1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

حضرت آدم علیہ السلام کا جنت سے نکلنا اور توبہ قبول ہونے کا بیان:

Discussion in 'History aur Waqiat' started by IQBAL HASSAN, Nov 25, 2016.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management


    [​IMG] [​IMG] [​IMG] [​IMG]


    حضرت آدم علیہ السلام کا جنت سے نکلنا اور توبہ قبول ہونے کا بیان:
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    حضرت عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابلیس لعین زمین کے فرشتوں میں سے تھا جنہیں جِن کہا جاتا ہے علم و عبادت میں ان سب سے بڑھ کر تھا اور اسکا نام عزازیل تھا (تفسیر سورہ البقرہ آیت 34) اسے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرنے کی پاداش میں فرشتوں سے نکالا گیا تھا اسلئے وہ ہر وقت حسد کی آگ میں جلتا تھا اور تدبیر کرتا کہ کسطرح حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے نکالا جاۓ۔ اس نے سب سے پہلے طاؤس سے دوستی کی اور پھر اسکو اپنی دوستی کا واسطہ دے کر بولا کہ مجھے اپنے بازو پر بٹھا کر بہشت میں پہنچا دو تاکہ میں اپنے دشمن سے بدلہ لے سکوں لیکم طاؤس نے اس بات سے انکار کر دیا ، پھر ابلیس سانپ کے پاس گیا اور اسے اپنے فریب میں پھنسا لیا ، سانپ اسکو اپنے منہ میں لیکر بہشت میں داخل ہوا اور حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوّا علیہ السلام کے پاس گیا اور رونا شروع کر دیا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے اسکو نہیں پہچانا اور پوچھا کہ کیوں روتے ہو؟ وہ بولا مجھے تمہارے حال پر رونا آتا ہے کہ تمہیں بہشت سے نکال کر یہ نعمتیں تم سے چھین لی جائیں گی اور تم ذائقہِ موت چکھو گے۔ اُن دونوں کو اس بات کا غم ہوا۔
    ابلیس نے حضرت آدم علیہ السلام کے دل میں وسوسہ ڈالا اور انہی مخاطب کر کے کہا "ھل ادلک علی شجرۃ الخلد و ملک لا یبلی" ، " بھلا میں تمکو(ایسا) درخت بتاؤں (جو) ہمیشہ کی زندگی کا (ثمر دے) ور ایسی بادشاہت کہ کبھی زائل نہ ہو" (طہٰ: 20/120) ۔ حضرت آدم علیہ السلام نے پوچھا وہ کونسا درخت ہے، شیطان نے کہا کہ وہی درخت جسکے کھانے سے اللہ تعالٰی نے منع کیا تھا۔ اور کہا : " تمکو تمہارے پروردگار نے اس درخت سے صرف اسلئے منع کیا ہے کہ تم فرشتے نہ بن جاؤ یا ہمیشہ جیتے نہ رہو اور ان سے قسم کھا کر کہا کہ میں تو تمہارا خیر خواہ ہوں۔ حضرت آدم علیہ السلام نے اس بات کو قبول نہ کیا اور کہا کہ میں ہر گز اللہ پاک کی نافرمانی نہ کروںگا شیطان نے قسم کھائی کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں " پس (مردود نے) دھوکا دے کر انکو (معصیت کیطرف) کھینچ ہی لیا۔ (الاعراف:) ۔
    سورہ الاعراف میں ہے کہ "شیطان دونوں کو بہکانے لگا تاکہ ان کے ستر کی چیزیں جو ان سے پوشیدہ تھیں کھول دے، اور کہنے لگا کہ تمکو تمہارے پروردگار نے اس درخت سے صرف اس لئے منع کیا ہے کہ تم فرشتے نہ بن جاؤ یا ہمیشہ جیتے نہ رہو" (الاعراف: 7/20)
    پھر شیطان نے حضرت حوّا کے دل میں وسوسہ ڈالا اور سانپ سے بھی گواہی دلوائی تو حضرت حوّا علیہ السلام نے حضرت آدم علیہ السلام کو کہا کہ سانپ بہشت کا خادم ہے اور وہ اس شخص (یعنی شیطان) کی گواہی دے رہا ہے اب تو میں وہ پھل کھاؤں گی اگر کچھ خلل ہوا تو اللہ پاک سے میرے لئے معافی مانگنا نہیں تو تمام عمر نعمتیں چن کر کھایا کرنا۔
    جب انہوں نے اس درخت کے پھل کو کھا لیا تو انکے ستر کی چیزیں کھل گئیں اور وہ بہشت کے ( درختوں کے) پتے (توڑ توڑ کر) اپنے اوپر چپکانے (اور ستر چھپانے) لگے" (طٰہٰ 121)
    اس ممنوعہ درخت کا پھل حضرت آدم علیہ السلام سے پہلے حوّاؑ نے کھایا ، ممکن ہے یہ حدیث اسی طرف اشارہ کرتی ہو نبی پاکﷺ نے فرمایا " اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت کبھی خراب نہ ہوتا اور اگر حوا نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے خاوند کی خیانت نہ کرتی" ( صحیح البخاری،باب خلق آدم و ذریتہ، حدیث 3330)
    اس نافرمانی کی سزا می انہیں جنت سے نکال دیا گیا سورہ الاعراف کی آیت 24 میں بیان ہے
    " اھبطوا بعضکم لبعض عدو ، ولکم فی الارض مستقر ومتاع الی حین" ، (تم سب بہشت سے) اتر جاؤ (اب سے) تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لئے ایک (خاص) وقت تک زمین پر ٹھکانہ اور (زندگی کا) سامان کر دیا گیا ہے"

    حضرت آدم علیہ السلام نے کہاں بو باش اختیار کی اس بارے میں مختلف روایات ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان "وحنا" نامی مقام پر اتارا گیا حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت آدم علیہ السلام کوہند میں، حضرت حوا کو جدہ میں، ابلیس کو وستمیان(بصرہ کے قریب) اور سانپ کو اصفہان میں اتارا گیا، ایک اور روایت کے مطاق حضرت آدم علیہ السلام کو صفا اور حوا کو مروہ پہاڑی پر اتارا گیا۔ اسلئے کسی ایک مقام کے بارے میں وثوق سے نہیں کہا جا سکتا
    ۔ ایک روز حضرت جبریل علیہ السلام لوہے کہ سات ٹکڑے لےکر انکے پاس آۓ تاکہ انکو آہن گری سکھلا دیں اسکے لئے آگ کی حاجت ہوئی آواز آئی آگ دوزخ سے مانگ لے۔ انہوں نے آگ لو کر حضرت آدم علیہ السلام کو دی تپش سے انکا ہاتھ جلا تو انہوں نے زمیں پر ڈال دی وہ آگ سات طبق زمین میں چھید کر کے پھر دوزخ میں چلی گئی ایسا سات بار ہوا کہ آگ لاۓ مگر پھر دوزخ میں جا داخل ہوئی آواز آئی اے جبرائیل سات دریا رحمت سے دھو کر اسے لاؤ تب ٹھہرے گی لیکن جبرایلؑ آگ لانے میں عاجز رہے تب اللہ پاک کے حکم سے انہوں نے پتھر سے چقمقاق چھاڑ کر آگ نکالی اور حضرت آدم علیہ السلام کو آہن گری سکھائی
    روایت ہے کہ جب اللہ پاک نے حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے زمین پر اتارا تو ان کو ہر چیز بنانا سکھایا اور جنت سے کچھ پھل عطا فرماۓ ۔ یہ زمینی پھل جنت کے پھلوں میں سے ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ ان میں تبدیلی آتی ہے یعنی خراب ہو جاتے ہیں اور جنت کے پھل خراب نہیں ہوتے (بحوالہ: المستدرک للحاکم ، حدیث 3996)
    اور پھر انہیں کھیتی کے لئے تمام آلات درست کر کے دئیے جبرائیلؑ نے انکو ایک جوڑا بیل کا بہشت سے لا کر دیا اور کہا کہ اپنے ہاتھ سے اپنی غذا حاصل کر پھر انہیں بہشت سے گندم کا دانہ لا دیا۔
    حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا میں اسکا کیا کروں۔ جبرائیلؑ نے فرمایا: اسے زمین میں بو دے۔ پس حضرت آدم علیہ السلام نے وہ وہ دانہ زمین پر چھڑک دیا اور ہل جوتا جب کج بیل چلنے لگا تو حضرت آدم علیہ السلام کو اس پر غصہ آیا اور انہوں نے اسکو ایک لکڑی ماری، جبرائیلؑ نے کہا کہ اگر تم بیل پر سختی کرو گے تو درست نہ ہو گا تم اپنے کام میں مصروف رہو۔
    جب فصل پک کر تیار ہوئی تو حضرت آدم علیہ السلام نے اسے مل کر صاف کر کے کھانا چاہا تب جبرائیلؑ نے فرمایا کہ اول اسے پیس، پھر پانی کےساتھ خمیر کر کے آگ میں سینک پھر کھا اور حضرت حوا نے جبرائیلؑ سے سیکھ کر روٹی بنا کر حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے رکھی جب وہ کھانے لگے تو جبرائیلؑ نے کہا کہ تامل کیجئے آپ روزہ دار ہیں ، جب شام ہوئی تو ان دونوں نے کھانا کھایا دوسرے روز جب بھوک لگی تو حضرت آدم علیہ السلام نے دیکھا کہ ان کے سینے پر ایک سیاہ خال نمودار ہوا جو بڑا ہوتا گیا وہ ڈرے کہ کہیں یہ میرے لئے ایک اور ذلت تو نہیں ۔ جبرائیلؑ نے فرمایا اے آدم روزہ رکھ کہ تیرے بدن کی سیاہی مٹ جاۓ ، حضرت آدم علیہ السلام نے ایسا ہی کیا اگلے دن پھر فرمایا کہ روزہ رکھو تاکہ اللہ پاک تمکو شفاۓ کاملہ بخشے ۔ ان روزوں کا نام ایامِ بیض ہے اور یہ حضرت آدم علیہ السلام پر ہر مہینے کی تیرھویں، چودھویں اور پندرہویں کو فرض کئے تھے اور اس زمانے سے لیکر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے تک اس پر عمل تھا۔
    غرض اس ساری محنت و مشقت کے بعد انکو کھانا ملا ۔ اللہ تعالٰی نے جب انکو جنت اور راحت و سکون والی جگہ سے نکال کر مشقت اور محنت والی زندگی مہیا کی تو انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ اللہ پاک کی طرف متوجہ ہوۓ اسکا ذکر قرآن پاک کی سورۃ الاعراف کی آیت 23 میں کیا گیا ہے۔
    " دونوں عرض کرنے لگے کہ پروردگار! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کریگا تو ہم تباہ ہو جائیں گے"
    ان الفاظ میں اپنی غلطی کا اعتراف ہے، اللہ پاک کیطرف توجہ ہے۔ اسکے سامنے عجزونیاز اور تذلل کا اظہار ہے، اور اس مشکل گھڑی میں اللہ پاک کیطرف محتاجی کا اقرار ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے جس شخص کو یہ راز سمجھ آ گیا اسکی دنیا بھی سنور جاۓ گی اور آخرت بھی۔

    جاری ہے،اولادِ آدم علیہ السلام اور قصہ ہابیل و قابیل انشاء اللہ کل۔۔۔۔

    بحوالہ قصص الانبیاء


    [​IMG] [​IMG] [​IMG] [​IMG]






     

Share This Page