1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

حضرت ہود علیہ السلام


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'History aur Waqiat' started by IQBAL HASSAN, Nov 24, 2016.

History aur Waqiat"/>Nov 24, 2016"/>

Share This Page

  1. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 63/65


    [​IMG]
    حضرت ہود علیہ السلام



    حضرت نوح علیہ السلام کے بعد عاد کی قوم جسے قرآن پاک نے عاداولیٰ کے نام سے یاد کیا، وادی احقاف میں سکونت پذیر ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا میں ہر قسم کی سہولتیں اور آسائشیں دے رکھی تھیں، یہ لوگ بڑے قدو قامت کے تھے، فن تعمیر میں ان کا جواب نہ تھا، کھیتی باڑی سے خوب واقف تھے۔ فارغ البالی، خوشحالی اور قوت و طاقت کے گھمنڈ نے انہیں خدا سے باغ کردیا اور انہوں نے بت پرستی شروع کردی، خود ہی بت بناتے اور ان کی پوجا کرتے اور ان سے مرادیں مانگتے۔
    آخر اللہ کی سنت کے مطابق انہی میں سے اللہ تعالیٰ نے حضرت ہود علیہ السلام کی نبوت سے سرفراز فرمایا اور حکم دیا کہ وہ ان بھٹکے ہوئے انسانوں کو سیدھے راستے پر لائیں۔
    حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو مخاطب کرکے فرمایا کہ دیکھو میں تمہارا ہی بھائی ہوں، تمہارا دشمن نہیں، بلکہ خیر خواہ ہوں۔ آئو برے کاموں سے باز آئو اور ان بتوں کو چھوڑ کر جو نہ تمہارا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ سنوار سکتے ہیں، ایک خدا کی عبادت کرو، جس نے اپنے فضل و کرم سے تم کو طاقت، قوت اور مال و دولت اور دانائی سے سرفراز کیا ہے۔
    اس کے جواب میں ان کی قوم کے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ ہم میں سے ہی ایک آدمی پیغمبری کا دعویٰ کررہا ہے، اگر خدا نے پیغمبر بنانا تھا تو صرف تم ہی اس عزت کے لیے رہ گئے تھے اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جن بتوں کو ہمارے آبائو اجداد پوجتے آئے ہیں، ان کو تیرے کہنے پر سے پوجنا چھوڑ دیں۔
    حضرت ہود علیہ السلام پر جو لوگ ایمان لائے تھے، وہ کمزور اور غریب تھے، جب قوم عاد نے اپنے پیغمبر کی کسی بات پر دھیان نہ دیا، بلکہ الٹا حضرت ہود کا تمسخر اڑایا اور یہ لوگ خدا پر پھبتیاں کسنے لگے تو غیرت خداوندی جوش میں آگئی۔
    آسمان پر ایک بادل نمودار ہوا جس کو دیکھ کر عاد کے لوگ خوش ہوئے کہ بارش آنے والی ہے جو ہماری کھیتوں کو ہرا بھرا کردے گی، حضرت ہود علیہ السلام ایماندار لوگوں کے ساتھ لے کر بستی سے باہر نکل گئے، اس بادل نے بعد میں ایک خوفناک آندھی کی شکل اختیار کرلی، جو آٹھ دنوں اور سات راتوں تک متواتر چلتی رہی اور اس نے قوم عاد ادلیٰ کے تمام سرکش انسانوں کو موت کے گھاٹ اتاردیا اور اس طرح خدا کے غضب کا شکار ہو کر یہ قوم دنیا سے نیست و نابود ہوگئی۔


    [​IMG]
     
  2. UmerAmer
    Offline

    UmerAmer Regular Member
    • 38/49

    جزاک اللہ خیرا​
     
  3. PakArt
    Offline

    PakArt ITUstad dmin Staff Member
    • 83/98

    :AS:
    :BK:
    [​IMG]
     

Share This Page