1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

راستہ کے حقوق

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, Nov 29, 2016.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management

    [​IMG]
    راستہ کے حقوق



    بازاروں اور راستوں میں بے ضرورت بیٹھنا اور لایعنی گفتگوں میں مصروف رہنا منع ہے اس سے وقت جیسی گراں قدر نعمت ضائع ورائیگا ں ہوتی ہے جب کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وقت کو غنیمت جاننے او راس کی قدر کرنے کاحکم فرمایا ہے مشکوٰۃالمصابیح ص 441 میں حدیث پاک ہے عن عمرو بن میمون الاودی قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لرجل وہو یعظ اغتنم خمسا قبل خمس شبابک قبل ہرمک وصحتک قبل سقمک وغناک قبل فقرک وفراغک قبل شغلک وحیوتک قبل موتک رواہ الترمذی مرسلاً ۔
    ترجمہ: حضرت عمرو بن میمون اودی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت رسول اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :تم پانچ چیزوں کوپانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو! اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے ،تندرستی کو بیماری سے پہلے، تونگری کو محتاجی سے پہلے ، فرصت کو مصروفیت سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے ۔(مشکوۃ المصابیح کتاب الرقاق الفصل الثانی ص 441۔زجاجۃ المصابیح ج4 کتاب الرقاق ص148/149)
    اس عدیم الفرصتی کے دور میں مسلم نوجوانوں کو چاہئے کہ اپنے اوقات کی قدر کریں، اس کو کارخیر میں صرف کریں اور ضائع نہ ہونے دیں ۔ اگر تجارت وکاروبار کیلئےیا کسی ضرورت کے سبب بازار میں بیٹھنا ناگزیر ہو تو شریعت مطہرہ میں اس کی اجازت ہے، البتہ اس کے حقوق وحدود کا لحاظ رکھیں ، حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے راستہ کے حقوق بیان فرمائے ہیں چنانچہ زجاجۃ المصابیح ج 4 ص 7 میں حدیث شریف ہے عن ابی سعید الخدری عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال ایاک والجلوس بالطرقات فقالوا یارسول اللہ مالنا من مجالسنا بدنتحدث فیہا قال فاذا ابیتم الاالمجلس فاعطوا الطریق حقہ قالوا وماحق الطریق یارسول اللہ! قال غض البصروکف الاذی وردالسلام والامر بالمعروف والنھی عن المنکر متفق علیہ۔
    ترجمہ: سید نا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا: تم راستوں میں بیٹھنے سے بچو تو صحابہ کرام نے عرض کیا : یارسول صلی اللہ علیہ وسلم !(بسااوقات )ہمار ے لئے بیٹھنے کے سواکوئی چارہ نہیں رہتا ہم اس میں بات چیت کرتے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم کو بیٹھنا ہی ہوتو راستہ کاحق ادا کروانہوں نے عرض کیا راستہ کا حق کیا ہے ؟ یارسول اللہ !آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشاد فرمایا نظر نیچی رکھنا تکلیف دہ چیزکو دورکرنا سلام کا جواب دینا ، نیکی کا حکم کرنا او ربرائی سے روکنا ۔اور ایک روایت میں ہے وتغیثواالملہوف وتہدوا الضال
    تم مظلوم کی مدد کرو اور بھٹکے ہوئے کو راستہ بتاؤ (زجاجۃ المصابیح ج4 ص7) راستہ میں اور بازار میں بیٹھنے والے نوجوان مذکور ہ حدیث پاک کو پیش نظر رکھیں راہ گیروں کو تکلیف نہ پہنچائیں راستہ کے حقوق ادا کریں اوراس کے آداب کو ملحوظ رکھیں ۔
    واللہ اعلم بالصواب
    سیدضیاءالدین عفی عنہ ،​


    [​IMG]
     

Share This Page