1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

زندگی میں حصہ کا مطالبہ

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, Nov 30, 2016.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators

    [​IMG] [​IMG] [​IMG] [​IMG]
    زندگی میں حصہ کا مطالبہ


    کسی بھی شخص کا مال واسباب ،مکان وجائیداد اس وقت ترکہ قرار پاتاہے جب وہ شخص انتقال کرجائے ‘اس شخص کی حین حیات کسی وارث کا کوئی شرعی حصہ ثابت نہیں ہوتا‘بنابریں حق وراثت رکھنے والے رشتہ داروں کو بھی مطالبہ کرنے کا شرعاًکوئی اختیار نہیں،جیسا کہ درمختار برحاشيۂ ردالمحتار ج5کتاب الفرائض میں ص535ہے وهل إرث الحي من الحي أم من الميت؟ المعتمد الثاني.شرح وهبانية۔
    جب آپ کی خالہ صاحبہ نے اپنامکان فروخت کرلیا ہے تو وہ فرخت کرنے کی مجاز تھیں‘انہیں اپنی ملکیت میں تصرف کرنے کا اختیار ہے‘اس کی رقم کو وہ جیسا چاہیں استعمال کرسکتی ہیں‘ان کی لڑکیاں اس مکان کی حاصل شدہ قیمت میں شرعاکسی قسم کا کوئی مطالبہ نہیں کرسکتیں،ہاں اگر وہ خوداس رقم کوتقسیم کرنا چاہتی ہیں تواپنے لیے جتنی رقم مناسب سمجھیں رکھ کر بقیہ برابری کے ساتھ بیٹیوں میں تقسیم کریں اور کسی کو ان کی حسن خدمت کی وجہ سے زیادہ بھی دینا چاہیں تو دے سکتی ہیں بشرطیکہ کسی دوسری بیٹی کو ضرر پہنچانے کی نیت نہ ہو ،ورنہ انہیں ان سب کے درمیان برابری کے ساتھ تقسیم کرنا چاہئیے‘جیسا کہ در مختار ج4 کتاب الھبہ ص573 میں فتاوی خانیہ سے منقول ہے لا باس بتفضیل بعض الاولادفی المحبۃ لانھا عمل القلب کذا فی العطایا ان لم یقصد بہ الاضرار وان قصدہ سوی بینہم۔
    واللہ اعلم بالصواب
    سیدضیاءالدین عفی عنہ ،



    [​IMG] [​IMG] [​IMG] [​IMG]
     
  2. UmerAmer

    UmerAmer VIP Member

    جزاک اللہ خیرا​
     
  3. Ghulam Rasool

    Ghulam Rasool Super Moderators

    v nice sharing dear
     

Share This Page