1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

حضرت آدم علیہ السلام

Discussion in 'History aur Waqiat' started by IQBAL HASSAN, Nov 25, 2016.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management




    [​IMG]
    حضرت آدم علیہ السلام

    [​IMG]


    قرآن مجید میں بیان ہونے والے بہترین قصوں میں سے ایک بنی نوع انسان کے باپ حضرت آدم علیہ السلام کا ہے۔ آپ اللہ تعالٰی کے پہلے نبی ہیں اورآپکا قصہ قرآن مجید کی مختلف سورتوں میں متعدد پیراۓ میں بیان ہوا ہے

    " انی جاعل فی الارض خلیفتہ" ترجمہ: "میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں" (سورہ بقرہ) ۔ یعنی اللہ پاک نے فرشتوں کو حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کی خبر دی جسطرح کسی بھی عظیم کام کو وجود میں لانے سے پہلے دی جاتی ہے فرشتے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق اور اللہ پاک کی حکمت کے بارے میں مزید جاننے کے خواہشمند تھے انہوں نے عرض کی ۔" اتجعل فیھا من یفسد فیھا ویسفک الدمآء" ترجمہ: "کیا تو ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت و خون کرتا پھرے"
    اس سوال کا مقصد نہ تو اللہ پاک پر اعتراض کرنا تھا اور نہ ہی انسان سے حسد تھا محض اللہ پاک کی حکمت معلوم کرنا تھا اور اللہ پاک نے فرمایا: "انی اعلم مالا تعلمون" ترجمہ: " جو کچھ میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے" ۔
    حضرت عزرائیل علیہ السلام کو حکم ہوا کہ زمین سے ہر قسم کی سرخ و سفید اور سیاہ مٹی کی ایک مٹھی لائیں انہوں نے ایسا ہی کیا اور پھر اللہ پاک کے حکم سے اسکو مکہ اور طائف کی درمیانی زمین پر رکھا ، اللہ پاک نے اس مٹی پر بارانِ رحمت برسایا اور اپنی قدرتِ کاملہ سے حضرت آدم علیہ السلام کا پتلا اس مٹی کے خمیر سے بنایا اور چالیس برس تک وہ قالب وہاں بیجان پڑا رہا فرشتے پاس سے گزرت تو اس جسم کو دیکھ کر ڈر جاتے ابلیس سب سے زیادہ خوف زدہ تھا وہ گزرتے وقت اسے ضرب لگاتا تو ایسی آواز آتی جسطرح مٹی کے بنے ہوۓ برتن سے کوئی چیز ٹکراۓ تو آواز آتی ہے اسلئے جب وہ کہتا تھا " من صلصال کالفجار" (الرحمٰن: 55/14) " ٹھیکرے کیطرح بجنے والی مٹی سے" تو کہتا " تجھے کسی خاص مقصد سے پیدا کیا گیا ہے۔ وہ اس خاکی کے جسم میں منہ کیطرف سے داخل ہو کر دوسری طرف سے نکل گیا اور فرشتوں سے کہا: " اس سے مت ڈرو، تمہارا رب "صمد" ہے لیکن یہ تو کھوکھلا ہے اگر مجھے اس پر قابو دیا گیا تو اسے ضرور تباہ کر دونگا"

    جب عنائتِ الٰہی نے چاہا کہ ستارہ اقبال حضرت آدم علیہ السلام کا روشن اور مرتبہ بنی آدم کا تمام مخلوق پر ظاہر ہو روح پاک کو حکم صادر ہوا کہ آدم کے بدن میں داخل ہو ، روح قالب میں آدمؑ کے سر مبارک کیطرف سے داخل ہوئی ، جس جگہ روح پہنچتی بند خاکی گوشت اور پوست سے بدلتا جاتا تھا جب روح آنکھوں میں داخل ہوئی تو حضرت آدم علیہ السلام کو جنت کے پھل نظر آۓ۔ جب روح پیٹ تک پہنچی تو آپکو کھانے کی خواہش پیدا ہوئی اور حضرت آدم علیہ السلام نے جلدی سے اٹھنے کا ارادہ کیا اور وہیں زمین پر گر پڑے کیونکہ روح ابھی ٹانگوں میں داخل نہ ہوئی تھی اس لئے اللہ پاک نے قرآن پاک میں فرمایا ہے " خلق الانسان من عجل" ترجمہ: "انسان جلدباز ہے" (الانبیاء:21/37) اور اسی حالت میں حضرت آدم علیہ السلام نے چھینکا اور الہامِ الٰہی سے کہا " الحمد للہ" اس کریم اور رحیم نے اسی رحمت سے فرمایا "یرحمک اللہ" ۔ سب سے پہلےاللہ پاک کی رحمت کا جلوہ حضرت آدم علیہ السلام کو ہوا اور پھر ان کے طفیل بنی آدم کونصیب ہوا۔

    اللہ پاک نے حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق فرما کر تخت عزت اور عظمت پر بٹھایا۔ قرآن پاک میں متعدد مقامات پر اس عزت افزائی کا ذکر ہے
    حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش پر فرشتے ابتدا میں کہتے تھے کہ جسکو اللہ پاک خاک سے پیدا کر کے خلافت کی مسند پر بٹھاۓ گا تو وہ خدا کے نزدیک ہم سے زیادہ عزیز نہ ہو گا کہ ہم دن رات بارگاہِ علام الغیوب میں رہتے ہیں ہمارا علم اس سے زیادہ ہو گا۔ اللہ پاک نے بموجب آیت " وعلم آدم الاسمآء کلھا" ترجمہ: اور آدم کو تمام نام سکھا دئے" یعنی تمام چیزوں کے نام حضرت آدم علیہ السلام کو الہام کر کے حکم دیا کہ فرشتوں سے ان چیزوں کے نام پوچھو، جب حضرت آدم علیہ السلام نے فرشتوں سے پوچھا،" انبئونی باسمآء ھولآء ان کنتم صادقین"، یعنی " خبر دو میرے تئیں ان چیزوں کے نام سے اگر تم سچے ہو" تب فرشتے جواب سے عاجز ہوۓ اور اپنے قصور سے معترف ہو کر بولے " سبحانک لا علم لنا الا ما علمتنا انک انت العلیم الحکیم" یعنی " پاک ہے تو اور نہیں علم ہمارے تئیں مگر جو تو ے سکھایا ہم کو اور تو ہی پورے علم و حکمت والا ہے" تب اللہ پاک نے حضرت آدم علیہ السلام کو کمال ظاہر و باطن سے آراستہ کیا اور انکی تعظیم و تکریم کے لئے ملائکہ کو حکم کیا کہ " اسجدو الآدم فسجدو الا ابلیس ابی واستکبرو کان من الکافرین" یعنی " سجدہ کرو آدمؑ کے تئیں، سب فرشتوں نے حکم الٰہی کے سبب بلاعذر و تکرار حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کیا مگر ابلیس نے انکار کیا اور بولا میں آدم سے بہتر ہوں کیونکہ میں آگ سے بنا ہوں اور آدم مٹی کو سے پیدا کیاگیا ہے اس نافرمانی سے شیطان ملعون ابدی ہو کر فرشتوں سے نکالا گیا اور حضرت آدم علیہ السلام بہشت میں رہنے لگے۔

    اللہ پاک نے سورہ حجرات میں حضرت آدم علیہ السلام اور جنوں کی تخلیق کا ذکر فرمایا ہے ، اور ابلیس کے سجدے سے انکار کے بعد اس پر لعنت کی ہے۔ اس نے لعنتی قرار پانے پر بنی آدم کی دشمنی کا اعلان کر دیا اور اللہ پاک سے تاقیامت اسکی مہلت طلب کی یہ واقع سورہ حجرات (15، 26۔44) میں بیان ہے۔

    ایک دن جب حضرت آدم علیہ السلام پر خواب نے غلبہ کیا تو وقتِ خواب اللہ پاک نے اپنی قدرتِ کاملہ سے حضرت آدم علیہ السلام کے پہلوۓ چپ سے حضرت حوّا علیہ السلام کو پیدا کیا۔ حضرت آدم علیہ السلام بیدار ہوۓ تو دیکھا کہ ایک پاکیزہ عورت انکے پاس بیٹھی ہے وہ انہیں دیکھ کر نہایت خوش ہوۓ اور پوچھا تُو کون ہے؟ حضرت حوّا علیہ السلام نے کہا کہ میں تیرے بدن کا جز ہوں اللہ پاک نے مجھے تیری پسلی سے پیدا کیا۔ اللہ پاک نے انہٰن بے پناہ حسن سے نوازا تھا۔ حضرت آدم علیہ السلام سجدہ شکر بجا لاۓ۔
    سورہ الاعراف (7/189) میں آیا ہے کہ "ھو الذی خلقکم من نفس واحدۃ و جعل منھا زوجھا لیسکن الیھا" ترجمہ: " وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمکو ایک شخص سے پیدا کیا اور اس سے اسکا جوڑا بنایا تاکہ وہ اس سے راحت حاصل کرے"
    اور پھر ان دونوں کو حکم ہوا کہ " اسکن انت و زاجک الجنۃ" " تو اور تیری بیوی جنت میں رہو" سب میوے کھاؤ مگر "ولا تقربا ھذا الشجرۃ " اس درخت کے قریب نہ جانا"۔
    اللہ پاک نے اس درخت کے نام کا تعین نہیں فرمایا لہٰذا اس میں راۓ سے اجتناب بہتر ہے علماء اورمفسرین کی آراء بھی اس بارے میں مختلف ہیں۔



    بحوالہ قصص الانبیاء
    [​IMG] [​IMG] [​IMG] [​IMG]

     

Share This Page