1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

خواتین کا تعلیم حاصل کرنا

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, Nov 29, 2016.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators


    [​IMG]
    خواتین کا تعلیم حاصل کرنا


    اسلام علم ومعرفت شعوروآگہی کا دین ہے جہالت وناخواندگی کوایک لمحہ کے لئے بھی پسندنہیں کرتا ، سب سے پہلی وحی علم حاصل کرنے کے متعلق نازل ہوئی، ارشادالٰہی ہے: اقرأباسم ربک الذی خلق۔ترجمہ : پڑھئے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ (سورۃ العلق ۔۱)
    انسانی زندگی صرف مرد کے وجود سے مکمل نہیں جب تک کہ اس کے ساتھ عورت شامل نہ ہو، عورت معاشرہ کا ایک اہم جزء ہے ،عائلی ،معاشرتی اور گھریلو تربیتی مسائل خواتین ہی سے وابستہ ہیں اگرصرف مرد کی تعلیم کی طرف توجہ کی جائے اوراس معاملہ میں عورت کونظراندازکردیاجائے تویہ نہ صرف عورت پرظلم ہوگابلکہ معاشرہ کاایک بڑاحصہ ناخواندگی میں مبتلا‘حصول تعلیم سے محروم اور مقاصد تعلیم سے بے بہرہ ہوجائے گا،اس لئے اسلام نے عورت کی تعلیم کو بھی ضروری قراردیاہے ۔ دختران ملت دینی تعلیم اوردنیوی تعلیم ہردومیں حصہ لیکر باکردار خواتین کی حیثیت سے معاشرہ کے ظہر و بطن کی اصلاح کرسکتی ہیں ،خواتین کی اصلاح کرنا، انہیں دینی، تعلیمی، اصلاحی ذمہ داریوں کا احساس دلانا ،بچوں کی تربیت کا شعورپیداکرنا،انہیں تعلیم یافتہ ،باشعور بنانا اور اخلاقی خوبیوں سے آراستہ کرنا اس میں خواتین بھی اہم کردار ادا کرسکتی ہیں پردہ کا مکمل اہتمام کرتے ہوئے اورحدودشرعی میں رہ کرسماجی خدمات بھی انجام دے سکتی ہیں۔
    چنانچہ بخاری شریف میں حدیث پاک ہے :عن الربیع بنت معوذ قالت کنا مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم نسقی الماء و نداوی الجرحی و نرد القتلی الی المدینۃ۔ ترجمہ: حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ ہم حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں پانی پلاتے زخمیوں کی مرہم پٹی کرتے اور شہداء کو مدینہ طیبہ کی جانب لے جاتے۔ (صحیح بخاری شریف ج 1‘ کتاب الجھاد‘ باب مداواۃ النساء الجرحی فی الغزو‘ ص403!404 )۔
    عہد نبوی میں باعظمت صحابیات زخمیوں کی تیمارداری کرتی تھیں‘ معرکوں میں پانی پلاتی تھیں اور مختلف امور انجام دیا کرتی تھیں۔ الحاصل عفت مآب دختران اور پاکدامن خواتین حجاب کو اپناتے ہوئے عصری علوم بھی حاصل کریں اوراندرونی وبیرونی ،معاشی ومعاشرتی،صنعتی فنون سے آراستہ ہوں اوربالواسطہ وبلاواسطہ حسب ضرورت خدمات انجام دیں، اور علم طب کے شعبہ نسوانی امراض میں تخصص حاصل کریں اور اسپیشلسٹ بن جائیں۔ نکاح تعلیم کے حصول کے لئے سد راہ نہیں ہے ، نکاح کے بعد بھی اگر چاہیں تو تعلیم جاری رکھی جاسکتی ہے ، لیکن ہر حال میں والدین کے حکم ماننے ہی میں سعادت مندی اور خوش بختی ہے۔
    کنز العمال میں حدیث پاک ہے: "رضاء الرب فی رضاء الوالدین، وسخطہ فی سخطھما" . ترجمہ: والدین کی رضامندی میں رب تعالیٰ کی رضامندی ہے،اور ان کی ناراضی میں اللہ تعالی کی ناراضی ہے۔ (کنز العمال 45551- )​


    [​IMG]


     

Share This Page