1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

قرض خواہ کے انتقال پر ورثہ کو قرض کی حوالگی

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, Nov 30, 2016.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management


    [​IMG] [​IMG] [​IMG] [​IMG]
    قرض خواہ کے انتقال پر ورثہ کو قرض کی حوالگی


    دین اسلام نے ضرورت مندوں کی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے قرض کے لین دین کی رخصت واجازت دی ہے ، قرض دینے کی بڑی فضیلتیں اوراس پر اجر و ثواب کی بشارتیں سنائی گئیں ہیں ۔جو شخص قرض حاصل کیا ہے اُسے قرض واپس لوٹانے کی نیت رکھنی چاہئے ‘ اس سے دنیا و آخرت میں الطاف خداوندی حاصل ہوتے ہیں‘ اس سلسلہ میں حدیث شریف وارد ہے: * من اخذ دینا و ھو یریدان یودیہ اعانہ اللہ*۔ ترجمہ: جو شخص قرض حاصل کرے جبکہ اس کو واپس لوٹانے کا ارادہ رکھتا ہوتو اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرماتا ہے۔ (کنز العمال باب فی ترغیب الاقراض‘ حدیث نمبر15432 ) آپ نے قرض واپس دینے کا ارادہ رکھاہے اس نیت پر بھی آپ کو اجر و ثواب ملے گا۔ قرض دار کی ذمہ داری ہے کہ مقررہ مدت پر اپنا قرض ادا کرے‘ چاہے رقم چھوٹی ہو یا بڑی‘ اگر قرض خواہ کا انتقال ہوجائے تو اس کے وارثوں کے حوالہ کردے‘ کیونکہ قرض لیا گیا مال قرض خواہ کی زندگی میں اسکاحق ہے اور انتقال کے بعدورثاء کا حق ہے ۔بنابریں قرض خواہ کے انتقال کے بعد قرض کی رقم ورثہ کے بجائے دوسروں کو دینا شرعاً ناجائز ہے۔ سوال میں ذکر کردہ زن وشوہر کو ان کے گھروالوں نے جو ذہنی و فکری تکلیف دی یا کسی قسم کی اذیت پہنچائی تھی بلاشبہ وہ ظلم اور نا جائزعمل تھا لیکن مصیبت سے دل برداشتہ ہوکر ان کا خودکشی کرنابھی گناہ کبیرہ ہے اور اللہ تعالی کی ناراضگی کا سبب ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ،




    [​IMG] [​IMG] [​IMG] [​IMG]
     
  2. UmerAmer

    UmerAmer VIP Member

    جزاک اللہ خیرا​
     
  3. Ghulam Rasool

    Ghulam Rasool Super Moderators

    v nice sharing dear
     

Share This Page