ہیں۔
    حضورؐ نے جو آئین دیا تھا اس کی تشریح اقبال کے کلام میں جگہ جگہ ملتی ہے۔ وہ آئین کیا تھا جو نبیؐ نے دیا تھا؟ وہ قوم کون سی تھی جس کو حضورؐ نے پیغام دیا اور جس کی تشکیل کی۔ اوراس حکومت کے کیا اصول تھے جو حضورؐ نے قائم فرمائی۔ اقبالؒ نے اپنے کلام میں جگہ جگہ کہا ہے کہ قرآن کریم وہ آئین ہے جو حضور ؐ نے اس اُمت مسلمہ کو دیا ؂
    آں کتابِ زندہ ، قرآنِ حکیم
    حکمت او لا یزال است و قدیم
    وہ زندہ کتاب قرآنِ کریم ہے۔ اس کی حکمت لازوال اور ہمیشہ سے ہے۔ قرآنِ کریم کی یہ شان ہے کہ جب ایک دور گزرتا ہے تو دوسرے دور کے لیے نئی آب و تاب کے ساتھ اپنی تعلیمات کو پیش کر دیتا ہے۔ اس کی تعلیمات کبھی پرانی نہیں ہوتیں۔ یہ آئین [قرآن مجید] زمان و مکان کی حدود میں محصور نہیں۔’’اسرار و رُموز‘‘ میں اس پر باب باندھے گئے ہیں کہ اس اُمت کا نہ کوئی انتہاے زمانی ہے اور نہ کوئی انتہاے مکانی ہے۔ جو آئین اللہ تعالیٰ نے دیا ہے وہ زمان و مکان کی حدود سے بالاتر ہے۔ اقبال کی مشہور نظم ہے ؂
    خودی کا سّرِ نہاں لا الٰہ الا اللہ
    خودی ہے تیغ فساں ، لا الٰہ الا اللہ
    یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
    صنم کدہ ہے جہاں، لا الٰہ الا اللہ
    ِخرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زّناری
    نہ ہے زماں نہ مکاں، لا الٰہ الا اللہ
    یہ نغمہ فصلِ گل و لالہ کا نہیں پابند
    بہار ہو کہ خزاں ، لا الٰہ الا اللہ
     
  4. PakArt
    Offline

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan
    • 83/98

    یعنی کوئی زمان و مکاں کی حد نہیں ہے۔ جو بھی ملک ہو اور جو بھی زمانہ ہو،حضورؐ کی تعلیمات ہر ملک اور ہر زمانے کے لیے ہیں۔ یہ دین قید مکاں اور قید زماں سے آزاد ہے۔ اقبالؒ حضورؐ کی ملّت کے بارے میں کہتے ہیں ؂
    اپنی ملّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
    خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِؐ ہاشمی
    اقوامِ مغرب، وطن اور زمان و مکاں کی بنیاد پر قومیت کی قائل ہیں، لیکن اقبال کہتا ہے کہ وطنی قومیت کو بت بنانا حضورؐ کی بنیادی تعلیمات کے خلاف ہے اور اسی طرح وطن پرستی کے بارے میں کہتے ہیں ؂
    ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
    جو پیرہن اس کا ہے، وہ مذہب کا کفن ہے
    وہ بتاتے ہیں کہ حضورؐ نے جو اُمت بنائی ہے وہ کس طرح زمان و مکاں اور نسل اورعلاقے کی حدود سے بالاتر ہے۔ فرماتے ہیں:
    نہ افغانیم و نے ترک و تتاریم
    چمن زادیم و از یک شاخساریم
    ِتمیز رنگ و بو برما حرام است
    کہ ما پروردۂ یک نوبہاریم
    ہم نہ افغان ہیں، نہ ترک ہیں، نہ تاتار ہیں۔ مختلف اشعار میں کہتے ہیں کہ نہ حجازی نہ چینی، نہ ہندی بلکہ ہم تو حضورؐ کی ذات بابرکات کے گرد جمع ہونے والی ایک اُمت ہیں۔ ہماری اساس اور ہمارا بنیادی عقیدہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے۔ اسی کی بنیاد پر ہم ایک قوم ہیں اور عقیدۂ توحید کی اساس پر قائم ہیں۔ چنانچہ وہ ’’ترانہ ملّی‘‘ تو سب کو یاد ہے ؂
    چین و عرب ہمارا ، ہندوستان ہمارا
    مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
    اور پھر مسلمانوں کی تاریخ یاد کرتے ہوئے اپنے مرکز اور عقیدے کی نشان دہی کرتے ہیں ؂
    دُنیا کے بت کدوں میں پہلا وہ گھر خدا کا
    ہم اس کے پاسباں ہیں، وہ پاسباں ہمارا
    توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے
    آساں نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارا
    اس ’’ترانۂ ملّی‘‘ میں تاریخ بھی بیان کی ہے۔ اندلس کی زمین کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں ؂
    اے گلستان اندلس! وہ دن ہیں یاد تجھ کو
    تھا تیری ڈالیوں میں جب آشیاں ہمارا
     
    IQBAL HASSAN likes this.
  5. PakArt
    Offline

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan
    • 83/98

    ’’ترانۂ ملّی‘‘ میں وہ اپنی ملّت اور حضورؐ کی اُمت کی تعریف کرتے ہیں۔ اس کی تاریخ یاد کرتے ہیں اور اس حقیقت کو دُہراتے ہیں کہ یہ اُمت، علاقے اور ملک کی حدود سے بالاتر ہے۔ توحید پر اس کی اساس ہے اور کعبہ اس کا مرکز و محور ہے۔ حضور نبی کریمؐ اس کے قافلہ سالار ہیں
    سالار کاروا ں ہے میرحجاز اپنا
    اس نام سے ہے باقی آرام جاں ہمارا
    جہاد فی سبیل اللہ اس کا طریق زندگی ہے
    تیغوں کے سایے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں
    خنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا
    اندلس میں ’’طارق کی دُعا‘‘ سے اقبالؒ مسلمانوں کو یہ تعلیم دے رہے تھے اور ان کو یہ یاد دلا رہے تھے کہ پوری روئے زمین ان کا ملک ہے کیوں کہ ان کے اللہ کی ملکیت ہے ؂
    َطارق چو برکنارۂ اندلس سفینہ سوخت
    گفتند کار تو بہ نگاہ خرد خطاست
    دوریم از سواد وطن باز چوں رسیم؟
    ترک سبب زروے شریعت کجا رواست
    خندید و دست خویش بہ شمشیر برد و گفت
    ہر ملک ملک ماست کہ ملک خداے ماست
     
  6. PakArt
    Offline

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan
    • 83/98

    طارق جب اندلس کی سرزمین پر اُترے تو انھوں نے کشتیاں جلا دیں کہ یہ خواہ مخواہ ایک سہارا ہے جس میں مجاہدین بیٹھ کر واپس جاسکتے ہیں، حالانکہ ان کا ملک تو یہ ہے، اسی میں اللہ کا پیغام پہنچانا ہے، اس میں توحید کی تعلیم دینی ہے۔ اس لیے اس سے رشتہ جوڑنے کے لیے واپسی کی کشتیوں کو جلا ڈالا۔ وہاں کے عقل مندوں نے کہا کہ عقل کے مطابق یہ کام صحیح نہیں ہے، شریعت کے تحت کہاں یہ جائز ہے کہ آپ واپسی کے سبب کو ختم کر دیں۔ طارق اپنی تلوار کی طرف ہاتھ بڑھا کر مسکراتے ہوئے کہتے ہیں: ’’ہرملک ملک ماست کہ ملک خداے ماست‘‘۔ یعنی ہر ملک ہماری اور ہمارے اللہ کی ملکیت ہے۔ یہ حضورؐ کی اس حدیث کی طرف بھی اشارہ ہے ، جس میں اُنھوں نے کہا ہے کہ یہ پوری روئے زمین میری مسجد ہے۔ اس کا بھی بہت دل نشیں انداز میں اقبالؒ نے ذکر کیا ہے ؂
    مومناں را گفت آں سلطان دیں
    مسجد من ایں ہمہ روے زمیں
    کہ اس سلطان دین ، محمد ؐ نے مومنین سے کہا کہ ساری روے زمین میری مسجدہے ؂
    الامان از گردش و نہ آسماں
    مسجد مومن بدست دیگراں
    میں نو آسمانوں کی گردش سے پناہ مانگتا ہوں کہ گردش لیل و نہار نے ہمیں یہ دن دکھایاکہ مومنین کی مسجد غیروں کے ہاتھ میں ہے ؂
    سخت کوشد بندۂ پاکیزہ کیش
    تا بگیرد مسجد مولاے خویش
    پاکیزہ صفت مومن کا فرض ہے کہ انتہائی کوشش کرے کہ اپنے آقا و مولاؐ کی مسجد کو واگزار کرائے ؂
    اے کہ از ترک جہاں گوئی مگو
    ترک ایں دیر کہن تسخیر او
     
  7. PakArt
    Offline

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan
    • 83/98

    اے وہ شخص جو کہتا ہے کہ ترک دنیا کرو،ایسا مت کہو کہ اس دنیا کو تسخیر کرنا ہی درحقیقت اس کا ترک کرنا ہے۔
    یہ حضور نبی کریم ؐ کی ایک حدیث مبارک کی طرف اشارہ ہے جس میں اللہ کے نبیؐ نے فرمایا کہ میری اُمت کی رہبانیت جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ رہبانیت اور جہاد فی سبیل اللہ میں ایک مشابہت ہے۔ اسی لیے رسول اکرمؐ نے فرمایا کہ میری اُمت کی رہبانیت جہاد میں ہے۔ مشابہت یہ ہے کہ رہبانیت میں آدمی دُنیا اور تعلقات کو چھوڑکر جنگلوں کی طرف چلا جاتا ہے۔ مال و دولت، زر و زن اور وطن سب کچھ چھوڑ دیتا ہے۔ غرض دُنیا ترک کردیتا ہے اور حضورؐ نے کہا: میری اُمت کی رہبانیت یہ نہیں ہے، جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ اس میں مومن دنیا کو ترک نہیں کرتا بلکہ دنیا کے سارے وسائل اور جتنی بھی قوت اس کے پاس ہے اس کو اللہ کے راستے میں قربان کرتا ہے۔ تمام تعلقات اور تمام توانائیاں اعلاے کلمۃ اللہ کے لیے صرف کردیتا ہے۔ حضور نبی کریمؐ نے یہ راستہ بتایا کہ اس طریقے سے مومن اپنے آقا کی مسجد کو واپس حاصل کرسکتا ہے۔
    جن غیروں کا ذکر اقبالؒ نے ان اشعار میں کیا کہ انھوں نے اس دُنیا میں غلبہ حاصل کر کے روئے زمین کو اپنی آماجگاہ بنالیا ہے۔ یہ غیر کون ہیں؟ ان کی نمایندہ مغربی تہذیب ہے۔ اقبالؒ نے بتایا کہ یہ کچی بنیادوں پر کھڑی ہے۔ ۱۹۰۵ء سے ۱۹۰۸ء کے درمیان اقبالؒ یورپ میں علم حاصل کر رہے تھے۔ ۱۹۰۷ء میں اُنھوں نے یہ نظم لکھی تھی اور پیش گوئی کی تھی ؂
    سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
    جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہو گا
    نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو اُلٹ دیا تھا
    سنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے وہ شیر پھر ہوشیار ہو گا
    تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی
    جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپایدار ہو گا
     
  8. PakArt
    Offline

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan
    • 83/98

    1907ء میں لکھی گئی یہ نظم بہت خوب صورت ہے اور اس کا ایک ایک شعر پڑھنے کے قابل ہے اور دلوں کو گرما دینے، جذبوں کو اُبھارنے اور اُمید دلانے والا ہے۔ اس میں انھوں نے کہا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادیں نہایت خام ہیں۔ ناپختہ بنیادوں کی وجہ سے یہ تہذیب منہدم ہونے والی ہے۔ ان بنیادوں پر کوئی عمارت ہمیشہ کے لیے کھڑی نہیں ہوسکتی۔ کمیونزم کے زوال کی بھی نشان دہی کی۔
    ’’جاویدنامہ‘‘ میں ایک نظم ’’پیغامِ افغانی بہ ملّت روسیا‘‘ لکھی ہے۔ اس میں انھوں نے بہت خوب صورت طریقے سے روسی قوم کو پیغام دیا ہے کہ جب تک اللہ کے راستے پر نہیں چلو گے تم انسانیت کو کچھ نہیں دے سکتے ہو۔ اور چونکہ وہ اللہ کی طرف نہیں چلے اس لیے ان کی تہذیب کو زوال آیا۔ مغربی تہذیب کے بارے میں کہا کہ یہ مادہ پرستانہ تہذیب، انسانیت کی رہنمائی کے قابل نہیں ہے۔ جو نیو ورلڈ آرڈر کی باتیں کرتے ہیں ان کے پاس حقیقتاً کوئی نظام نہیں بلکہ فساد ہی فساد ہے۔ بنیاد پرستی کے خلاف جو طوفان اُٹھایا ہے یہ بھی دراصل ان کے اپنے باطنی ضعف کا اظہار ہے۔ زمانہ تقاضا کر رہا ہے کہ کوئی نیا نظام آئے۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں اسلام سے خوف آتا ہے۔ اپنی مشہور نظم ’’ابلیس کی مجلس شوریٰ‘‘ میں انھوں نے اس کا ذکر کیا ہے اور ابلیس نے اپنے شاگردوں کو ان خطرات سے آگاہ کیاہے، جو ابلیسی نظام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ پہلے ابلیس اپنے شاگردوں سے استفسار کرتا ہے کہ اس کے نظام کے لیے موجودہ دور میں کون سے خطرات درپیش ہیں؟ کوئی اشتراکیت کو فتنہ بتاتا ہے اور کوئی کسی اور خطرے کی نشان دہی کرتا ہے لیکن آخر میں ابلیس خود کہتا ہے: نہیں، مجھے اصل خوف تو مسلمانوں سے ہے جو اپنے اشک سحرگاہی سے اب بھی وضو کرتے ہیں۔ ان خال خال لوگوں سے مجھے خطرۂ حقیقی ہے۔ اس کے ساتھ کہتا ہے ؂
    جانتا ہوں میں یہ اُمت حاملِ قرآں نہیں
    ہے وہی سرمایہ داری بندۂ مومن کا دیں
    جانتا ہوں میں کہ مشرق کی اندھیری رات میں
    بے یدبیضا ہے پیرانِ حرم کی آستیں
    عصرِحاضر کے تقاضاؤں سے ہے لیکن یہ خوف
    ہو نہ جائے آشکارا شرعِ پیغمبرؐ کہیں
    الحذر آئین پیغمبرؐ سے سو بار الحذر
    حافظِ ناموس زن ، مرد آزما ، مرد آفریں
    کرتا ہے دولت کو ہر آلودگی سے پاک و صاف
    منعموں کو مال و دولت کا بناتا ہے امیں
    اس سے بڑھ کر اور کیا فکروعمل کا انقلاب
    بادشاہوں کی نہیں، اللہ کی ہے یہ زمیں
     
  9. PakArt
    Offline

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan
    • 83/98

    ابلیس بتاتا ہے کہ ابلیسی نظام کو زبردست خطر ے کا سامنا ہے، اور وہ یہ کہ کہیں لوگوں پر شریعت محمدیؐ آشکارا نہ ہوجائے۔ اس وجہ سے نہیں کہ اس کے حاملین بڑے زبردست لوگ ہیں۔ وہ تو مجھے معلوم ہے کہ کس طرح کے لوگ ہیں لیکن چونکہ عہدحاضر کا تقاضا ہے اس لیے مجھے خوف ہے کہ لوگوں پر پیغمبر اسلامؐ کی شریعت عیاں ہوجائے گی۔ جب عیاں ہوجائے گی تو اس کی کشش اتنی زبردست ہے کہ وہ میرے ابلیسی نظام کے لیے خطرہ ہوجائے گی۔
    کرتا ہے دولت کو ہر آلودگی سے پاک و صاف
    منعموں کو مال و دولت کا بناتا ہے امیں
    آئین پیمبردولت کو سود، جوا اور دوسرے خراب اور حرام طریقوں سے پاک صاف کرتا ہے۔ جس کے پاس حلال کی دولت آجائے۔ اس کو بھی کہتا ہے کہ تم امین ہو، مالک نہیں ہو۔ مال کمانے اور خرچ کرنے کے حلال طریقے سمجھاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ ساری روے زمین اللہ کی ملکیت ہے۔ بادشاہوں کی ملکیت نہیں ہے۔ اشتراکیت کے بارے میں جو اقبالؒ نے ابتدائی پیغام دیا تھا اس میں ایک ایک شعر بڑا خوب صورت ہے ؂
    دینِ آں پیغمبرِؐ حق ناشناس
    بر مساواتِ شکم وارد اساس
    کہ وہ جو حق ناشناس پیغمبر ہے [یعنی کارل مارکس] ، اس کے دین [یعنی کمیونزم] کا انحصار پیٹ کی مساوات پر ہے۔ اس کی خرابی اب تو ساری دنیا پر عیاں ہوگئی ہے، لیکن اقبالؒ نے اسی زمانے میں واضح کر دیا تھا کہ مغربی تہذیب بھی اسی طریقے سے ختم ہوجائے گی۔ کمیونزم ختم ہوگیا، مغربی تہذیب بھی ختم ہوجائے گی۔ اس کی جگہ کون سنبھالے گا؟ جگہ سنبھالنے کے لیے ایک تازہ د م اُمت کی ضرورت ہے، جو جذبۂ جہاد اور اخلاق و کردار کے زیور سے آراستہ ہو اور قوتِ عمل سے سرشار ہو۔ اس لیے اقبالؒ کہتے ہیں کہ اُمت کے لوگوں کو سخت کوشی کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
    اقبالؒ کا حضورؐ کے ساتھ خود بڑا گہرا تعلق تھا۔ وہ اس حوالے سے بھی جذبہ بیدار کرتے تھے۔ جنگ طرابلس پر نظم میں اس کا ذکر آیا ہے۔ عالمِ خیال میں وہ حضورؐ کی بارگاہ میں پہنچ جاتے ہیں۔ وہاں حضورؐ ان سے پوچھتے ہیں کہ اُمت کا حال کیا تھا؟ میرے لیے کیا تحفہ لائے ہو؟ تو وہ اُمت کا حال بتاتے ہیں ؂
    گراں جو مجھ پہ یہ ہنگامۂ زمانہ ہوا
    جہاں سے باندھ کے رختِ سفر روانہ ہوا
    فرشتے بزمِ رسالت میں لے گئے مجھ کو
    حضورِ آیۂ رحمت میں لے گئے مجھ کو
    کہا حضوؐر نے اے عندلیبِ باغِ حجاز
    کلی کلی ہے تری گرمیِ نوا سے گداز
    نکل کے باغِ جہاں سے برنگِ بو آیا
    ہمارے واسطے کیا تحفہ لے کے تو آیا؟
    تو اقبال کہتے ہیں کہ ؂
    حضوؐر دہر میں آسودگی نہیں ملتی
    تلاش جس کی ہے، وہ زندگی نہیں ملتی
    ہزاروں لالہ و گل ہیں ریاضِ ہستی میں
    وفا کی جس میں ہو بو، وہ کلی نہیں ملتی
    لیکن بعد میں اُمید اور روشنی کی جھلک دکھاتے ہوئے ایک تحفہ پیش کرتے ہیں ؂
    مگر میں نذر کو اِک آبگینہ لایا ہوں
    جو چیز اس میں ہے جنت میں بھی نہیں ملتی
    جھلکتی ہے تری اُمت کی آبرو اس میں
    طرابلس کے شہیدوں کا ہے لہو اس میں
     
  10. PakArt
    Offline

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan
    • 83/98

    اقبال ؒ کو شہدا کے خون میں ایک اُمید نظر آتی ہے۔ یہ ایسی قیمتی چیز ہے جس سے پھر ایک نئی صبح کے بیدار ہونے کا امکان ہے ۔
    طرابلس کی جنگ ہی میں’’فاطمہ بنت عبداللہ‘‘ ایک عرب لڑکی پانی پلاتے ہوئے شہید ہوگئی تھی۔ اس میں انھیں اُمید کی کرن نظر آئی تو اسے عام کرنے کی کوشش کی۔ وہ فاطمہ بنت عبداللہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں ؂
    یہ سعادت حورِ صحرائی تری قسمت میں تھی
    غازیانِ دیں کی سقائی تری قسمت میں تھی
    اس کی تعریف کرنے کے بعد اس کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں ؂
    فاطمہ گو شبنم افشاں آنکھ تیرے غم میں ہے
    نغمۂ عشرت بھی اپنے نالۂ ماتم میں ہے
    اگرچہ تیری شہادت کی وجہ سے ہم بہت غمگین ہیں لیکن اس غم میں خوشی کا ایک پہلو بھی چھپا ہوا ہے،اور خوشی کا پہلو یہ ہے کہ ؂
    یہ کلی بھی اس گلستانِ خزاں منظر میں تھی
    ایسی چنگاری بھی یارب اپنی خاکستر میں تھی
    یہ چنگاری اقبالؒ کو نظر آتی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس کی خوشبو سارے عالم میں پھیل جائے گی اور ایک نئی صبح نمودار ہوگی۔ ایک نیا ولولہ پیدا ہوگا، بیداری پیدا ہوگی اور قافلہ پھر سے اپنے سفر پر گامزن ہوجائے گا۔
    ایک نظم ’’امامت‘‘ میں اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ اُمت محمدیہؐ کا حقیقی قائد کون بن سکتا ہے۔ قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں ؂
    تو نے پوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے
    حق تجھے میری طرح صاحبِ اسرار کرے
    ہے وہی تیرے زمانے کا امامِ برحق
    جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے
    موت کے آئینے میں تجھ کو دکھا کر رُخ دوست
    زندگی تیرے لیے اور بھی دشوار کرے
    دے کے احساسِ زیاں تیرا لہو گرما دے
    فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے
    وہ یہاں احساسِ زیاں کو زندہ کرنے کی بات کرتے ہیں۔ احساسِ زیاں کو زندہ کرنا اقبالؒ کی شاعری اور ان کے پیغام کا اہم حصہ ہے۔ وہ احساسِ زیاں کے فقدان پر افسوس بھی کرتے ہیں ؂
    وائے ناکامی! متاعِ کارواں جاتا رہا
    کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا
    ان کو یہ افسوس ہے کہ ایک تو کارواں کا سارا سامان لُٹ گیا اور ان کو پتا بھی نہیں کہ ان کا سارا سامان لٹ گیا ہے۔ اس پر انھوں نے رونا رویا ہے اور اُمت کے جوانوں کے لیے ایک پوری نظم لکھی ہے۔ انھیں کہتے ہیں کہ حکومت کا تو کیا غم کہ وہ اِک عارضی شے تھی یعنی حکومت تو زمانے کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ وَ تِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیْنَ النَّاسِ ۔ قرآنِ مجید نے بھی ہمت بندھائی ہے کہ آج اگر شکست ہوگئی تو کل فتح بھی ہوسکتی ہے لیکن اقبال کو افسوس اور غم اس پر ہوتا ہے کہ ؂
    مگر وہ علم کے موتی، کتابیں اپنے آبا کی
    جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارا
     

Share This Page