1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

حلت و اباحت کا معیار

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, Nov 29, 2016.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management




    [​IMG] [​IMG] [​IMG] [​IMG]

    حلت و اباحت کا معیار

    حلت و حرمت کا معیار قرآن کریم و حدیث شریف ہے‘ ان کی روشنی میں فقہاء کرام نے ایک اصولی قاعدہ بیان کیا ہے: الاصل فی الاشیاء الاباحۃ‘ چیزوں میں اصل اباحت اور جواز ہے‘ کسی چیز کے جائز کو مباح ہونے کے لئے دلیل کی ضرورت نہیں‘ البتہ کسی چیز کے ناجائز و حرام یا مکروہ ہونے کے لئے دلیل چاہئے۔ قرآن کریم و حدیث شریف میں جن اعمال و افعال کی ممانعت ہے‘ وہ ممنوع ہیں‘ اور جن مشروبات و غذاؤں کی حرمت وارد ہے ‘ وہ حرام ہیں۔ نوپیدا طریقہ ہائے کار‘ مشروبات و اغذیہ‘ مصنوعات وغیرہ کو قرآن و حدیث شریف میں بتلائے گئے اصول کی کسوٹی پر‘ پرکھا جائے گا‘ اصول شریعت کی روشنی میں اگر وہ حرام یا مکروہ قرار پائیں تو حرمت یا کراہت کا حکم لگایا جائے گا اور اگر جائز و مباح معلوم ہوں تو اس کے متعلق جواز و اباحت کا حکم دیا جائے گا۔ فقہاء اسلام نے کتاب و سنت کا عطر فقہ کی شکل میں جمع کیا ہے‘ فی زمانہ پیش آمدہ جدید مسائل کو ان فقہاء کی تصریحات کی روشنی میں دیکھا جائے گا‘ یہ ذمہ داری اُن بے لوث‘ کہنہ مشق علماء کی ہے جو مزاج شریعت سے آشنا, فقہ کے اصول و فروع سے واقف ہوں اور احکام کلیات و جزئیات پر گہری نظر رکھتے ہوں۔ و فقھم اللہ الصواب وھو العزیز الوھاب۔ واللہ اعلم بالصواب

    [​IMG] [​IMG] [​IMG] [​IMG]
     
  2. Rania

    Rania VIP Member

    Nice sharing
     

Share This Page